رسول (ص) کا سچا عاشق، اسلام کا محسن اعظم اور “پدر کل ایمان “- ابوطالب (ع)

السلام آج مسلم دنیا رحمت دو عالم کی ظہور کا دن منا رہی ہے .اچانک مرے کم فہم ذھن میں رسول دو جہاں ص کی اولین زندگی و حیات گھومنے لگی .

ہم بچپن میں پڑھا کرتے تھے .رسول ص یتیم پیدا ہوے ،دادا عبد المطلب ع نے پرورش کی اس کے بعد چچا “ابوطالب ع ” اس نام پے اکر میں اچانک روک گی .

یہ حقیقت تسلیم سب کو کرنی پڑتی ہے کہ “ابوطالب ع ” وہ ذات کا نام ہے “جس کو یہ شرف حاصل ہے کہ “وہ حبیب خدا ” کا “محسن”، “پرورش ” کرنے والا ہے …..

“اسی کے” ہاتھوں ذات واحد نے “رحمت دو عالم ص ” کو پروان چرانا تھا .

وہ “محمد ” جس کے نام کو بھی خدا واحد نے پردوں کے پیچھے چپھا کر رکھا ..

تو کیوں نہ ایسی ذاتوں کو چنا جائے جو عالم میں خود ایک عالی ذات ہوں ..

اس خدا کی محبت “مصطفیٰ ص جان رحمت ” کے لئے کوئی عام نہ تھی جو وہ کوئی عام ذاتوں کے ہاتھوں میں اپنی محبوب ص کو دیتا .

ایک طرف ذات پیمبر ص تو دوسری طرف “کل ایمان ” کا پدر ……..

کیا وجہہ تھی جب میں نے اس مقالے کو رقم قرطاس کیا ؟ تحقیق کی تو اک واقعے کو پڑھ کر جو کچھ ایسا تھا ..

ايک روز رسول اللہ (ص) گھر سے نکلے تو واپس نہيں ائے. حضرت ابوطالب فکرمند ہوئے کہ مشرکين قريش نے کہيں آپ (ص) کو قتل ہي نہ کيا ہو؛ چنانچہ انہوں نے ہاشم اور عبدالمطلب کے فرزندوں کو اکٹھا کيا اور ان سب کو حکم ديا کہ : تيزدھار ہتھيار اپنے لباس ميں چھپا کر رکھو؛ مل کر مسجدالحرام ميں داخل ہوجاؤ اور تم ميں سے ہر مسلح ہاشمی شخص قريش کے کسي سردار کے قريب بيٹھ جائے اور جب ميں تم سے تقاضا کروں تو اٹھو اور قريش کے سرداروں کو موت کی گھاٹ اتارو

ہاشميوں نے حضرت ابوطالب کے حکم کی تعميل کی اور سب کے سب مسلح ہوکر مسجدالحرام ميں داخل ہوکر قريش کے سرداروں کے قريب بيٹھ گئے مگر اسی وقت زيد بن حارثہ نے ان کو خبر دی کہ حضرت محمد ص کو کوئي گزند نہيں پہنچی ہے اور بلکہ آپ (ص) مسلمان کے گھر ميں تبليغ اسلام ميں مصروف ہيں چنانچہ منصوبے پر عملدرآمد رک گيا مگر مؤمن قريش ہاشمی شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مشرکين قريش کو رسول اللہ (ص) کے خلاف کسی بھی معاندانہ اقدام سے باز رکھنے کی غرض سے اٹھ کھڑے ہوئے اور فرمايا: ميرا بھتيجا گھر سے نکلا اور گھر واپس نہيں آيا تو مجھے انديشہ لاحق ہوا کہ کہيں تم نے اس کو کوئی نقصان نہ پہنچايا ہو چنانچہ ميں نے تمہيں قتل کرنے کا منصوبہ بنايا. پھر انہوں نے ہاشمی نوجوانوں کو حکم ديا کہ اپنے ہتھيار انہيں دکھا ديں. قريش کے سرداروں نے کانپتے ہوئے کہا: اے اباطالب! کيا تم واقعی ہميں قتل کرنے کا ارادہ لے کر آئے تھے؟ فرمايا: اگر رسول اللہ کو تمہاري جانب سے کوئي نقصان پہنچا ہوتا تو ميں تم ميں سے ايک فرد کو بھی زندہ نہ چھوڑتا اور آخری سانس تک تمہارے خلاف لڑتا.

(طرائف، ص 85 و طبقات كبري، ابن سعد، ج 1، ص 302.303.)

اس کی ایک ایک سطر پڑھ کر “ابوطالب ع ” کے “ایمان ” کی تو میں بات کر ہی نہیں سکتی ، بلکے جس چیز نے مجھے مجبور کیا کے آج میں اس تحریر کو لکھوں اور اس کو پڑھتے ہوے میرے آنسوؤں کی جھڑی آنکھوں سے نکلی وہ صرف و صرف

“ابو طالب ع کی وہ محبت و عشق تھا اپنے اس رسول ص سے ” جنہوں نے اپنی حیات اسی میں پوری کر دی ” ننے بھتیجے کو پال کر اور جواں کر کے “

وہ بھتیجا جب بچا تھا تب بھی “ابوطالب ع کے لئے “رسول ص ” تھا جب جواں ہویا تب بھی” رسول ص ” تھا ..مجھے اسلام کا بچپن اور جوانی ابوطالب (ع) کی گود میں بہلتا نظر آیا۔۔

اس کے بدلے “ابو طالب ع ” جیسے ” محسن اعظم ” کو “کافر” جسے القابات دے جاتے ہیں ؟

جن کے خود کے ابا و اجداد یا خود کی زندگانی کفر سے لبریز تھیں ؟؟

یہ کیسا انصاف ہے میں اکثر اپنے سے پوچھتی ہوں کہ تاریخ میں اس جیسی عظیم ہستی کی شخصیت کو،اس کے ایمان مسخ کر کے رکھ دیا ؟

جن کے لئے امام باقر(ع) نے فرمايا: “اگر ايمان ابوطالب (ع) ترازو کے ايک پلڑے ميں رکها جائے اور ان سب لوگوں کا ايمان دوسرے پلڑے ميں تو ابوطالب (ع) کا ايمان ان سب پر بهاری نظر آئے گا”.

“ابان بن محمود” نامی شخص نے امام رضا عليہ السلام کو خط ميں لکها کہ “ميں آپ پر قربان جاؤں! ميں ابوطالب کے ايمان کے سلسلے ميں شک و ترديد ميں مبتلا ہوا ہوں”.

امام عليہ السلام نے جواب ميں تحرير فرمايا: ” وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءتْ مَصِيرًا

جو شخص حق ظاہر و آشکار ہونے کے بعد پيغمبر (ص) کی مخالفت کرے اور مؤمنوں کی راہ کے سوا کسي دوسرے راستے کی پيروی کرے ہم اسے اسی راستے پر لے چليں گے جس پر کہ وہ گامزن ہے اور اسے جہنم ميں داخل کرديں گے اور جہنم بہت ہی بری جگہ ہے”اما بعد جان لو کہ اگر تم ايمان ابوطالب کا يقين نہيں کروگے تو تم بھی آگ کی طرف لوٹا دئيے جاؤگے.

(نسإ، 115.,الغدير، ج 7، ص 36.)

امام سجاد (ع) نے حضرت ابوطالب عليہ السلام کے ايمان کے بارے ميں شک کرنيے والے افراد کے جواب ميں فرمايا: عجب ہے کہ خدا اور اس کے رسول (ص) نے غير مسلم مرد کے ساتھ مسلم خاتون کا نکاح ممنوع قرار ديا جبکہ حضرت فاطمہ بنت اسد سلام اللہ عليہا – جو سابقين مسلمين ميں سے ہيں – حضرت ابوطالب عليہ السلام کے انتقال تک ان کے عقد ميں رہيں”.

تاریخ کے اوراق ابوطالب ع کی حب رسول ع سے بھرے پڑے ہیں پر دل کرتا ہے یہ جملہ لکھتی چلوں کہ منافقین کی آنکھوں پے بغض “بوتراب ع ” کی کالی عمیق پٹی پڑی ہویی ہے .

مورخين نے عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے نقل کيا ہے کہ: ابوطالب رسول خدا (ص) کو بہت دوست رکھتے تھے اور اپنے بيٹوں پر بھی اتنی مہربانی روا نہيں رکھتے تھے جتنی کہ وہ رسول اللہ (ص) پر روا رکھتے تھے؛ ابوطالب (ع) رسول اللہ (ص) کے ساتھ سويا کرتے تھے اور گھر سے باہر نکلتے وقت آپ (ص) کو ساتھ لے کر جاتے تھے؛ مشرکين نے ابوطالب عليہ السلام کے انتقال کے ساتھ ہی پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کو آزار و اذيت پہنچانے کا وہ سلسلہ شروع کيا جو حيات ابوطالب (ع) ميں ان کے لئے ممکن نہ تھا؛ چنانچہ رسول اللہ (ص) نے خود بھي اس امر کي طرف بار بار اشارہ فرمايا ہے.

(تاريخ طبری ،ج 2، ص 229)

انہوں نے عصر جاہليت ميں ايسی نيک روايات کي بنياد رکھی جن کو کلام وحی کي تأئيد حاصل ہوئی.

(ينابيع المودة، قندوزی حنفی، ج2، ص 10.)

حضرت ابوطالب عليہ السلام «قسامہ» کے بانی ہيں جو اسلام کے عدالتی نظام ميں مورد قبول واقع ہؤا.

(صحيح بخاری، ج 3، ص 196.)

جب آيت «وانذر عشيرتك الاقربين» نازل ہوئی اور رسول اللہ ص نے اپنے رشتہ داروں کو بلا کر انہيں اپنے دين کی دعوت دی تو ان کي مخالفت کے برعکس حضرت ابوطالب نے کہا: «يا رسول اللہ (ص)! آپ کي مدد اور نصرت ہمارے لئے بہت ہی زيادہ محبوب اور مقبول و پسنديدہ ہے؛ ميں آپ کی خيرخواہی کي طرف متوجہ ہوں اور آپ کی مکمل طور پر تصديق کرتا ہوں؛ جائيں اور اپنی مأموريت اور الہی فريضہ سرانجام ديں؛ خدا کی قسم ميں آپ کی حفاظت کرتا رہوں گا اور کبھی بھی آپ سے جدائی پر راضی نہ ہونگا.

(شعرا، 214.,الكامل، ابن اثير، ج 2، ص 24.)

اہليان حجاز پر قحط عارض ہؤا. لوگ – عيسائی و مشرک و جاہل و بت پرست اور دين حنيف کے پيروکار – سب کے سب مؤمن قريش حضرت ابوطالب کی خدمت ميں حاضر ہوئے؛ کيونکہ انہيں معلوم تھا کہ مکہ ميں دين ابراہيم (ع) کے اس مروج و مبلغ جتنی کسی کو بھی خدا کي اتنی قربت حاصل نہيں ہے چنانچہ انہوں نے ان تشويشناک حالات ميں ان ہی سے درخواست کی کہ اٹھيں اور “خدا سے باران رحمت کی درخواست کريں”ان کا جواب مثبت تھا اور ايسے حال ميں بيت اللہ الحرام کی طرف روانہ ہوئے کہ ان کي آغوش ميں «چاند سا» لڑکا بھی تھا. حضرت ابوطالب نے اس لڑکے سے کہا کہ کعبہ کو پشت کرکے کھڑا ہوجائے اور حضرت ابوطالب (ع) نے اس لڑکے کو اپنے ہاتھوں پر اٹھايا اور خداوند متعال کی بارگاہ ميں باران رحمت کی دعا کی. بادل کا نام و نشان ہي نہ تھا مگر اچانک آسمان سے بارش نازل ہونے لگی اور اس بارش نے حجاز کی پياسی سرزمين کو سيراب کيا اور مکہ کی سوکھی ہوئی وادی کھل اٹھی.

وہ چاند سا لڑکا حضرت محمد مصطفي ص کے سوا کوئی اور نہ تھا.

(شرح نهج البلاغة، ج 3، ص 316)

«عثمان بن مظعون» جو سچے مسلمان تھے ايک روز کعبہ کے ساتھ کھڑے ہوکر بت پرستوں کو ان کے مذموم روش سے منع کررہے تھے اور ان کو وعظ و نصيحت کررہے تھے. قريش کے نوجوانوں کے ايک گروہ نے ان پر حملہ کيا اور ان ميں سے ايک نے عثمان پر وار کيا جس کے نتيجے ميں ان کی ايک آنكھ زخمی ہوئی.

حضرت ابوطالب عليہ السلام کو اطلاع ملی تو انہيں سخت صدمہ پہنچا اور قسم کھائی کہ : جب تک اس قريشی نوجوان سے قصاص نہ لوں چين سے نہ بيٹھوں گا اور پھر انہوں نے ايسا ہی کيا.

(شرح نهج البلاغة،ج 3، ص 313)

اخیر میں سلام پیش کرتی ہوں محسن اسلام ،رسول ص کے سچے عاشق و اسلام کے پہلے “مسلمان ” و “کل

ایمان ” کے پدر “جناب حضرت ابو طالب ابن حضرت عبد المطلب ع ” پر …!

 

التماس دعا

 

     سیدہ بتول عابدی

You may also like...