کعبہ کے باھر بی بی کا خطبہ حضرت فاطمه بنت اسد سلام الله علیها

کعبہ کے باھر بی بی کا خطبہ حضرت فاطمه بنت اسد سلام الله علیها

 

ترجمہ

حضرت فاطمہ بنت اسد بیت اللہ الحرام کے سامنے کھڑی ہو گئیں اور غلاف کعبہ کو پکڑ کر آسمان کی طرف چہرہ مبارک کو بلند کر کے کہنا شروع کیا ۔

اے میرے رب میں تیری ذات پر ایمان رکھتی ہوں اور جو کچھ تیری جانب سے رسولؐ اور تیرے انبیاءمیں سے نبی لائے ہیں ان پر ایمان رکھتی ہوں اور جو کوئی بھی کتاب تو نے نازل فرمائی ہے اس پر ایمان رکھتی ہوں ، میں اپنے دادا ابرہیم علیہ السلام خلیل خدا کے کلام کی تصدیق کرتی ہوں جس نے تیرے آزاد عتیق ،،گھر کو بنایا ہے میں تجھ سے اس گھر اور جس نے اسے بنایا ہے اس واسط دے کر اوراس مولود کا واسط دیتی ہوں جو میرے بطن اطہر میں ہے جو مجھ سے باتیں کرتا ہے اور اپنی باتوں سے مجھے انس و محبت عطاء کرتا ہے میرا یہ یقین ہے کہ وہ تیری ذات کی آیات اور دلائل میں سے ایک آیت اور دلیل ہے ، مجھ پر اس مرحلہ ولادت کو آسان فرما

تین دن کے بعد بیت اللہ کا درواز اس جگہ سے کھلا جہاں سے بی بی داخل ھوئی تھیں بی بی اس حالت میں تشریف لائیں کہ مولا علیہ السلام ان کے ھاتھوں پر تھے اور باھر آتے ہی فرمایا

اے لوگو۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنی مخلوق میں سے چن لیا ہے اور مجھ سے پہلے کی چنی ہوئی عورتو ں پر فضیلت دی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے آسیہ بنت مزاحم کو چنا ، اس نے اس جگہ پر چھپ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جس جگہ پر اللہ تعالیٰ سوائے مجبوری و اضطرار کی حالت کے اپنی عبادت کو پسند نہیں فرماتا ۔ مریم بنت عمران کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح چن لیا کہ ان پر عیسیٰ کی ولادت کو آسان فرمایا لیکن انہوں نے جنگل و بیابان میں ایک خشک کھجور کے نیچے عیسیٰؑ کو جنم دیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے تروتازہ کھجوریں گرائیں ۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے ان دونوں پر اور جو بھی تمام عالمین میں مجھ سے پہلے خواتین تھیں ان پر فضیلت عطافرمائی کیونکہ میں نے بیت عتیق خانہ کعبہ میں مولود کو جنم دیا اور تین دن تک وہاں قیام پذیرر ہی میں نے جنت کے پھل اور کھانے کھائے جب میں نے نکلناچاہااور میرے فرزند علی علیہ السلام میرے ہاتھوں پر تھے مجھے ہاتف غائب سے یہ آواز آئی کہ

’’اے فاطمہ ۔ اس کانام علی رکھو کیونکہ میں علی الاعلیٰ ہوں اور اس کو میرا اخلاق سکھاؤ میں نے اس کو اپنا امر تفویض کیا ہے اور میں نے اس کو اپنے علم کے رازوں کے لئے وقف کیا ہے ،اس کو اپنے گھر کے اندر پیدا کیا ہے ، یہی وہ ہے جو سب سے پہلے میرے گھر کے اوپر آذان کہے گا اور بتوں کو توڑ کر نیچے منہ کے بل پھینکے گا ، یہ میری عظمت ، میری بزرگی اور توحید کو بیان کرے گا یہ میرے حبیب ، میرے نبی ، میری مخلوق میں چنے ہوئے میرے رسول محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد امام اور ان کا وصی ہو گا ۔اس شخص کیلئے خوش خبری ہے جواس سے محبت کرے گا اور اس کی مددکرے گا اور اس شخص کیلئے ہلاکت ہے جواس کی نافرمانی کرے گا اور اس کو رسوا کرے گا اور اس کے حق کا انکار کرے گا۔،،

________________________________________

الأمالي (للطوسي)، النص، ص: 708

طوسى، محمد بن الحسن، الأمالي (للطوسي)، 1جلد، دار الثقافة – قم، چاپ: اول، 1414ق

You may also like...