صفات مومن

از دروس حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی (مدظله العالی)

صفات مومن

حدیث :

روی ان رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم قال:یکمل الموٴمن ایمانہ حتی یحتوی علیہ مائة وثلاث خصالٍ:فعل وعمل و نیة وباطن وظاہر فقال امیر المؤمنین علیہ السلام:یا رسول اللهصلی الله علیہ وآلہ وسلم ما المائة وثلاث خصال؟فقال صلی الله علیہ وآلہ وسلم:یا علی من صفات المؤمن ان یکون جوال الفکر،جوہری الذکر،کثیراً علمہ عظیماً حلمہ،جمیل المنازعة ۔۔۔ [1]

ترجمہ :

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا کہ مومن کامل میں ایک سو تین صفتیں ہوتی ہیں اور یہ تمام صفات پانچ حصوں میں تقسیم ہوتی ہیں صفات فعلی،صفات عملی،صفات نیتی اور صفات ظاہری و باطنی۔ اس کے بعد امیر المومنین علیہ السلام نے عرض کیا کہ اے الله کے رسول وہ ایک سو تین صفات کیا ہیں؟حضرت نے فرمایا:”اے علی مومن کے صفات یہ ہیں کہ وہ ہمیشہ فکر کرتا ہے اور علی الاعلان الله کا ذکر کرتا ہے،اس کا علم ،حوصلہ وتحمل زیادہ ہوتا ہے اور دشمن کے ساتھ بھی
اچھا سلوک کرتا ہے “

حدیث کی شرح :

یہ حدیث حقیقت میں اسلامی اخلاق کا ایک مکمل دورہ ہے ،جس کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، حضرت علی علیہ السلام کو خطاب کرتے ہوئے بیان فرمارہے ہیں ۔اس کا خلاصہ پانچ حصوں میں ہوتا ہے جو اس طرح ہیں:فعل،عمل،نیت،ظاہر اور باطن۔

فعل و عمل میں کیا فرق ہے؟

فعل ایک گزرنے والی چیز ہے،جس کو انسان کبھی کبھی انجام دیتا ہے۔ اس کے مقابلے میں عمل ہے جس میں استمرار پایا جاتاہے یعنی جو کام کبھی کبھی انجام دیا جائے وہ فعل کہلاتا ہے اور جو کام مسلسل انجام دیا جائے وہ عمل کہلاتاہے ۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں :

مومن کی پہلی صفت ” جوال الفکر“ ہے

یعنی مومن کی فکر کبھی جامد وراکد نہیں ہوتی وہ ہمیشہ فکر کرتا رہتا ہے اور نئے مقامات پر پہونچتا رہتا ہے۔ وہ تھوڑے سے علم سے قانع نہیں ہوتا ۔یہاں پر حضرت نے مومن کی پہلی صفت فکر کو قراردیا ہے جس سے فکر کی اہمیت واضع ہو جاتی ہے ۔مومن کا سب سے بہترین عمل تفکر ہے۔ اور یہاں پر ایک بات قابل غور ہے اور وہ یہ کہ ابوذرۻ کی بیشتر عبادت تفکر ہی تھی۔اگر ہم کاموں کے نتیجہ کے بارے میں فکر کریں تو ان مشکلات میں مبتلا نہ ہوں جن میں آج گھرے ہوئے ہیں۔

مومن کی دوسری صفت”جوہری الذکر“ہے:

بعض نسخوں میں” جہوری الذکر “بھی آیاہے ۔ہماری نظر میں دونوں ذکر کو ظاہر کرنے کے معنی میں ہے۔ذکر کو ظاہری طور پر انجام دنیا قصد قربت کے منافی نہیں ہے۔ کیونکہ اسلامی احکام میں ذکر جلی اور ذکر خفی دونوں موجودہیں۔صدقہ اور زکوٰة مخفی بھی ہے اور ظاہری بھی،ان میں سے ہرایک کااپنا خاص فائدہ ہے جہاں پر ظاہری ہے وہاں تبلیغ ہے اور جہاں پر مخفی ہے وہ اپنا مخصوص اثر رکھتی ہے ۔

مومن کی تیسری صفت” کثیراً علمہ“ ہے ۔

یعنی مومن کے پاس علم زیاد ہوتا ہے۔حدیث میں ہے کہ ثواب،عقل اور علم کے مطابق ہے۔ یعنی ممکن ہے کہ ایک انسان دو رکعت نماز پڑھے اور اس کے مقابل دوسرا انسان سو رکعت نماز پڑھے مگر ان دو رکعت کا ثواب اس سے زیاد ہو ۔واقعیت بھی یہی ہے کہ عباد ت کے لئے ضریب ہے اور عبادت کی اس ضریب کا نام علم وعقل ہے۔

مومن کی چوتھی صفت”عظیماً حلمہ“ ہے

یعنی مومن کا علم جتنا زیادہ ہوتا ہے اس کا حلم بھی اتنا ہی زیاد ہوتا ہے ۔ایک عالم انسان کو سماج میں مختلف لوگوں سے روبرو ہونا پڑتا ہے اگر اس کے پاس حلم نہیں ہوگا تو مشکلات میں گھر جائے گا ۔مثال کے طور پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے حلم کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے۔گذشتہ اقوام میں قوم لوط سے زیادہ خراب کوئی قوم نہیں ملتی اور ان کا عذاب بھی سب سے دردناک تھا فلما جاء امرنا جعلنا عٰلیہاسافلہا وامطرنا علیہا حجارة من سجیل منضود [2]اس طرح کہ ان کے شہر اوپر نیچے ہوگئے اور بعد میں ان کے او پر پتھروں کی بارش ہوئی۔ان سب کے باوجود جب فرشتے اس قوم پر عذاب نازل کرنے کے لئے آئے تو پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی خدمت میں پہونچے، اور ان کو بیٹے کی پیدائش کی بشارت دی جس سے وہ خوش ہوگئے،بعدمیں قوم لوط کی شفاعت کی ۔<فلما ذہب عن ابراہیم الروع و جاتہ البشریٰ یجادلنا فی قوم لوط ان ابراہیم لحلیم اواة منیب [3]ایسی قوم کی شفاعت کے لئے انسان کو بہت زیادہ حلم کی ضرورت ہے یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بزرگی ،حلم اور ان کے وسیع القلب ہونے کی نشانی ہے۔بس عالم کو چاہئے کہ اپنے حلم کو بڑھائے اور جہاں تک ہو سکے اصلاح کرے نہ یہ کہ اس کو چھوڑ دے۔

مومن کی پانچوین صفت”جمیل المنازعة“ہے

یعنی اگرمومن کو کسی کے کوئی بحث یا بات چیت کرنی ہوتی ہے تو اس کو نرم لب و لہجہ میں انجام دیتا ہے اورجنگ و جدال نہیں کرتا ۔آج ہمارے سماج کی حالت بہت حسا س ہے ،خطرہ ہم سے صرف دو قدم کے فاصلے پر ہے۔ان حالات میں عقل کیا کہتی ہے؟کیا عقل یہ کہتی ہے ہم کسی بھی موضوع کو بہانہ بنا کرجنگ کے ایک جدید محاذ کی بنیاد ڈال دیں،یا یہ کہ یہ وقت آپس میں متحد ہونے اور ایک دوسرے کی مدد کرنے کا وقت ہے؟

جب ہم خبروں پر غور کرتے ہیںتو سنتے ہیں کہ ایک طرف تو تحقیقی وفد عراق میں تحقیق میں مشغول ہے دوسر طرف امریکہ نے اپنے آپ کو حملہ کے لئے تیارکرلیا ہے اور عراق کے چاروں طرف اپنے جال کو پھیلا کر حملہ کی تاریخ معین کردی ہے۔دوسری خبر یہ ہے کہ جنایت کار اسرائیلی حکومت کا ایک ذمہ دار آدمی کہہ رہا ہے کہ ہمیں تین مرکزوں (مکہ ،مدینہ،قم)کو ایٹم بم کے ذریعہ تہس نہس کردینا چاہئے۔کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ یہ بات واقعیت رکھتی ہو؟ایک دیگر خبر یہ ہے کہ امریکیوں کا ارادہ یہ ہے کہ عراق میں داخل ہونے کے بعد وہاں پر، اپنے ایک فوجی افسر کو تعین کریں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ ہم پر مسلط ہو گئے تو کسی بھی گروہ پر رحم نہیں کریں گے اور نہ ہی کسی گروہ کو کوئی حصہ دیںگے۔ایک خبر یہ بھی ہے کہ جب ہمارے یہاںمجلس میں کوئی ٹکراوپیدا ہو جاتا ہے یا اسٹوڈنٹس کا کوئی گروہ جلسہ کرتا ہے تو دشمن کامیڈیا ایسے معاملات کی تشویق کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ یہ سلسلہ جاری رہے۔کیا یہ سب کچھ ہمارے بیدار ہو نے کے لئے کافی نہیں ہے؟کیا آج کا دن <اعتصموا بحبل الله جمیعاً ولا تفرقوا وروز وحد ت ملی نہیں ہے؟عقل کیا کہتی ہے؟اے مصنفوں،مئلفوں،عہدہ داروں،مجلس کے نمائندوں،اور دانشمندوں ! خداکے لئے بیدار ہو جاؤ کیا عقل اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ ہم کسی بھی موضوع کو بہانہ بنا کر جلسہ کریں اور ان کو یونیورسٹی سے لے کر مجلس تک اور دیگر مقامات پر اس طرح پھیلائیں کہ دشمن اس سے غلط فائدہ اٹھائے؟میں چاہتا ہوں کہ اگر کوئی اعتراض بھی ہے تو ا س کو ”جمیل المنازعة“ کی صورت میں بیان کرنا چاہئے کیونکہ یہ مومن کی صفت ہے۔ہمیں چاہئے ک قانون کو اپنا معیار بنائیں او روحدت کے معیاروں کو باقی رکھیں۔

اکثر لوگ متدین ہیں ،جب ماہ رمضان یا محرم آتا ہے تو پورے ملک کا نقشہ ہی بدل جاتا ہے ، اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کو دین سے محبت ہے۔آگے بڑھو اور دین کے نام پر جمع ہو جاؤ اور اس سے فائدہ اٹھاؤ وحدت ایک زبردست طاقت اور سرمایہ ہے ۔

گذشتہ اخلاقی بحث میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث نقل کی جس میں آپ حضرت علی علیہ السلام کو خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ کوئی بھی اس وقت تک مومن نہیں بن سکتا جب تک اس میں ایک سو تین صفات جمع نہ ہوجائیں،یہ صفات پانچ حصوں میں تقسیم ہوتی ہیں ۔پانچ صفات کل کے جلسہ میں بیان ہو چکی ہیں اور دیگر پانچ صفات کی طرف آج اشارہ کرنا ہے ۔

حدیث : ” ۔ ۔ ۔ ۔ ۔کریم المراجعة،اوسع الناس صدراً،اٴذلہم نفساً ،ضحکة تبسماً،واجتماعہ تعلماً ۔ ۔ [4]

ترجمہ :

اس کی مراجعت کریمانہ ہوتی ہے ،اس کا سینہ سب سے زیادہ کشادہ ہوتا ہے ،وہ بہت زیادہ متواضع ہوتا ہے، وہ اونچی آواز میں نہیں ہنستا،اور جب وہ لوگوں کے درمیان ہوتا ہے تو تعلیم و تعلم کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مومن کی چھٹی صفت”کریم المراجعة“ ہے

یعنی وہ کریمانہ اندز میں ملتا جلتا ہے۔ اس میں دو احتمال پائے جاتے ہیں :

  1. جب لوگ اس سے ملنے آتے ہیں تو وہ ان کے ساتھ کریمانہ سلوک کرتاہے۔یعنی وہ جن کاموں کے لے آتے ہیں اگر وہ ان پر قادر ہوتا ہے تو اسی وقت انجام دے دیتا ہے یا یہ کہ ان کو آئندہ انجام دینے کا وعد ہ کرلیتا ہے اور اگر قادر نہیں ہوتا تومعذرت کرلیتا ہے ۔قرآن کہتا ہے کہ قول معروف و مغفرة خیر من صدقة یتبع ہااذی والله غنی الحلیم [5]
  2. یا یہ کہ جب وہ لوگوں سے ملنے جاتا ہے تو اس کا ا نداز کریمانہ ہوتا ہے یعنی اگر کسی سے کوئی چیز چاہتا ہے تو اس کا انداز مادبانہ ہوتا ہے اور اس چیز کو حاصل کرنے کے لئے اصرار کرکے سامنے والے کو شرمند ہ نہیںکرتا۔

مومن کی ساتویں صفت”اوسع الناس صدراً“ ہے

یعنی اس کا سینہ سب سے زیادہ کشادہ ہوتا ہے قرآن کریم سینہ کی کشادگی کے بارے میں فرماتا ہے فمن یرید الله ا ن یہدیہ یشرح صدرہ للاسلام ومن یرد ان یضلہ یجعل صدرہ ضیقاً حرجاً [6]الله جس کی ہدایت کرنا چاہتا ہے (جس کو قابل ہدایت سمجھتا ہے ) اس کے سینے کواسلام قبول کرنے کے لئے کشادہ کردیتا ہے اور جس کو گمراہ کرنا چاہتا ہے (جس کو قابل ہدایت نہیں سمجھتا) اس کے سینے کو تنگ کردتیا ہے ۔

” سینہ کی کشادگی “ کے کیا معنی ہیں؟

جن لوگوں کا سینہ کشادہ ہوتا ہے وہ سب باتوں کو (ناموافق حالات ،مشکلات ،سخت حادثات ۔۔۔۔۔۔۔ )برداشت کرتے ہیں ۔برائی ان میں اثر انداز نہیں ہوتی ،وہ جلدی ناامید نہیں ہوتے ،علم ،حوادث،ومعرفت کو اپنے اندر سما لیتے ہیں۔اگر کوئی ان کے ساتھ برائی کرتا ہے تو وہ اس کو اپنے ذہن کے ایک گوشہ میں رکھ لیتے ہیںاور اس کو اپنے پورے وجود پر حاوی نہیں ہونے دیتے ۔ لیکن جن لوگوںکے سینے تنگ ہیں اگر ان کے سامنے کوئی چھوٹی سی بھی نہ موافق بات ہو جاتی ہے تو ان کا حوصلہ اور تحمل جواب دے جاتا ہے۔

مومن کی آٹھویں صفت”اذلہم نفساً“ ہے

عربی زبان میں ”ذلت“ کے معنی فروتنی اور” ذلول “کے معنی رام ومطیع ہونے کے ہیں۔لیکن اردو میں ذلت کے معنی رسوائی کے ہیں بس یہاں پر یہ صفت فروتنی کے معنی میں ہے۔یعنی مومن میں بہت زیادہ فروتنی پائی جاتی ہے اور وہ لوگوںسے فروتنی کے ساتھ ملتا ہے سب چھوٹوں بڑوں کا احترا م کرتا ہے اور دوسروں سے اپنے احترام کی توقع نہیں رکھتا۔

مومن کی نویں صفت”ضحکہ تبسماً“ ہے۔

یعنی مومن بلند آواز میں نہیں ہنستا۔روا یات میں ملتا ہے کہ پیغمبراسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم کبھی بھی بلند آواز میں نہیں ہنسے ۔بس مومن کا ہنسنا بھی مودبانہ ہوتا ہے ۔

مومن کی دسویں صفت ”اجتماعہ تعلماً“ہے۔ یعنی مومن جب لوگوںکے درمیان بیٹھتا ہے تو کوشش کرتا ہے کہ تعلیم و تعلم میں مشغول رہے۔وہ غیبت اور بیہودہ باتوں سے (جن میں اس کے لئے کوئی فائدہ نہیں ہوتا) پرہیز کرتا ہے۔

اس سے پہلے جلسہ میں پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث بیان کی جس میں آپ نے مومن کے ایک سو تین صفات بیان فرمائے ہیں ان میں سے دس صفات بیان ہو چکے ہیں اور اس وقت چھ صفات اور بیان کرنے ہیں۔

حدیث :

” ۔مذکر الغافل ،معلم الجاہل،لا یوذیومن یوذیہ ولا یخوض فیما لا یعینہ ولا یشمت بمصیبة و لا یذکر احداً بغیبة ۔ ۔ ۔ ۔ “ [7]

ترجمہ :

مومن وہ انسان ہے جو غافلوں کو آگاہ کرتا ہے ،جاہلوں کو تعلیم دیتا ہے ،جو لوگ اسے اذیت پہونچاتے ہیں وہ ان کو اذیت نہیں پہونچاتا،جو چیز اس سے مربوط نہیں ہوتی اس میں دخل نہیں دیتا،اگر اس کو نقصان پہونچانے والا کسی مصیبت میں گرفتار ہو جاتا ہے تو وہ اس کے دکھ سے خوش نہیں ہوتا،غیبت نہیں کرتا۔

حدیث کی شرح :

مومن کی گیارہویں صفت”مذکر الغافل“ہے

یعنی مومن غافل لوگوں کو متوجہ کرتا ہے غافل اسے کہا جاتا ہے جو کسی بات کو جانتا تو ہو مگر اس کی طرف متوجہ نہ ہو جیسے جانتا ہو کہ شراب حرام ہے مگر اس کی طرف متوجہ نہ ہو۔

مومن کی بارہویں صفت”معلم الجاہل “ہے

یعنی مومن جاہلوں کو تعلیم دیتا ہے اور جاہل نا جاننے والے کو کہا جاتاہے ۔

غافل کو متوجہ کرنے ،جاہل کو تعلیم دینے اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر میں کیا فرق ہے؟

ان تینوں واجبوں کوکبھی بھی ایک نہیں سمجھنا چاہئے۔”غافل “اس کو کہتے ہیں جو حکم کو جانتا ہو مگر اس کی طرف متوجہ نہ ہو (موضوع کو بھول گیا ہو)مثلاًجانتا ہو کہ غیبت کرنا گناہ ہے لیکن اس سے غافل ہو کر غیبت میں مشغول ہو جائے ۔

” جاہل“اس کو کہتے ہیں جو حکم کو ہی نہ جانتا ہو اور ہم چاہتے ہیں کہ اسے حکم کے بارے میں بتائیں جیسے وہ یہ ہی نہیں جانتا کہ غیبت حرام ہے۔

” امر بالمعروف ونہی عن المنکر“یہ اس مقام پر ہے جہاں موضوع اور حکم کے بارے میں علم ہو یعنی نہ جاہل ہو اور نہ ہی غافل۔ان سب کا حکم کیا ہے؟

” غافل “یعنی اگر کوئی موضوع سے غافل ہو اور وہ موضوع مہم نہ ہو تو واجب نہیں ہے کہ ہم اس کو متوجہ کریںجیسے نجس چیز کا کھانا لیکن اگر موضوع مہم ہو تو متوجہ کرنا واجب ہے جیسے اگر کوئی کسی بے گناہ انسان کا خون اس کو گناہ گار سمجھتے ہوئے بہا رہار ہو تو اس مقام پر اس کو متوجہ کرنا واجب ہے۔

” جاہل“جو احکام سے جاہل ہو اس کو تعلیم دینا واجب ہے۔

” امر بالمعروف ونہی عن المنکر“اگر کوئی انسان کسی حکم کے بارے میں جانتا ہوو غافل بھی نہ ہو اور پھر بھی گناہ انجام دے تو ہمیں چاہئے کہ نرم لب و لہجہ میں امر ونہی کریں۔

یہ تینوں واجب ہیں مگر تینوں کے دائروں میں فرق پایا جاتا ہے ۔عوام میں جو یہ کہنے کی رسم ہو گئی ہے کہ ”موسیٰ اپنے دین پر اور عیسیٰ اپنے دین پر“یا یہ کہ” مجھے اور تجھے ایک قبر میں نہیں دفنایاجائے گا“بے بنیاد بات ہے۔ہمیں چاہئے کہ آپس میں ایک دوسرے کو متوجہ کریںاور امر بالمعروف اور نہی عن المنکرسے غافل نہ رہیں۔یہ ہمارا ہی کام ہے کسی دوسرے کا نہیں۔روایت میں ملتا ہے کہ سماج میں گناہگار انسان کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی کشتی میں بیٹھ کر اپنے بیٹھنے کی جگہ پر سوراخ کرے اور اب جب اس کے اس کام پر اعتراض کیا جائے تو جواب دے کہ میں تو اپنی جگہ پر سوراخ کررہا ہوںتو ایسے انسان کے جواب میں کہا جاتا ہے کہ اس سوراخ کے نتیجہ ہم سب مشترک ہیں کیونکہ اگر کشتی میں سوراخ ہوگا تو ہم ڈوب جائیں گے ۔روایت میں اس کی دوسری مثال یہ ہے کہ اگر بازار میں ایک دوکان میں آگ لگ جائے اور بازار کے تمام دکاندار اس کو بجھانے کے لئے اقدام کریں تو وہ دوکاندار ان سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ تمھیں کیا مطلب یہ میری اپنی دکان ہے،کیونکہ اس کو فورا جواب ملے گا کہ ہماری دکانیں بھی اسی بازار میں ہیں ممکن ہے کہ آگ ہماری دکان تک بھی پہونچ جائے۔یہ دونوںمثالیںامر بالمعروف ونہی عن المنکر کے فلسفہ کی صحیح تعبیر ہیں۔اور اس بات کی دلیل کہ یہ ہم سب کا فریضہ ہے یہ ہے کہ سماج میں ہم سب کی سرنوشت مشترک ہے ۔

مومن کی تیرہویں صفت”لا یوذی من یوذیہ“ہے

یعنی جو اس کو اذیت دیتے ہیں وہ ان کو اذیت نہیں پہونچاتا،دینی مفاہیم میں دو مفہوم پائے جاتے ہیں جو آپس میں ایک دوسرے سے جدا ہیں :

  1. عدالت :

عدالت کے معنی یہ ہیں کہ”من اعتدیٰ علیکم فاعتدوا علیہ بمثل ما اعتدیٰ علیکم“یعنی تم پر جتنا ظلم کیا گیا ہے تم اس سے اسی مقدار میں تلافی کرو۔

  1. فضیلت:

یہ عدل سے الگ ایک چیز ہے جو واقعیت میں معافی ہے ۔یعنی برائی کے بدلے بھلائی ،اور یہ ایک بہترین صفت ہے جس کے بارے میں پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ”یعطی من حرمہ ویعفوا عن من ظلمہ یصل من قطعہ“جو اس سے کسی چیز کے دینے میں دریغ کرتا ہے اسکو عطا کرتا ہے ،جو اس پر ظلم کرتا ہے اسے معاف کرتا ہے ،جو اس سے قطع تعلق کرتا ہے اس سے رابطہ قائم کرتا ہے ۔یعنی جو مومن کامل ہے وہ عدالت کو نہیں بلکہ فضلیت کو اختیار کرتا ہے۔

مومن کی چودہویں صفت”ولا یخوض فیما لا یعنیہ“ ہے

یعنی مومن واقعی اس چیز میں دخالت نہیں کرتا جو اس سے مربوط نہ ہو”ما لا یعنیہ“ ”مالا یقصدہ“ کے معنی میں ہے یعنی وہ چیز آپ سے مربوط نہیں ہے۔ایک اہم مشکل یہ ہے کہ لوگ ان کاموں میں دخالت کرتے ہیں جو ان سے مربوط نہیں ہے حکومتی سطح پر بھی ایسا ہی ہوتا ہے کچھ حکومتیں دوسرے کے معاملات میں دخالت کرتی ہیں۔

مومن کی پندرہوی صفت”ولا یشمت بمصیبة“ہے

یعنی زند گی میں اچھے اور برے سبھی طرح کے دن آتے ہیں ۔مومن کسی کو پریشانی میں گھرا دیکھ کر اس کو شماتت نہیں کرتا یعنی یہ نہیںکہتا کہ ”دیکھا الله نے تجھے کس طرح موصیبت میں پھنسایا میں پہلے ہی نہیں کہتا تھا کہ ایسا مت کر“کیونکہ باتیں جہاں انسا نی شجاعت کے خلاف ہیں وہیں زخم پر نمک چھڑکنے کے متردف بھی۔اگرچہ ممکن ہے کہ وہ مصیبت اس کے ان برے اعمال کا نتیجہ ہی ہوںجو اس نے انجام دئے ہیں لیکن پھر بھی شماتت نہیں کرنی چاہئے کیونکہ ہر انسان کی زندگی میں سخت دن آتے ہیں کیا پتہ آپ خودہی کل مصیبت میں گرفتار ہو جائیں۔

مومن کی سولہویں صفت”ولا یذکر احداً بغیبة“ہے یعنی وہ کسی کا ذکر بھی غیبت کے ساتھ نہیں کرتا ہے ۔غیبت کی اہمیت کے بارے میں اتناہی کافی ہے کہ مرحوم شیخ مکاسب میں فرماتے ہیںکہ اگر غیبت کرنے والا توبہ نہ کرے تو دوزخ میں جانے والا پہلا نفر وہی ہوگااور اگر توبہ کرلے اور توبہ قبول ہو جائے تب بھی سب سے آخر میںجنت میں واردہوگا۔غیبت مسلمان کی آبروریزی کرتی ہے اور انسان کی آبرواس کے خون کی طرح محترم ہے او رکبھی کبھی آبرو خون سے بھی زیادہ اہم ہوتی ہے ۔

گذشتہ جلسوں میں پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث بیان کی جو آپ نے حضرت علی علیہ السلام سے خطاب فرمائی تھی اس حدیث میں مومن کے ایک سو تین صفات بیان فرمائے گئے ہیں جن میں سے بائیس صفات بیان ہو چکے ہیں اور آج اس جلسہ میں ہم چار صفات اور بیان کریں گے۔

حدیث :

” احلی من الشہد واصلد من الصلد ،لا یکشف سراً ولا یحتک ستراً ۔ ۔ ۔ [8]

مومن شہد سے زیادہ شرین اور پتھر سے زیادہ سخت ہوتا ہے ،جو لوگ اس کو اپنے راز بتا دیتے ہیں وہ ان کو آشکار نہیں کرتااور اگر خود سے کسی کے راز کو جان لیتا ہے تو اسے بھی ظاہر نہیں کرتا۔

حدیث کی تشریح :

مومن کی تیئیسویں صفت”احلی من الشہد“ہے۔

مومن شہد سے زیادہ شرین ہوتا ہے یعنی دوسروں کے ساتھ اس کا سلوک بہت اچھا ہوتا ہے ۔ائمہ معصومین اور خاصطور پر حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں مشہور ہے کہ آپ کی نشست اور ملاقاتیںبہت شرین ہوا کرتی تھیں۔آپ اہل مزاح اور ظریف باتیں کرنے والے تھے۔ کچھ لوگوں کا خیال یہ ہے کہ انسان جتنا زیادہ مقدس ہو، اسے اتناہی زیادہ ترشرو ہو نا چاہئے ۔جبکہ واقعیت یہ ہے کہ انسان کی سماجی،سیاسی،تہذیبی ودیگر پہلوؤں میںترقی کے لئے جو چیز سب سے زیادہ موثر ہے وہ اس کا نیک سلوک ہی ہے ۔کبھی کبھی سخت سے سخت اور مشکل سے مشکل کام کو بھی نیک سلوک ،محبت بھری باتوں اور خندہ پیشانی کے ذریعہ حل کیا جا سکتا ہے ۔نیک سلوک کے ذریعہ جہاں عقدوں کو حل اور کدورت کو پاک کیا جا سکتا ہے وہیں غصہ کی آگ کو ٹھنڈا کرکے آپسی تنازع کو بھی ختم کیا جاسکتا ہے ۔

پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”اکثر ما تلج بہ امتی الجنة تقویٰ الله وحسن الخلق“ [9] میر امت کے زیادہ تر افراد اچھے اخلاق اور تقویٰ کے ذریعہ جنت میں جائیں گے ۔

مومن کی چوبیسویں صفت”اصلد من الصلد“ہے

یعنی مومن پتھر سے زیادہ سخت ہوتا ہے ۔کچھ لوگ احلیٰ من الشہد کی منزل میں حد سے بڑھ گئے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ خوش اخلاق ہونے کا مطلب یہ ہے کہ انسان دشمن کے مقابلہ میں بھی سختی نہ برتے۔لیکن پیغمبراکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ مومن شہد سے زیاد شرین تو ہوتا ہے لیکن سست نہیں ہوتا،وہ دشمن کے مقابلہ میں پہاڑ سے زیادہ سخت ہوتاہے ۔روایت میں ملتا ہے کہ مومن دوستوں کے درمیان ”رحماء بینہم “ اور دشمن کے مقابل اشداء علی الکفار ہوتا ہے ۔مومن لوہے سے بھی زیادہ سخت ہوتا ہے (اشد من زبر الحدیدو اشد من الجبل)چونکہ لوہے اور پہاڑ کو تراشا جا سکتاہے لیکن مومن کو تراشا نہیں جاسکتا۔جس طرح حضرت علی علیہ السلام تھے ۔لیکن ایک گروہ نے یہ بہانہ بنایاکہ کیونکہ وہ شوخ مذاج ہیں اس لئے خلیفہ نہیں بن سکتے ۔جبکہ وہ مضبوط اور سخت تھے۔جہاں پر حالات اجازت دیں انسان کو خشک اور سخت نہیں ہونا چاہئے کیونکہ جو دنیامیں سختی کرتا ہے الله اس پر آخرت میں سختی کرے گا۔

مومن کی پچیسویں صفت”لا یکشف سراً“ہے

یعنی مومن رازوں کو فاش نہیں کرتا۔رازوں کو فاش کرنے کے کیا معنی ہیں؟

ہر انسان کی خصوصی زندگی میں کچھ راز پائے جاتے ہیںجن کے بارے میں وہ یہ چاہتا ہے کہ یہ کھلنے نہ پائیں کیونکہ اگر وہ راز کھل جائیں گے تو اس کو بہت سی مشکلوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔اگر کوئی انسان اپنے زار کو کسی دوسرے سے بیان کردے اور کہے کہ ”المجالس اماناة“یعنی یہ باتیں جو یہاں پر ہوئی ہیں آپ کے پاس امانت ہے تو یہ راز ہے۔ اور اس کو کسی دوسرے کے سامنے بیان نہیںکرنا چاہئے۔روایت میں تو یہاں تک ملتا ہے کہ اگرکوئی آپ سے بات کرتے ہوئے ادھر ادھر اس وجہ سے دیکھتا رہے کہ کوئی دوسرا نہ سن لے تو یہ راز کی مثل ہے چاہے وہ یہ نہ کہے کہ یہ راز ہے ۔مومن کاراز مومن کے خون کی طرح محترم ہے، لہٰذا کسی مومن کے راز کو ظاہر نہیں کرنا چاہئے۔

مومن کی چھبیسویں صفت”لا یہتک ستراً“ہے

یعنی مومن رازوںکو فاش نہیںکرتا۔ہتک ستر (رازوں کو فاش کرنا )کہاں پر استعمال ہوتا ہے اس کی وضاحت اس طرح کی جاسکتی ہے اگر کوئی انسان اپنا راز مجھ سے نہ کہے بلکہ میں خود کسی طرح اس کے راز کے بارے میں پتہ لگا لوں تو یہ ہتک ستر ہے۔لہٰذا ایسے راز کو فاش نہیں کرنا چاہئے کیونکہ ہتک ستر اور اس کا ظاہر کرنا غیبت کی ایک قسم ہے۔ آج کل ایسے رازوں کو فاش کرنا ایک معمول سا بن گیا ہے لیکن ہم کو اس سے ہوشیار رہنا چاہئے۔ اگر وہ راز دوسروں کے لئے نقصاندہ نہ ہو اور خود اس کی ذات سے ہی وابستہ ہو تو اس کو ظاہر نہیں کرنا چاہئے۔لیکن اگر کسی نے نظام ،سماج،ناموس،جوانوں اور لوگوںکے ایمان کے لئے خطرہ پیداکردیا ہے تو اس راز کو ظاہر کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے ۔جس طرح غیبت ،کہ اگر مومن کے راز کی حفاظت سے اہم ہو تو بلامانع ہے، اسی طرح ہتک ستر میں بھی اہم اور مہم کا لحاظ ضروری ہے ۔الله ہم سب کو عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

——————————————–

حوالاجات

[1]بحار الانوار ،ج/ ۶۴ باب علامات المومن،حدیث/ ۴۵ ،ص/ ۳۱۰ .

[2]سورہٴ ہود:آیہ/ ۸۲ .

[3]سورہٴ ہود:آیہ/ ۷۴ و ۷۵

[4]بحارالانوار،ج/ ۶۴ ص/ ۳۱۰ .

[5]سورہٴ بقرة:آیہ/ ۲۶۳ .

[6]سورہٴ انعام:آیہ/ ۱۲۵

[7]بحارالانوار،ج/ ۶۴ص/ ۳۱۰

[8]بحارالانوار:ج/ ۶۴ ص/ ۳۱۰ ….

[9]بحار الانوار:ج/ ۶۸ باب حسن الخلق ،ص/ ۳۷۵

 

You may also like...