خدا کی معرفت عقل و فطرت کی روشنی میں

توحید

خدا کی معرفت عقل و فطرت کی روشنی میں

” اٴَفِی اللهِ شَکٌّ فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْض”[1]

”کیا تم کو خدا کے بارے میں شک ھے جوسارے آسمان وزمین کا پیدا کرنے والا ھے۔؟“

حضرت امام حسین علیہ السلام:

”کیف یستدل علیک، بما هو فی وجودہ مفتقر الیک، اٴیکون لغیرک من الظهور مالیس لک حتی یکون هو المظھر لک، متی غبت حتی تحتاج الی دلیل یدل علیک، ومتی بعدت حتی تکون الآثار ھی التي توصل الیک۔“

(بارالہٰا ! تیری معرفت کا ذریعہ وہ شی ٴ کیسے قرار دی جاسکتی ھے جس کا وجود خود تیرا محتاج ھے، کیا تیرے علاوہ بھی کوئی ایسی شی ٴ ھے جوبذات خود ظاھر هو جب تک تو اس کا مظھر قرار نہ پائے؟ تو کب غائب تھا کہ ھمیں تیری راہنمائی کے لئے کسی راہنما کی ضرورت هو؟ اور تو کب ھم سے دور تھا کہ ھم ان وسائل (آثار)کو تلاش کریں جو ھمیں تجھ تک پهونچائیں؟)

قدیم شاعر:

فواعجبا کیف یعصی الالہ

ام کیف یجحدہ الجاحد

وللہ فی کل تحریکة

وفی کل تسکینة شاہد

وفی کل شیء لہ آیة

تدل علی انہ واحد

اس انسان پرتعجب ھے جو اپنے پروردگار کی (عمداً) معصیت کرتا ھے، بھلا خدا جیسی ذات کا کوئی انکار کرنے والا انکار کرسکتا ھے؟ !کیونکہ ذات پروردگار وہ ہستی ھے جس کی معرفت کے لئے ھر شی ٴ میں نشانی موجودھے جو خداوندعالم کے وحدہ لاشریک هونے پر دلالت کرتی ھے۔

مقدمہ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ الحمدلله رب العالمین والصلوة والسلام علی سیدنا محمد وآلہ الطیبین الطاھرین۔

جب سے انسان نے اس فرش زمین پر لباس وجود زیب تن کرکے قدم رکھا ھے اسی وقت سے اس نے اپنی حیات کے خلق اور عنایت کرنے والے کے بارے میں غور و فکر کرنا شروع کردیا، لہٰذا واجب الوجود (خدا ) کے بارے میں لوگوں کی گفتگو صرف آج کی پیدوار نھیں بلکہ یہ گفتگو قدیم زمانہ سے چلی آرھی ھے، البتہ زمانہ قدیم کے لوگ اپنی خالص فطرت، محدود مدرک علمی اوراپنی کم صلاحیت کے اعتبار سے مورد بحث قرار دیتے تھے یعنی جتنی ان کے پاس بحث کرنے کے لئے مدارک اور محدود ذہنی سطح تھی اسی لحاظ سے بحث کیاکرتے تھے، لیکن آج جب زمانہ نے ترقی کی اور انسان وسیع الذہن هوا تو اس (خدا) کے بارے میں گفتگو کا میدان بھی وسیع هوا، یعنی جیسے جیسے عقل وشعورنے ترقی کی اور ذہن انسانی میں وسیع نشوونما هوئی یھاں تک کہ اس فلسفی زمانہ میں عقل اپنے کمال تک پهونچی تو یہ واجب الوجود کے بارے میں بحث ومباحثہ بھی اسی بلندی کے ساتھ لوگوں میں رائج قرار پایا،جس میں جاھل اور منکرین خدا کے لئے کسی طرح کا کوئی اشکال واعتراض کرنے کا راستہ نھیں رہ جاتا۔

چنانچہ آج جبکہ علم اور سائنس کافی ترقی کررھا ھے بعض اسلام دشمن عناصر نے دین اسلام سے مقابلہ کی ٹھان لی ھے اور اسی سائنس وعلم کے ذریعہ خدا کے وجود کا انکار کرتے ھیں اور مسلمانوں کے عقائد کو کمزور وضعیف کرنے کی کوشش کرتے رہتے ھیں، چنانچہ کہتے ھیں کہ یہ عقلی قاعدہ(کہ ھر مخلوق کے لئے ایک خالق اور ھر موجود کے لئے ایک موجِد کا هونا ضروری ھے) درست نھیں ھے! بلکہ یہ کائنات خود بخوداور اتفاقی طور پر پیدا هوگئی ھے!!۔

خلاصہ یہ کہ اس سلسلہ میں انھوں نے بہت سے اعتراضات او رشبھات ایجاد کردئے اور بعض جھوٹی اور مظنون چیزوں کو مشهور کرکے ڈھول بجادیا کہ ”مادہ“ ازلی ھے !اور یہ ھمیشہ باقی رھے گا، چنانچہ ان لوگوں نے مسلمانوں کے نظریات میں شکوک وشبھات ڈالنے شروع کردئے لہٰذا وہ لوگ جن کے عقائد تقلیدی اور سنے سنائے اور بغیر دلیل کے تھے وہ ان اعتراضات وشبھات کے دریا میں بہنے لگے۔

اور چونکہ ھم یہ عقیدہ رکھتے ھیں کہ اسلام کبھی بھی علم وعقل سے نھیں ٹکراتا، بلکہ اسلام تو علم وعقل پر قائم ھے، لہٰذا ھمارے لئے اس ماحول میں ”الوھیت“ (خدا کی معرفت) کی بحث اسی علم وسائنس کی روشنی میں بیان کرنا ضروری تھا جس طرح سائنس داں افراد نے اسی علم وسائنس کے ذریعہ اس سلسلہ میں تخریب کاری کی ھے، چنانچہ اس سائنس کے بعض نتائج کا خلاصہ یہ ھے کہ آج کے علم کی جدید ایجادات واکتشافات ھی ھیں جو خدا پر ھمارے ایمان کو زیادہ کردیتے ھیں،اور ھمارے لئے یہ علم ایسے ایسے استدلال وبرھان قائم کرتا ھے جن کا تذکرہ گذشتہ مولفین ومحققین کے یھاں نھیں ملتا، لہٰذا یھی سائنس (مکمل وضاحت کے ساتھ) ان لوگوں کے نظریہ کو باطل کردیتا ھے جو کہتے ھیں کہ مادہ ازلی ھے اور کائنات میں خلق وایجاد کے یہ اثرات اسی مادہ کے ھیں، یعنی ان لوگوں کے تمام نظریات باطل هوجاتے ھیں جو کہتے ھیں کہ یہ تمام کائنات خود بخود (اتفاقی طور پر) پیدا هوگئی ھے۔

اور چونکہ ھماری یہ کتاب موضوع کے تمام اطراف وجوانب پر مشتمل ھے لہٰذا ھم نے مناسب سمجھا کہ اس میں فطرت سلیم، فلسفہ اور علم کلام کے دلائل کو اختصار کے طور پر بیان کر کے قرآن کریم سے تفصیل کے ساتھ برھان واستدلال نقل کریں کیونکہ قرآنی استدلال ھی بہترین استدلال ھیں، جن میں عقل وشعور اوراحساس سب کچھ پایا جاتا ھے ، اور پھر اس کے بعد سائنس کے ذریعہ خدا کے وجود پر دلیل وبرھان قائم کریں گے۔

بھرحال ھماری اس بحث کا مقصد یہ ھے کہ محترم قارئین اس سے استفادہ اور ہدایت حاصل کریں اور ھم بھی اجر وثواب کے مستحق قرارپائےں۔

و<الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی ہَدَانَا لِہَذَا وَمَا کُنَّا لِنَہْتَدِیَ لَوْلاَاٴَنْ ہَدَانَا اللهُ۔[2] رَبَّنَا إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِیًا یُنَادِی لِلْإِیمَانِ اٴَنْ آمِنُوا بِرَبِّکُمْ فَآمَنَّا رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَکَفِّرْ عَنَّا سَیِّئَاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْاٴَبْرَارِ>[3]

”شکر ھے اس خدا کا جس نے ھمیں اس (منزل مقصود) تک پہنچادیا اور اگر خدا

ھمیں یھاں نہ پہچاتا تو ھم کسی طرح یھاں نہ پہنچ سکتے ۔

اے ھمارے پالنے والے (جب) ھم نے ایک آواز لگانے والے (پیغمبر) کو سنا کہ وہ ایمان کے لئے یوں پکارتا تھا کہ اپنے پروردگار پر ایمان لاؤ تو ھم ایمان لائے، پس اے ھمارے پالنے والے ھمارے گناہ بخش دے اور ھماری برائیوں کوھم سے دور کردے اورھمیں نیکو کاروں کے ساتھ (دنیا سے) اٹھالے۔“

والله ولی التوفیق۔

شیخ محمد حسن آل یاسین کاظمین

، عراق۔

————————

خالق ازلی کے وجود کی ضرورت

وجودخالق کائنات کے دلائل کی بحث ایک قدیم زمانہ سے چلی آرھی ھے اور مختلف زمانہ میں مختلف طریقوں سے بحث هوتی رھی ھے نیز دلائل وبرھان بھی بدلتے رھے ھیں۔

اور جب سے انسان نے شعور اور ترقی کی طرف قدم اٹھانا شروع کیا ھے اسی وقت سے اس کی دلی خواہش یہ رھی ھے کہ وہ ”ماوراء الغیب“ کی باتوں کا پتہ لگائے، کیونکہ اس کی فطرت میں یہ بات داخل ھے کہ وہ مختلف اشیاء کے حقائق اور انتھا کا پتہ لگانے کے لئے بے چین ر ھے ، اوراس کے ذہن میں ھمیشہ یہ سوال اٹھتا رہتا ھے کہ وہ کھاں سے آیا؟ اور اس کی کیسے خلقت هوئی؟ اوراسے آخر کھاں جانا ھے۔؟

چنانچہ اسی فطرت کے تحت اس نے کائنات کے بارے میں معلومات کرنا شروع کی اور اس سلسلہ میں غور وفکر سے نھیں گھبرایا اپنی استعداد کے مطابق اس نے ھر زمانہ میں اپنی کوشش جاری رکھی اور مبداء اول (وہ خداجو تمام چیزوں کو وجود بخشنے والا ھے )کے وجود کی بحث اوراس کائنات کے اسرار کی معلومات ایک مقدمہ رھی ھے جس کا سمجھنا مشکل کام رھا ھے اگرچہ انسان نے اپنی بھر پور کوشش صرف کردی ھے۔

اور جب انسان نے اشیاء کے حقائق سمجھ لئے تو اس نے سب سے پھلے وجود کو محدود اور بسیط پایا اس کے بعد اس نے مرور زمان کے ساتھ اپنی معرفت کے لحاظ سے اس دائرہ معرفت کو وسیع کیا چنانچہ اس نے اپنی عقل کے معیار کے مطابق اس کائنات کے خالق کے وجود کے بارے میں اعتقاد پر دلیل قائم کی۔

اسی وجہ سے ھم دیکھتے ھیں کہ اس قدیم زمانہ میں انسان نے حیوانات، ستاروں اور دوسرے جمادات کی عبادت کی اور ان کو اپنا خدا تصور کیا، ان کا عقیدہ یہ تھا کہ یھی موت وحیات دیتے ھیں یھی خلق کرتے ھیں یھی رزق دیتے ھیں یھی عطا کرتے ھیں اور کسی چیز میں مانع هوتے ھیں اور صرف ان کی عبادت یا ان کی تصدیق پر ھی اکتفاء نہ کی بلکہ یہ ان کے لئے قربانی کیا کرتے تھے اور ان سے قریب کرنے والے کاموں کو کیا کرتے تھے تاکہ ان تک خیر وبرکت پهونچے اور ان سے بلاء وشر دور رھے۔

چنا نچہ انسانوں کے ایک گروہ نے جب سورج کو دیکھا کہ وہ سب چیزوں کو حیات ورُشد عطا کرتا ھے اور اس کے بغیر کو ئی بھی چیز زندہ نھیں رہ سکتی لہٰذا اسی کو خدا مان بیٹھے۔

جب انھوں نے چاند کو رات کے اندھیروں میں بھٹکتے هوئے لوگوں کو نور دیتے هوئے دیکھا تو اسی کو خدا مان لیا۔

جب انھوں نے ان ستاروں کود یکھا جو اپنی شعاعوںکی چمک دمک کو ایک دور درازمقام سے زمین کی طرف بھیجتے ھیں جو انسان کو سرگرداں اور حیران کردینے والی ھیں جو فکر انسان کو متحر ک کرکے مسدود کردیتی ھیں تو انسان یہ سمجھا کہ یھی نجوم خدا ھیں جن کی چمک دمک کائنات کو حیران وپریشان کئے هوئے ھے۔

اورآخر میں جب انھوں نے بعض ان حیوانات کو دیکھا جن کے ذریعہ سے ان کے کھانے پینے یا پہننے کی چیزیں حاصل هوتی ھیں یا ان میں عجیب وغریب چیزیں پائی جاتی ھیں یا ان کی قوت اور بھاری جسم کو دیکھا تو اس اعتقاد کے ساتھ کہ یھی خدا ھیں ان کی ھی عبادت شروع کردی۔!!

یہ باتیں صرف اس بات پر دلالت کرتی ھیں کہ انسان اپنی فکر وعقل میں کمزور تھا جس طرح سے یہ بات بھی واضح ھے کہ انسان کی صحیح وسالم فطرت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ھے کہ کوئی خدا ھے جس نے اس کائنات کو خلق کیا ھے۔

لیکن جب خداوندعالم نے آسمانی کتابیں اور انبیاء ومرسلین بھیجے تو انسان کو یہ معلوم هوا کہ ان تمام چیزوں کا خالق ھی ھمارا ربّ ھے۔

<الَّذِی خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا مَا تَرَی فِی خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفَاوُتٍ فَارْجِعْ الْبَصَرَ ہَلْ تَرَی مِنْ فُطُورٍ ۔ ثُمَّ ارْجِعْ الْبَصَرَ کَرَّتَیْنِ یَنقَلِبْ إِلَیْکَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَهو حَسِیرٌ>[4]

”جس نے سات آسمان تلے اوپر بنا ڈالے ،کیاتجھے خدا کی آفرینش میں کوئی کسر نظر آتی ھے؟ تو پھر آنکھ اٹھا کر دیکھ بھلا تجھے کوئی شگاف نظر آتا ھے پھر دوبارہ آنکھ اٹھاکر دیکھ تو (ھر بار تیری) نظر ناکام او رتھک کر تیری طرف پلٹ آئے گی“

بے شک انسان اپنی فطرت کے ذریعہ ھی اپنے رب کو پہچان کر اس پر ایمان لاسکتا ھے، چنانچہ یھی فطرت انسانی (جس کو لا شعو رکہتے ھیں) انسان کو اس کائنات کے خالق کے وجود تک پهونچاتی ھے جس نے ان تمام موجودات کو خلق کیا اوران کو عدم سے وجود بخشا ، ھر چیز کے لئے ایک مخصوص نظام وقوانین وضع فرمائے تاکہ ان کے تحت وہ سب اپنے فرض کو پورا کرتی هوئی اپنے اغراض ومقاصد تک پهونچ جائیں اور وہ نظام بھی ایسا هو جو دقیق اور مرتب هو جس میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہ هو۔

اور جیسا کہ فرانس کے بعض ماھرین نے وسطی افریقا، انڈومان نیکوبار جزائر نیز جزیرہٴ مابقہ اور فلپین کے بعض علاقوں میں پائی جانے والی قوم”اقزام“( ایک پستہ قد قوم جو بڑی بھادر هوتی ھے) کی حیات کے بارے میںتحقیق کی تو اس نتیجہ تک پهونچے کہ یہ قوم ایک قدیم ترین طور وطریقہ اور ثقافت کی نشاندھی کرتی ھے جس کی بنا پر ھمیں بشر کے جنسی طور وطریقہ اور ثقافت کے بارے میں معلومات فراھم هوتی ھےں اور ھمیں پتہ چلتا ھے کہ یہ قوم ابتداء میں مشرقی ایشیاء کے جنوبی ممالک کے تمام قوم وقبیلہ پر حاکم تھی۔

چنانچہ اس جماعت کے عقائد کے بارے میں تحقیق کرنے والے ماھر ”ینشمٹ“ وغیرہ نے کوئی ایسا اثر ونشانی نھیں پائی جس کی بنا پر یہ سمجھا جاسکے کہ یہ لوگ مادیات اور ارواح کی عبادت کرتے تھے لیکن ان کا سحر وجادو پر اعتقاد رکھنا یہ ناقص اور کم سے کم عقیدہ تھا،بلکہ مزید تحقیقات سے پتہ چلا کہ وہ ایک موجود اسمی کی عبادت کرتے تھے جس کے بارے میں یہ کھا جاسکتا ھے کہ وہ سید عالم (خدا ) ھے۔

ھمارے لئے کافی ھے کہ ھم ان قدیم قبیلوں اور ان کے عقائد کو دیکھیں لیکن یہ تاریخ ادیان خطرناک کشف ھے کیونکہ وہ (مستحکم اور قطعی دلائل کی بنیاد پر) فطرت انسان اور توحید (خدا) کے بارے میں ایک خاص رابطہ کا اقرار کرتے تھے۔[5]

چنانچہ اسکاٹ لینڈ کے ایک دانشمند ”لانج“ کہتے ھیں:

”ھر انسان اپنے اندر ”علت“ کا نظریہ لئے هوئے ھے اور اس کا اس کائنات کے بنانے والے خالق کا عقیدہ رکھنے کا نظریہ کافی ھے۔“[6]

لہٰذا انسان نے اسی فطرت کے ذریعہ اس حقیقت کو سمجھا اورجب انسان کی یھی فطرت بسیط (غیر واضح) تھی تو اس کی دلیل بھی غیر واضح رھی اور جب فطرت انسانی واضح اور مکمل هوگئی تو انسان کی دلیل بھی واضح اور مکمل هوگئی، اس حیثیت سے کہ انسان اسی فطرت کے تحت اس بات کو مانتا رھا ھے کہ ھر اثر اپنے موٴثر پر دلالت کرتا ھے اور ھر موجود اپنے موجد (بنانے والے) پر دلالت کرتا ھے کیونکہ اونٹ کے پیر کے نشان اونٹ کے وجود پر دلالت کرتے ھیں اسی طرح پیروں کے نشانات گذرنے والوں پر دلالت کرتے ھیں توپھر یہ زمین وآسمان کس طرح لطیف وخبیر (خدا) پر دلالت نھیں کرتے۔؟!!

قارئین کرام ! انسانی فطرت اور اس کی وجہ سے خدا پر ایمان رکھنے والی مثال کی طرح درج ذیل واقعہ بھی ھے:

”ھم ایک روز بغداد میں دینی مسائل کے بارے میں تقریرکررھے تھے کہ اچانک ایک دھریہ اس تقریر کے دوران آگیا اور اس نے خدا کے وجود کے لئے دلیل مانگی، چنانچہ صاحب مجلس نے اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے متکلمین کے پاس ایک شخص کو بھیجا لہٰذا وہ شخص ایک متکلم کے پاس گیا اور واقعہ کی تفصیل بیان کی چنانچہ اس متکلم نے اس شخص سے کھا کہ تم چلو میں آتا هوں۔

ادھر سب لوگ اس کے منتظر تھے لیکن جب بہت دیر هوگئی اور لوگ اٹھنا ھی چاہتے تھے تو وہ متکلم بڑبڑاتے هوئے مجلس میں وارد هوا، اور صاحب مجلس سے اپنی تاخیر کی عذر خواھی کی اور کھا کہ میں نے خواہ مخواہ دیر نھیں کی بلکہ میں راستے میں ایک عجیب وغریب واقعہ دیکھ کر مبهوت رہ گیا اور مجھے وقت کا احساس نہ هوا اور جب کافی دیر کے بعد مجھے احساس هوا تو میں دوڑتا هوا چلا آیا۔

اور جب اس سے اس تعجب خیز واقعہ کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے کھا:

”جب میں آتے وقت دجلہ کے ساحل پر پهونچا تو میں نے ایک بہت بڑے درخت کو دیکھا کہ وہ دجلہ کی طرف جھکا اور خود بخود اس کے برابر تختے کٹتے چلے گئے او رپھروہ تختے آپس میں مل گئے یھاں تک وہ ایک بہترین کشتی بن گئی اور ساحل پر آکر رگ گئی اور میں اس کشتی میں سوار هوگیا اور وہ بغیر چلانے والے کے چل پڑی یھاں تک کہ اس نے مجھے دریا کے اس طرف چھوڑدیا او رپھر دوسرے لوگ اس میں سوار هوئے تو ان کو اُس طرف لے جاکر چھوڑ دیا اور وہ اسی طرح چلتی رھی، میں کھڑا اس منظر کو دیکھتا رھا، اوریھی میری تاخیر کا سبب ھے“

ابھی ان صاحب کی گفتگو تمام ھی هوئی تھی کہ اس دھریہ نے ایک زور دار قہقہہ لگایا اور اس کا مذاق بناتے هوئے کھا:

”واقعاً مجھے اپنے اوپر افسوس هورھا ھے کہ میں نے اس شخص کے انتظار میں اپنا اتنا وقت برباد کیا! میں نے اپنی زندگی میں اس سے زیادہ بے وقوف اور احمق شخص نھیں دیکھا ! کیا کسی انسان کی عقل اس بات کو قبول کرسکتی ھے کہ کوئی درخت خود بخود کٹے،اس کے تختے بنیں اور وہ آپس میں جڑےں اور کشتی بن جائے او ر پھر وہ کشتی خود بخود چل پڑے اور مسافروں کو ادھر سے ادھر پهونچائے؟!!

یہ سن کر وہ متکلم بول اٹھے:

”جب اس چھوٹی سی کشتی کا بغیر بنانے والے کے بن جانا عقلی طور پر ناممکن ھے اور بہت ھی تعجب او ربے وقوفی کی بات ھے، تو پھر یہ زمین وآسمان، چاند وسورج او راس کائنات کی دوسری چیزیں خود بخود کس طرح بن سکتی ھیں؟!! او راب بتا کہ میری باتیں تعجب خیز ھیں یا تیری؟۔

یہ سن کر وہ دھریہ خاموش هوگیا ، اس کا سر جھک گیا اور اس کے سامنے اپنے غافل هونے کے اقرار کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ دکھائی نہ پڑا۔

اس طرح فطرت انسان دلیلِ اعتقاد بن سکتی ھے اور یہ وہ راستہ ھے جس کے ذریعہ انسان آسان طریقہ سے فلسفی دلیل وبرھان اور اس کی اصطلاحات کے دلدل میں پھنسے بغیر وجود خالق پر دلیل قائم کرسکتا ھے ۔

وجود خدا پر عقلی اور فلسفی دلائل

قارئین کرام ! فلسفہ کی دلیل وبرھان کے مختلف طریقے ھیں چنانچہ فلاسفہ حضرات نے وجود خدا کے بارے میں منطقی اور عقلی برھان قائم کئے ھیں جو خداوندعالم کے وجود پر ایمان کو پختہ اور شبھات واعتراضات کا خاتمہ کردیتے ھیں۔

چنانچہ فلاسفہ حضرات کی سب سے واضح دلیل یہ ھے:

”اگر کوئی موجود ”واجب الوجود“ هو تو ھمارا مقصود ثابت هوجاتا ھے اور اگر وہ وجود واجب الوجود نہ هوتو پھر” دور“ “Viciouscircle” یا” تسلسل“”Infinitc Regress” لازم آئے گا جو عقلی طور پر محال ھے۔

توضیح :

جو چیز ھمارے سامنے موجود ھے اگر وہ ”واجب الوجود“ ھے توھمارا مقصود ثابت ھے اور اگر ممکن الوجود هو تو اس کے لئے کوئی ایسی موٴثر شئے کا هونا ضروری ھے جو اس کو وجود عطا کرے اور اگروہ موٴثر شے واجب الوجود هو تو ھمارا مقصود ثابت ھے اور اگر وہ موٴثر شے ممکن الوجود هو تو وہ بھی ایک ایسے موٴثر کی محتاج هوگی جو اس کو وجود عطا کرے، اور اگر وہ موٴثر شے واجب الوجود هوگی تو ھمارا مقصود ثابت، اور اگر وہ بھی ممکن الوجود هو تو پھر اس طرح تسلسل لازم آتا ھے جو عقلی طور پر باطل ھے۔

مزید وضاحت :

جو چیز ھمارے سامنے موجود ھے اس کے وجود میں کسی کو بھی شک نھیں هوتا او راگر یہ وجود اپنی ذات کے لئے واجب هو (یعنی اس کا وجود ذاتی هو جس طرح آگ کے لئے حرارت) توھمارا مقصود ثابت ھے (یعنی وھی خدا ھے) اور اگرو ہ چیز اپنی ذات میں ممکن هو، تو پھر یہ چیز اپنے وجود میں کسی موٴثر کی محتاج ھے اور اگر وہ موٴثر اپنی ذات میں واجب ھے تو بھی ھمارا مقصود ثابت ھے او راگر وہ بھی اپنے وجود میں کسی موٴثر کی محتاج هو او روہ غیر خود اپنے نفس کے لئے موٴثر هو تو اس صورت میں ”دور“ لازم آتا ھے جو محال ھے کیونکہ اس وقت ھر ایک بذات خود دوسرے پر موقوف هوگی ،جبکہ موٴثر کا اثر پر مقدم هونا لازم ھے۔

اور اگر وہ موٴثر کوئی دوسری چیز هو تو پھر درج ذیل حالات سے خالی نھیں:

۱۔ وہ چیز ایسے وجود پر جاکر رکے جو اپنی ذات میں واجب هو۔

۲۔ اس سلسلہ کی کوئی انتھا نہ هو۔

اگر پھلی صورت هو تو ھمارا مقصود ثابت ھے جبکہ دوسری صورت باطل ھے کیونکہ ھر ممکن شے کے لئے ایک موٴثر کا هونا ضروری ھے اور یہ موٴثر تین حال سے خالی نھیں ھے:

۱۔ کوئی چیز بذات خود اپنے لئے موٴثر هو۔

۲۔اس میںکوئی اندرونی شے موٴثر هو۔

۳۔ کوئی بیرونی شے اس میں موٴثر هو۔

پھلی صورت ناممکن او رمحال ھے کیونکہ موٴثر کا اثر سے پھلے هونا ضروری ھے کیونکہ کسی چیز کا اپنے نفس پر مقدم هونا عقلی لحاظ سے ممنوع ھے۔

دوسری صورت بھی محال ھے کیونکہ کسی چیز کا موٴثر هونا اس کے ھر جز میں موٴثر هونا چاہئے اور اگر اس کا کوئی جز موٴثر هو تو پھر خود اپنے نفس میں موٴثر هونا لازم آتا ھے او راپنے اثر میں بھی موٴثر کا هونا لازم آتا ھے اور یہ دونوں محال ھیں پھلی صورت اس لئے محال ھے کہ ”تقدم الشی علی نفسہ“ (کسی چیز کا اپنے اوپر مقدم هونا) لازم آتا ھے اور دوسری صورت اس لئے محال ھے کہ ”دور“ لازم آتا ھے اور دور بھی محال وباطل ھے۔

اور جب پھلی دوصورت باطل ھیں تو پھر تیسری صورت صحیح ھے یعنی ھر چیز میں کسی بیرونی شے کا موٴثر هونا، او راگر وہ بیرونی شے ممکنات میں سے ھے ،تو وہ اپنی ذات کے لئے ممکن نھیں بن سکتی ،کیونکہ اگر ایسا هو(یعنی اپنی ذات کے لئے ممکن هو) تو پھر وہ شی اس میں داخل ھے، بلکہ اس چیز کا بیرونی هونا ضروری ھے اور یھی ھماری بات کو ثابت کردتیا ھے۔

مذکورہ دلیل کا خلاصہ :

”بے شک اس کائنات کا پیدا کرنے والا کوئی نہ کوئی ھے کیونکہ کسی چیز کا خود بخود عدم سے وجود میں آنا ممکن نھیں ھے تو پھر اس پیدا کرنے والے کا وجود بھی ضروری ھے کیونکہ یہ بات بھی مسلم ھے کہ کسی امر عدمی کے ذریعہ کوئی چیز وجود میں نھیں آسکتی، تو پھر یہ پیدا کرنے والا یا تو واجب الوجود ھے یا واجب الوجود نھیں ھے۔

اور اگر واجب الوجود هو تو ھمارا مقصد ثابت هوجاتا ھے (کہ یھی واجب الوجود ذات خدا ھے)

اور اگر واجب الوجود نھیں ھے تو اس کے لئے ایک موٴثر کی ضرورت ھے جو اس کو وجود عطا کرے اور اگر یہ موٴثر اور سبب واجب الوجود هو تو بھی ھمارا مقصود ثابت ھے اور اگر واجب الوجود نہ هو پھر اس کے لئے بھی ایک موٴثر کی ضرورت ھے ، اسی طرح ھم آگے بڑھتے رھیں گے یھاں تک کہ وجود خالق اور واجب الوجود جو اس کائنات کا خالق ھے اس تک پهونچ جائیں ورنہ تو درج ذیل دو چیزوں میں سے ایک چیز لازم آئے گی (جو محال ھے):

۱۔ ”تسلسل“ تسلسل کے معنی یہ ھےں کہ ھر موجود اپنے موجد (بنانے والے) پر موقوف هو او رپھر یہ موجود دوسرے مو جود پر موقوف هوگا او رپھر وہ دوسرے پر ، اسی طرح یہ سلسلہ چلتا رھے اور عقلِ انسانی نے اس بات کو ثابت کیا ھے کہ جس سلسلہ کی کوئی انتھا نہ هو وہ باطل ھے کیونکہ انسان اس سے کسی نتیجہ پرنھیں پہنچ سکتا۔

۲۔ ”دَور“ دور کے معنی یہ ھےں کہ موجدِ موٴثر نے ایسی چیز کو خلق کیا جس کو اثر کھا جاتا ھے او رخود اس اثرنے اس موجدِ موٴثر کو خلق کیا اور یہ واضح البطلان ھے کیونکہ اس کا مطلب یہ ھے کہ یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے پر موقوف ھےں۔

جیسا کہ ھم نے بیان کیا جب تسلسل او ردور دونوں باطل ھیں تو پھر ضروری ھے کہ ھم ایسے پیدا کرنے والے موجد کا اقرار کریں جس کا وجود اپنی ذات کے لئے واجب ھے (یعنی جو واجب الوجود ھے) اور وھی خدا کی ذات ھے۔

متکلمین کا استدلال

قارئین کرام ! خداوندعالم کے وجود کے سلسلے میں متکلمین حضرات نے ایک دوسرا طریقہ اختیار کیا ھے جس میں صرف عقلی طریقہ پر اعتماد کیا گیا ھے جس میں کسی طرح کی آیات وروایات اور تقلید سے کام نھیں لیا گیا چنانچہ ان کے دلائل میں سے بعض دلائل اس طرح ھیں، ان کا کہنا ھے:

”تمام اجسام (بدن) حادث ھیں اور ان کے حدوث کی دلیل یہ ھے کہ ان میں تجدّد (تبدیلی اور نیا پن) هوتارہتا ھے (یعنی تمام چیزیں ھمیشہ ایک سی نھیں رہتیں بلکہ بدلتی رہتی ھیں) اور جب یہ چیزیں تجدد سے خالی نھیں ھیں تو پھر ان کا محدث هونا ضروری ھے اور جب ان کا حادث هونا ثابت هوگیا ھے تو پھر اپنے افعال کے بارے میں قیاس کرسکتے ھیں کہ ان کا بھی حادث کرنے والا ھے، مثلاً:

”یہ جھان محدث ھے، پھلے نھیں تھا بعد میں وجود میں آیا، کیونکہ کائنات کی ان تمام چیزوں میں خلقت کے آثار پائے جاتے ھیں بعض چیزیں چھوٹی ھیں بعض بڑی، کسی میں زیادتی ھے کسی میں کمی، اور ان سب کی حالتیں بدلتی رہتی ھیں جیسا کہ رات دن سے بدل جاتی ھے، لہٰذا خداوندعالم ھی ان تمام چیزوں کا خالق ھے کیونکہ ھر چیز کے لئے ایک بنانے والے کا هونا ضروری ھے اور ھر کتاب کے لئے لکھنے والے کا نیز مکان بنانے کے لئے ایک معمار کا هونا ضروری ھے“

مذکورہ استدلال کا خلاصہ :

یہ عالم؛ جس میں جمادات، نباتات اور دیگر موجودات شامل ھیں، یہ حادث ھے یعنی پھلے نھیں تھا بعد میں موجود هوا جیسا کہ ان تمام میں واضح طور پر آثار وجود پائے جاتے ھیں کہ ان چیزوں میں کمی وزیادتی طول وقصر موجود ھے اور ایک حال سے دوسرے حال میں بدلتے رہتے ھیں یا اسی طرح کے دوسرے آثار جن سے ان کے حادث هونے کا پتہ چلتا ھے کہ یہ چیزیں عدم سے وجود میں آئی ھیں۔

اور جب اس کائنات کی تمام چیزوں میں تغییر وتبدیلی پائی جاتی ھے اور ھمارے افعال وحرکات کے ذریعہ ان چیزوں میں تبدیلی آتی رہتی ھے اس طرح ھمارے افعال بھی خود بخود نھیں هوتے بلکہ ھم ھیں جو ان کو انجام دیتے ھیں جیسا کہ ھم دیکھتے ھیں کہ کھانا پینا، حرکت کرنا، لکھنا، پڑھنا اور ھمارے روز مرّہ کے امور انجام دینے والے کا هونا ضروری ھے تو اس کائنات کا خلق کرنے والے کا بھی هونا ضروری ھے اور وہ خداوندعالم کی ذات اقدس ھے جس طرح ھر چیز کے لئے بنانے والے ،کتاب کے لکھنے کے لئے کاتب اور مکان کے بنانے کے لئے معمار کا هونا ضروری ھے۔

قرآن کریم سے استدلال

ھم اس وقت قرآن کریم کی ان آیات کو بیان کرتے ھیں جن کے ذریعہ اس حقیقت کی واضح طور پر برھان ودلیل قائم کی گئی ھےں۔

قارئین کرام ! قرآن کریم وجود خالق پر مختلف طریقوں سے بہت سی دلیلیں اور برھان بیان کرتا ھے اور اس سلسلہ میں بہت زیادہ اہتمام کیا ھے جبکہ دوسری آسمانی کتابوں میں اس قدر اہتمام نھیںکیا گیا ھے بلکہ جس قدر قرآن کریم نے وجود خدا پر دلائل وشواہد پیش کئے ھیں کسی بھی(آسمانی) کتاب میں نھیں ھیں، قرآن کریم میں سوئی هوئی عقلوں کو مکمل طور پر بیدار کردیا گیا ھے۔

شاید یھی سبب هو کہ توریت میں ملحدین اور خدا کے بارے میں شک کرنے والوں کو قانع کرنے کا کوئی اہتمام نھیں کیا گیا کیونکہ توریت میں ان لوگوںکو مخاطب کیا گیا ھے جو اسرائیل کے خدا پر ایمان رکھتے تھے، اور اس کے وجود میں ذرا بھی شک نھیں کرتے تھے بلکہ توریت میں خدا کے غضب سے ڈرایا ھے او رغیر خدا پر ایمان لانے والوں کی عاقبت سے باخبرکیا گیا ھے اور اگر ان کو اپنے واجبات میں غفلت کرتے دیکھا گیا تو ان کو خدا کے وعدہ اوروعید کی یاد دھانی کرائی گئی ھے۔

اسی طرح انجیل (جبکہ بعض تواریخ میں کئی انجیل بتائی گئی ھیں) اور مذھب اسرائیل میں وجود خدا کے سلسلے میں کوئی اختلاف نھیں تھا بلکہ سب سے بڑا اختلاف یہ تھا کہ اس قوم کے سردار نفاق کے شکار هوگئے تھے اور انھوں نے دین کا مذاق بنا رکھا تھا اور مال ودولت ا ورجاہ وحشم کے پیچھے پڑے هوئے تھے (چنانچہ انجیل میں ان سب چیزوں کے بارے میں توجہ دلائی گئی ھے)

اور جب اسلام کا ظهور هوا، او رقرآن کریم نازل هوا تو اس وقت لوگوں میں وجود خدا کے بار ے میں بہت زیادہ اختلاف پایا جاتا تھا اس دور میں ملحد( دھریہ)مشرک اور توریت وانجیل کے ماننے والے پائے جاتے تھے او ران سب کا خدا اور اس کے طریقہٴ عبادت میں اپنا الگ الگ نظریہ تھا لہٰذا قرآن کریم کے لئے اس سلسلے میں خاص اہتمام کرناضروری تھا کیونکہ اس دور میں سبھی لوگوں کو اسلام کی دعوت دینا تھی اور ان کو قانع کرنا اور راہ راست کی طرف ہدایت کرنامنظور تھا۔

اور چونکہ اسلام خاتم الادیان اور قرآن کریم خاتم الکتب ھے، اور اس دین اور اس کتاب کی خصوصیت یہ ھے کہ اس میں قیامت تک کے لوگوں کے لئے اعتقادی اور دنیاوی پھلوؤں کو بیان کیا گیا ھے لہٰذا قرآن کریم میں ان تمام پھلووٴں پر توجہ بہت ضروری تھی، لہٰذا قرآن کریم میں وجودِ خداوندعالم پر دلائل بیان کئے ھیں اور ملحدین ومشککین اور جاھلوں کو اس کائنات کے خالق اور ان عظیم آثار کی طرف توجہ دلائی جو خداوندعالم کے وجود او رکمال پر دلالت کرتے تھے ،لہٰذا اس سلسلہ میں موجود ھر طرح کے شبھات واعتراضات کا سدّ باب کردیاگیا۔

چنانچہ قرآن مجید کی درج ذیل آیات نے ان موضوعات کی طرف عقل انسانی کو بہت ھی نرم انداز میں متوجہ کیا او راس کو اصلی ہدف ومقصد کی راہنمائی کی اورنرم لہجہ میں راہ مستقیم کی ہدایت کی اور انسان کے سامنے خلقت کے آثار وشواہد کو مکمل طور پر واضح کردیا اور کائنات کے دقیق حقائق پر حکمت کے ذریعہ متوجہ کیا اور انسان میں اٹھتے هوئے طوفان کویقین وقناعت کے ساحل پر لگادیا۔

جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ هوتا ھے:< إِنَّ فِی خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ وَاخْتِلاَفِ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ وَالْفُلْکِ الَّتِی تَجْرِی فِی الْبَحْرِ بِمَا یَنفَعُ النَّاسَ وَمَا اٴَنزَلَ اللهُ مِنْ السَّمَاءِ مِنْ مَاءٍ فَاٴَحْیَا بِہِ الْاٴَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا وَبَثَّ فِیہَا مِنْ کُلِّ دَابَّةٍ وَتَصْرِیفِ الرِّیَاحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَاءِ وَالْاٴَرْضِ لَآیَاتٍ لِقَوْمٍ یَعْقِلُونْ >[7]

”بے شک آسمان وزمین کی پیدائش اور رات دن کے ردّ وبدل میں اور کشتیوں (جھازوں) میں جو لوگوں کے نفع کی چیزیں (مال تجارت وغیرہ) دریا میں لے کر چلتے ھیں اور پانی میں جو خدا نے آسمان سے برسایا ھے پھر اس سے زمین کو مردہ (بے کار) هونے کے بعد جلا دیا (شاداب کردیا) اور اس میں ھر قسم کے جانور پھیلا دئے اور هواؤں کے چلانے میں اور ابر میں جو آسمان وزمین کے درمیان (خدا کے حکم سے) گھرا رہتا ھے (ان سب باتو ں میں) عقل والو ں کے لئے (بڑی بڑی) نشانیاں ھیں۔“

< إِنَّ فِی خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ وَاخْتِلاَفِ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ لَآیَاتٍ لِاٴُولِی الْاٴَلْبَابِ>[8]

”اس میں تو شک ھی نھیں کہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات دن کے پھیر بدل میں عقلمندوں کے لئے (قدرت خدا کی) بہت سی نشانیاں ھیں“

قارئین کرام ! درج ذیل تمام قرآنی آیات خداوندعالم کے وجود پر دلالت کرتی ھیں بشرطیکہ خلقت انسان او ردیگر مخلوقات کی پیچیدگیوں اور دوسرے امور میں توجہ کی جائے کیونکہ یہ تمام مخلوق بغیر کسی قادر کی قدرت اور بغیر کسی خالق کے ارادہ کے وجود میں نھیں آسکتی۔

ارشاد خداوندعالم هوتا ھے:

<اٴَفَرَاٴیْتُمْ مَا تُمْنُوْنَ اٴَ اٴَنْتُمْ تَخْلُقُوْنَہُ اٴَمْ نَحْنُ الْخَالِقُوْنَ>[9]

”جس نطفہ کو تم (عورتوں کے ) رحم میں ڈالتے هو کیا تم نے دیکھ بھال لیا ھے؟ کیا تم اس سے آدمی بناتے هو یا ھم بناتے ھیں؟“

<فَلْیَنْظُرِ الاٴنْسَانُ مِمَّ خُلِقَ خُلِقَ مِنْ مَّاءٍ دَافِقٍ یَخْرُجُ مِنْ بَیْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَائِبِ>[10]

”تو انسان کو دیکھنا چاہئے کہ وہ کس چیز سے پیدا هوا ھے؟ اچھلتے هوئے پانی (منی) سے پیدا هوا جو پشت اور سینے کی ہڈیوں کے بیچ سے نکلتا ھے۔“

<اٴَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَیْرِ شَیْءٍ اٴَمْ ہُمُ الْخَالِقُوْنَ>[11]

”کیا یہ لوگ کسی کے (پیدا کئے ) بغیر پیدا هوگئے ھیں یا یھی لوگ (مخلوقات کے) پیدا کرنے والے ھیں؟“

<وَمِنْ آیَاتِہ اَنْ خَلَقَکُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَآ اٴَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ>[12]

”اور اس (کی قدرت) کی نشانیوں میں سے یہ بھی ھے کہ اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا ،پھر یکایک تم آدمی بن کر (زمین پر) چلنے پھرنے لگے“

< وَاللّٰہُ اَخْرَجَکُمْ مِّنْ بُطُوْنِ اُمِّہَاتِکُمْ لاٰ تَعْلَمُوْنَ شَیئًا وَجَعَلَ لَکُمْ السَّمْعَ وَالاٴبْصَارَ وَالاٴَفْئِدَةَ>[13]

”اور خدا ھی نے تمھیں تمھاری ماوٴں کے پیٹ سے نکالا (جب) تم بالکل نا سمجھ تھے او رتم کو کان دئے آنکھیں (عطا کیں) اور دل عنایت کئے“

تو کیا انسان کی یہ عجیب وغریب خلقت اور دوسرے شواہد خداوندعالم کے وجود پر دلالت نھیں کرتے ؟!!

سائنس کے نظریات

جیسا کہ آج کا سائنس کہتا ھے :

”انسان کا اصل وجود ایک خَلیہ ” Cell “(جسم کا مختصر ترین حصہ)سے هوا ھے او ریھی ایک خلیہ”Cell” ھر مخلوق کی بنیاد ھے اورھر خلیہ ایک باریک پردہ میںلپٹا هوا هوتا ھے (جو غیر جاندار هوتا ھے) اور یھی پردہ، خلیہ کی شکل وصورت کو محدود کرتا ھے، پھر اس پردہ کے اندر سے خلیہ کا احاطہ کرلیتا ھے ایک اور جاندار پردہ، جو نھایت صاف و شفاف اور رقیق هوتا ھے اور یھی وہ پردہ ھے جو خلیہ میں دوسرے جزئیات کو داخل هونے کی اجازت دیتا ھے اور بعض جزئیات کو اس سے خارج هونے کا حکم دیتا ھے۔

اس کے بعد اس میں مختلف قسم کے لاکھوں کیمیاوی “Chemistry” (کیمسٹری) اجزاء پائے جاتے ھیں لیکن یہ اجزاء بہت ھی محدود هوتے ھیں ، چنانچہ ان میں سے بعض تو اتنے نازک هوتے ھیں کہ صرف دوذرّوں والے هوتے ھیں (جیسے کھانے کا نمک) اور بعض تین ذرووں والے هوتے ھیں (جیسے پانی کے اجزاء) اور بعض چار، پانچ، دس، سو اور ہزار اجزاء والے هوتے ھیں جبکہ بعض لاکھوں ذرات سے تشکیل پاتے ھیں (جیسے پروٹن “Proten” اور وراثتی “Geneticcs”اجزاء)

اسی طرح ہزاروں قسم کے اجزاء کا سلسلہ جاری رہتا ھے جن میں سے انسانی حیات کے لئے بعض قسم کے اجزاء پیدا هوتے ھیں اور بعض ختم هوجاتے ھیں اور یہ سب ایک دقیق کیمیاوی مشین کے ذریعہ فعالیت جاری رکھتے ھیں جن کے سامنے انسانی فکردنگ رہ جاتی ھے۔

آج کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی ھم اس بات پر قادر نھیں ھیں کہ پروٹن کا ایک چھوٹا سا جز بھی بنالیں،جبکہ خود خلیہ کے اندر چندسیکنڈ کے اندر بن جاتا ھے۔

اور صرف پروٹن ھی نھیں ھیں بلکہ کیمیاوی مختلف عملیات ھےں جو بہت زیادہ دقیق ، نظام دقیق خلیہ اور اس کی ھیئت کے قانون کے زیر نظر جاری هوتی ھے ، اور اسی کو خلیہ کا کیمیاوی ادارہ کھا جاتا ھے۔

اسی خلیہ اوراس پر حاکم ادارہ کے اندر بہت سے اھم امور تشکیل پاتے ھیں۔ چنانچہ اس خلیہ میں دو جزء پائے جاتے ھیںجو دونوں اس کی زندگی میں بہت قیمتی جزء هوتے ھیں جن کے نام درج ذیل ھیں:

پھلا : حامض ھے، جس کو ”حامض ڈی اوکسی ریبو نیوکلیک“ “Deoxy Ribonuclec acid”کھا جاتا ھے جس کا مخفف “h.d,n”هوتا ھے۔

دوسرا: حامض اس کو ”حامض ریبو نیو کلیک “ “Ribonuclec Acid “کھا جاتا ھے اوراس کا مخفف ”ح۔ر۔ن“ “h.r.n”هوتا ھے۔

لیکن ”ح۔ ڈ ۔ ن“ ، ” ح۔ر۔ن“سے بہت زیادہ شباہت رکھتا ھے صرف تھوڑا سا فرق ھے لیکن یہ کیمیاوی فرق ھی عالم خلیہ “Cells”میں اصل ھے مثلاً وراثتی “Geneticcs” اجزاء میں ”ح۔ ڈ ۔ ن“ھی اصل ھے اور ”ح۔ر۔ن“کا درجہ اس سے کم ھے۔

لہٰذا خلیہ کی زندگی اسی طریقہ ”ح۔ ڈ ۔ ن“ھی کی وجہ سے یہ اجزاء بڑھتے ھیں اور ان ھی کی وجہ سے اصل کے مطابق شکل وصورت بنتی ھے چنانچہ اس کے تحت کروڑوں سال سے انسان کی شکل وصورت اسی طریقہ پر هوتی ھے اور اس میں کوئی تبدیلی نھیں آتی، اسی طریقہ سے گدھا اور مینڈھک میں بھی ھےں کہ وہ اسی طرح کی شکل وصورت رکھتے ھیں اورا نھیں اپنے اپنے خلیوں کی بنا پر انسان بنتا ھے ، گدھا اور مینڈھک بنتا ھے او رھر مخلوق کی تمام صفات انھیں ”ح۔ ڈ ۔ ن“کی بنا پر بنتی ھیں۔

اور یھی ”ح۔ ڈ ۔ ن“ ”ح۔ ر۔ ن“کو دوسرے اجزاء کے بنانے کے لئے معین کرتے ھیں تاکہ چھوٹے چھوٹے وہ اجزاء جن پر فعالیت کرنا اس ”ح۔ ڈ ۔ ن“کی شایان شان نھیں ھے ان ”ح۔ر۔ن“ فعالیت انجام دیں اور یہ ”ح۔ ر ۔ ن“چھوٹے چھوٹے اجزاء پر حکومت کرتے ھیں یھاں تک کہ ان اجزاء کی تعداد اس قدر زیادہ هوجاتی ھیں جو معمہ کی شکل بن جاتی ھے۔

چنانچہ اس ایک خلیہ”Cell” کی ترکیب وترتیب سے انسان بنتا ھے اور انھیں سے انسان کے تمام اعضاء وجوارح بنتے ھیں اس کی وجہ سے بعض انسان پستہ قد اور بعض دیگر لوگ بلند قد هوتے ھیں بعض کالے اور بعض گورے هوتے ھیں، در حقیقت انسان کی حیات اسی خلیہ کی بنا پر هوتی ھے،جبکہ آج کا سائنس اس ترکیب کو کشف کرسکتا ھے اس کی حرکت کا مقایسہ کرسکتا ھے اور اس کے مادہ کی تحلیل اور طریقہ تقسیم کو معلوم کرسکتا ھے لیکن اس میں چھپے حیاتی اسرار کو جاننے والے ماھرین بھی اس بات کا اعتراف کرتے ھیں کہ یہ کام صرف اور صرف خداوندعالم کی ذات کا ھے۔

چنانچہ شکم مادر میں جو بچہ هوتا ھے کس طرح اپنی غذا حاصل کرتا ھے، کس طرح سانس لیتا ھے اور کس طرح اپنی حاجت کو پورا کرتا ھے ،کس طرح اپنے اندر موجود اضافی چیزوں کو باھر نکالتا ھے اور کس طرح اپنی ماں کے شکم سے جڑا هوتا ھے جس کی وجہ سے وہ غذا حاصل کرکے اپنی آخری منزل تک پهونچتا ھے، کیونکہ بچہ کی غذا اس تک پهونچنے سے پھلے کس طرح تیار هوتی ھے اور اس تک پهونچتی ھے یا جو غذا اس کے لئے باعث اذیت هوتی ھے کون سی چیز اس تک پهونچنے میں مانع هوتی ھے؟!

اور جب حمل (بچہ) اپنی آخری منزل پر پهونچ جاتا ھے تو پھر وہ کثیر غدد (رحم مادر)سے جدا هوجاتا ھے کیونکہ وہ غدد مختلف اغراض کے لئے هوتے ھیں ان میں سے بعض تو وہ هوتے ھیں جن کی وجہ سے رحم کھلتا او ربند هوتا ھے ان میں ھی سے بعض وہ هوتے ھیں جن کی وجہ سے بچہ پیر پھیلاسکتا ھے اور انھیں میں سے بعض وہ هوتے ھیں جن کی وجہ سے بچہ کی پیدائش طبیعی طور پر هونے میں مدد ملتی ھے۔

اور چونکہ پستان بھی ایک غدہ ھے اور جب حمل پورا هوجاتا ھے تو پھر اس میں دودھ پیدا هوجاتا ھے جو ھلکے زرد رنگ کا هوتا ھے اور واقعاً یہ عجیب چیز ھے کہ یہ دودھ ایسے کیمیاوی اجزا سے بنتا ھے جو بچے کو بہت سی بیماریوں سے بچاتا ھے لیکن یہ ولادت کے بعد ھی پیدا هوتا ھے اور واقعاً نظام قدرت کس قدر عظیم ھے کہ پستان مادر میں ھر روز اس دودھ میں اضافہ هوتا رہتا ھے اور اس دودھ کے اجزاء میں تبدیلی هوتی رہتی ھے کیونکہ شروع میں یہ پانی کی طرح هوتا ھے جس میں اجزاء رشد اور شکر کم هوتی ھے لیکن (بچہ کی ضرورت کے تحت) اس میں اجزاء رشد ونمو ، شکر اور چربی بڑھتی رہتی ھے۔

اور جب بچہ بڑا هوجاتا ھے تواس کے منھ میں دانت نکلنا شروع هوتے ھیں کیونکہ اس وقت بچہ کچھ کھانا کھاسکتا ھے چنانچہ انھیں دانتوں کو خدا کی نشانیوں میں شمار کیا جاتا ھے اور یہ بھی مختلف طریقہ کے هوتے ھیں کچھ کھانا کاٹنے کے لئے هوتے ھیں تو کچھ چبانے کے لئے اور ان میں چھوٹے بڑے بھی هوتے ھیں تاکہ کھانے کو اچھی طرح چبایا جاسکے، اگرچہ بعض ماھرین نے انسان کے مصنوعی دانت بنالئے ھیں یا دانتوں میں تبدیلی کے طریقے بنالئے ھیں لیکن وہ بھی خدا کی قدرت کا اقرار کرتے هوئے کہتے ھیں کہ انسان کے اصلی دانت ھی طبیعی نظام کو مکمل کرسکتے ھیں اگرچہ انھوں نے طبیعی دانتوں کی طرح مصنوعی دانت بنالئے ھیں ۔

اسی طرح جب بچہ کا دودھ چھڑایا جاتا ھے اور وہ کھانا کھانا شروع کردیتا ھے تو خداوندعالم کی بہت سی نشانیاں ظاھر هونے لگتی ھیں کیونکہ ھم دیکھتے ھیں کہ انسان کے اندر کتنی عجیب خلقت ھے جو انسان کی زندگی کو محفوظ کرتی ھے، مثلاً انسان کے منھ میں تین راستہ هوتے ھیں ایک ناک والا، ایک سانس والا اور ایک حلق والا راستہ هوتا ھے۔

چنانچہ آج کا علم طب کہتا ھے کہ اگرکچھ گرد وغبار سانس والے راستہ سے جانا چاھے تو وہ خود بخود رک جاتا ھے اس طرح سانس والے راستہ سے غذا بھی نھیں جاسکتی جبکہ یہ سب راستے ایک دوسرے سے ملے هوئے هوتے ھیں اور اگر غبار کا ایک ذرہ بھی (کھانے پینے کی چیزیں تو دور کی بات ھے) سانس والی نالی میں پهونچ جائے تو انسان فوراً مر جائے گا اور اس کام کے لئے ”چھوٹی زبان“ کا کردار عجیب وغریب ھے جو کھانے کے راستہ سے صرف غذائی چیزوں ھی کو جانے دیتی ھے اور اس زبان کی خلقت کتنی عجیب ھے کہ دن میں سیکڑوں مرتبہ انسان کھاتاپیتا ھے لیکن کبھی بھی یہ زبان غلطی نھیں کرتی بلکہ غذا کو اپنے مخصوص راستہ ھی سے اندرجانے دیتی ھے۔

اس کے بعد اس غذا کے ھاضمہ کی بات آتی ھے تو واقعاً کتنے منظم اور دقیق لحاظ سے یہ کھانا ہضم هوتا ھے کیونکہ ایک خاص مشین کی دقیق فعالیت کے ذریعہ کھانا ہضم هوتا ھے جو اس بات کی بہترین دلیل ھے کہ اس بہترین نظام کو خلق کرنے والی اللہ کی ذات ھے۔

کیونکہ انسان دن بھر مختلف چیزیں کھاتا ھے چاھے وہ بہنے والی هوں یا منجمد (جمی هوئی)، سخت هوں یا نرم، ھلکی هو ں یا بھاری، کڑوی وتیز هوں یا میٹھی، ٹھنڈی هوں یا گرم یہ سب کی سب صرف ایک ھی چیز اور ایک ھی طریقہ سے ہضم هوتی ھیں کیونکہ اس غذا پر ایک ترش (کڑوے) قسم کے غدہ سے کچھ رس نکلتا ھے جو اس غذا کو ہضم کرتا ھے او راگر یہ رس ذرا بھی کم هوجائے تو غذا ہضم نھیں هوگی اور اگر تھوڑا بھی زیادہ هوجائے تو انسان کا جسم جلنے لگے او رپورے بدن میں سوزش هونے لگے۔

اور جس وقت غذا منھ میں رکھی جاتی ھے تو ھاضمہ سسٹم کا پھلا کام شروع هوجاتا ھے کیونکہ یہ غذا لعاب دہن سے مخلوط هوتی ھے اور لعاب لعابی غدود سے نکلتا ھے جو کھانے کوہضم کرنے کا پھلا مرحلہ هوتا ھے کیونکہ جس طرح یہ لعاب کڑوی ، تیز اور تکلیف دہ چیزوں کے اثر کو ختم کرنے میں اصلی عامل ھے، اور اسی کی وجہ سے کھانے کے درجہ حرارت کو کم کیا جاتا ھے اور ٹھنڈی چیزوں کی ٹھنڈک کو کم کیا جاتا ھے چاھے وہ برف ھی کیوں نہ هو،بھرحال جب یہ غذا دہن میں اپنے لعاب کے ذریعہ خوب چباکر مھین کرلی جاتی ھے تووہ پھر وہ آہستہ آہستہ حلق تک پهونچتی ھے اس کے بعد آنتوں کے ذریعہ معدہ تک پهونچتی ھے، اور یہ معدہ ”کلور وڈریک حامض“ جدا کرتا ھے، کیونکہ یہ کلور معدہ سے خاص نسبت رکھتا ھے اور اس کی نسبت ہزار میں چار یا پانچ هوتی ھے، اور اگر اس حامض کلورکی نسبت زیادہ هوجائے تو پھر پورا نظام معدہ جل اٹھے گا،چنانچہ یھی کلور حامض مختلف اجزا میں جدا هونے کے بعد کھانے کو اچھے طریقہ سے ہضم کردیتا ھے، لہٰذا یہ آنتوں کا عصارہ اور عصارہ ٴ زردنیز ”بنکریاس“ وغیرہ یہ تمام عصارات اس غذا سے ملائمت رکھتے ھیں۔

اسی طرح آج کاسائنس یہ بھی کہتا ھے کہ وہ پانی جو معدہ او رآنتوں سے نکلتا ھے اس طرح وہ پانی جو ان کے پردوں میں هوتا ھے یہ دونوں ان اھم عاملوں میں سے ھیں جو مختلف قسم کے مکروب”Microbe سے لڑتے ھیں کیونکہ جب یہ عصارات (پانی) نکلتے ھیں تو دوسرے قسم کے پانی ان دونوں کے درمیان حائل هوجاتے ھیں اور ایک دوسرے سے ملنے نھیں دیتے یھاں تک وہ فضلہ کے ساتھ انسان سے خارج هوجاتے ھیں۔

چنانچہ ابھی چند سال پھلے تک یہ بات معلوم نھیں تھی کہ ان ”صمّاء غدوں“ (بھرے غدوں) کاکیا کام ھے۔

او رکیمیاوی چھوٹے عامل جسم کی ضروری ترکیبات کو پورا کرتے اور ان کے کروڑوں اجزاء هوتے ھیں، اور اگر ان میںسے کوئی ایک جزء بھی ناکارہ هوجائے تو انسان کا پورا جسم متاثر هوجاتا ھے کیونکہ ان غدوں سے نکلنے والا پانی جو ایک دوسرے کی تکمیل کا باعث هوتا ھے ،چنانچہ ان میں ذرا سا بھی اختلال، انسان کے لئے خطرہٴ جان بن جاتا ھے۔

اور واقعاً یہ بھی عجیب بات ھے کہ آج کا سائنس اس نتیجہ پر پهونچ چکا ھے کہ انسان کے جسم میں موجود انتڑیاں ساڑھے چھ میٹر کی هوتی ھیں او ران کے اندر دو طرح کی حرکت هوتی ھے:

۱۔ ”حرکت خلط“ جس کے ذریعہ کھانے کو اچھی طرح باریک کیا جاتا ھے اور آنتوں میں موجود مختلف قسم کے عصارات سے وہ کھانا بالکل ہضم هوجاتا ھے۔

۲۔ ہضم شدہ کھانے کو جسم کے مختلف اعضاء تک پهونچانا اور آنتوں میں جس وقت کھانا ہضم هوتا ھے تویہ کھانا دوحصوں میں تقسیم هوجاتا ھے ہضم شدہ کھانا (غذائیت) اور غلاظت، لہٰذا اس حرکت کی بنا پر انسان کے جسم سے صرف غلاظت باھر نکلتی ھے جس کے باقی رہنے سے کوئی فائدہ نھیں هوتا (بلکہ نقصان هوجاتا ھے)

اسی انسان کے جسم میں ان پیچیدہ مختلف کیمیاوی مادوں کے علاوہ دوسرے” میکروب “ “Microbe”، جراثیم”Virus” اور باکٹریا “Bacteria” بھی هوتے ھیں جیسا کہ ماھرین علم کا کہنا ھے کہ اگر میکروب اور جراثیم میں کسی قسم کا کوئی اضافہ هوجائے یا ان میں سے کوئی اپنا کام کم کرنے لگے یا ان کا تناسب کم وزیاد هوجائے تو انسان ھلاک هوجاتا ھے۔

اور یھی غدّے اور ان سے نکلنے والا مختلف قسم کا پانی ھی آٹومیٹک طریقہ سے کھانے کو مشکل سے آسان ، سخت سے نرم اور نقصان دہ سے فائدہ مند بنادیتے ھیں چنانچہ ماھرین علم نے معدہ کے اندر ان میکروب اور جراثیم کی تعداد ایک مربع سینٹی میٹر(C.M) میں ایک لاکھ بتائی ھے ۔

اسی طرح ھمارے پورے جسم پرجو کھال هوتی ھے اس کے اندرایسے سوراخ هوتے ھیں جن کے ذریعہ بدن سے فاضل پانی (پسینہ) نکلتا ھے لیکن قدرت کانظام دیکھئے کہ اس کھال کے سوراخوں سے باھر کا پانی اندر نھیں جاتا اور چونکہ فضا میں موجود جراثیم جب اس کھال کے اوپر حملہ آور هوتے ھیں تو یھی کھال ان کو مار ڈالتی ھے اور جب بیرونی جراثیم اس کھال پر غلبہ پانا چاہتے ھیں اور منطقہ جلدکو اکھاڑپھینکنا چاہتے ھیں تو یھاں پر ایک جنگ کا دور شروع هوجاتا ھے اور اس جگہ نگھبان جراثیم جو جلد کی حفاظت کی خاطر پائے جاتے ھیں وہ جلدی سے اس جنگ کے موقع پر حاضر هوجاتے ھیں اور اپنے دشمن کے اردگرد ایک مضبوط حصار بنادیتے ھیں اس کے بعد یاتویہ ان باھری جراثیم کو جسم سے دور کرنے میں کامیاب هوجاتے ھیں یا پھر ھمارے جسم کا نگھبان جراثیمی گروہ حملات کی تاب نہ لاکر موت کے گھاٹ اترجاتا ھے لیکن فوراً اس کے بعد جسم کا نگھبان دوسراگروہ حاضر هوجاتا ھے اور وہ بھی بیرونی جراثیم سے مقابلہ کرنا شروع کردیتا ھے اور جب یہ گروہ بھی تاب مقاومت کھوبیٹھتا ھے تو پھر تیسرا گروہ آتا ھے اسی طریقہ سے یکے بعد دیگرے بیرونی جراثیم سے مقابلہ کرنے کے لئے جسم کے نگھبان گروہ آتے رہتے ھیں یھاں تک کہ یہ نگھبان گروہ بیرونی جراثیم کوشکست دینے میں کامیاب هوجاتے ھیں، اور یہ جسم کے نگھبان گروہ خون کے ذرات هوتے ھیں ، جن کی تعداد تقریباً تیس ہزار بلین”Billion” (30,000,000,000,000,000,) هوتی ھے جس میں کچھ ذرے سفید هوتے ھیں اور کچھ سرخ۔

چنانچہ جب آپ کھال کے اوپر کسی سرخ پھنسی کو دیکھیں کہ جس کے اندر پیپ پیدا هوچکا ھے تو سمجھ لیں کہ وہ گروہ جوجسم کی حفاظت کے لئے مامور تھا وہ اپنے دشمن سے مقابلہ کرنے میں مرجاتا ھے کیونکہ یہ اپنے وظیفہ کی ادائیگی میں مارا گیا ھے اور یہ پھنسی کے اندر جو سرخی ھے یہ خون کے وھی ذرات ھیں جو اپنے خارجی دشمن کے سامنے ناکام هونے کی صورت میںپھنسی کی شکل میں پیدا هوگئے ھیں۔

اسی طرح اگر ھم کھال پر تھوڑی سی دقت کریں تب ھمیں اس کی عجیب خلقت کا احساس هوگا کیونکہ جب انسان اس خلقت پر توجہ کرتا ھے تو یھی انسان کا سب سے بڑا عضو دکھائی دیتا ھے چنانچہ ایک متوسط قامت انسان کی کھال تقریبا تین ہزار بوصہ (دو میٹر) هوتی ھے اور ایک مربع بوصہ میں دسیوں چربی کے غدے اور سیکڑوں عرق کے غدے اور سیکڑوں عصبی خلیے “Cells” هوتے ھیں جن میں چند هوائی دانہ هوتے ھیں اور ملیونوں خلیے هوتے ھیں۔

اور اس کھال کی ملائمت اور لطافت کے بارے میں اگر ھم بات کریں تو اس کو ھماری آنکھیں جس طریقہ سے دیکھ رھی ھیں در حقیقت یہ کھال ویسی نھیں ھے بلکہ اگر اس کو میکرواسکوپ”Maicroscope” کے ذریعہ دیکھیں تو یہ کھال اس سے کھیں زیادہ فرق رکھتی ھے جیسا کہ ھم دیکھتے ھیں، چنانچہ جب ھم اس میکرواسکوپ کے ذریعہ دیکھیں گے تو اس کے اندربہت سے ابھاراور بہت سے گڑھے نظر آئیں گے جیسے بال کی جڑوں کے سوراخ، جن کے اندر سے روغن نکلتا ھے تاکہ ھماری کھال کی سطح کو چربی مل سکے، اور انھیں جڑوں کے ذریعہ پسینہ نکلتا ھے اور یہ پسینہ وہ سسٹم ھے کہ جب درجہ حرارت شدید هوتا ھے تو جلد کو شدت گرمی سے محفوظ رکھتا ھے۔

اسی طرح اگر آپ کھال کے باھری حصہ کو میکرواسکوپ کے ذریعہ مشاہدہ کریں تو اس میں واضح طور پر ان اسباب کو دیکھیں گے جن کی وجہ سے کوئی چیز باھر نکلتی ھے، جس طرح پھاڑوں، پتھروں وغیرہ میں هوتے ھیں۔

اسی طرح ھمارے جسم کی کھال کجھلانے یا دھونے سے بعض چیزیں خارج هوتی ھیں، اور اس کھال سے بعض مواد کے خارج هونے کا نتیجہ یہ هوتا ھے کہ اس کھال پر ایک باریک پردہ پیدا هوتا ھے جس کو ھم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ھیں لیکن اگر اس کو میکرواسکوپ کے ذریعہ دیکھیں تو گویا بہت سے مردہ خلیے ھیں جو اپنی اصلی حالت کو کھوبیٹھے ھیں، چنانچہ ھر روز اسی طرح ھماری کھال پر ہزاروں باریک باریک پردہ بدلتے رہتے ھیں ،لیکن اگر یھی مردہ کھال تبدیل نہ هو تو انسان کی صورت مسخ شدہ حیوان کی طرح دکھائی دے، لہٰذا ان مردہ خلیوں او رمردہ کھال کے لئے ضروری ھے کہ یہ تبدیل اور تعویض هوتی رھے، تاکہ ان مردہ کھال کی جگہ نئی کھال آجائے، اور یہ سلسلہ اس زندگی میں چلتا رہتا ھے ، بھر کیف ھر جسم کے لئے اسی طرح کی کھال کا بدلتے رہنا ضروری ھے گویا یہ خلیوں کا ایک طبقہ هوتا ھے، جبکہ کھال کے اندر سے ان کی غذا ان تک پهونچتی رہتی ھے تاکہ دن میں لاکھوں خلیے بنتے رھیں اور مردہ هوکر باھر نکلتے رھیں۔

اسی طرح ھمیں انسان کے جسم کے بارے میں بھی توجہ کرنی چاہئے !کیونکہ اسی انسان کے کان کے ایک جز میں ایسا سلسلہ هوتا ھے جو چار ہزارباریک اور ایک دوسرے سے بندھے هوئے قوس(کمان) سے بنتا ھے، جو حجم اور شکل وصورت کے لحاظ سے ایک عظیم نظام کی نشاندھی کرتا ھے۔

چنانچہ ان کو دیکھ کر یہ کھا جاسکتا ھے کہ گویا یہ ایک آلہ ٴ موزیک ھے کیونکہ ان ھی کے ذریعہ انسان کی سنی هوئی باتیں عقل تک پهونچتی ھیں ، چاھے وہ معمولی آواز هو یا بجلی کی آواز سبھی کوعقل انسانی سمجھ لیتی ھے کہ یہ کس چیز کی آواز ھے۔

اسی طرح انسان میں عجیب وغریب گذشتہ چیزوں کے علاوہ دوسری چیزیں بھی موجود ھیں جیسے قوت سامعہ (کان)، قوت باصرہ، (آنکھ) قوت شامہ (ناک) اور انسانی ذوق، انسان کی ہڈیاں، رگیں، غدے، عضلات ونظام حرارت وغیرہ۔

المختصر یہ کہ طرح انسانی وجود میں ہزاروں دلیلیں موجود ھیں جو اس بات پر دلالت کرتی ھیں کہ انسانی جسم کا یہ نظام ایک اتفاق نھیں ھے اور نہ ھی اتفاقی طور پر پیدا هوگیا ھے اور نہ ھی ”بے جان مادہ“ کی حرکت کا نتیجہ ھے (جیسا کہ بعض لوگ کہتے ھیں)۔

ھم اس سلسلے کی اپنی بحث کے اختتام پر سائنس کے کشف شدہ نتیجہ پر ختم کرتے ھیں جو کہتا ھے کہ انسان کے جسم میں ایک عجیب وغریب سسٹم ھے جس کو ”کروموسوماٹ“ “Chromosomic” کھا جاتا ھے۔

کیونکہ ”کروموسوماٹ“ بہت ھی دقیق اور باریک ریشہ هوتا ھے جس کی تشکیل ایسے ذرات کرتے ھیں جن پر ایک باریک پردہ هوتا ھے اور وہ اپنے اطراف کی تمام چیزوں سے جدا ومحفوظ رہتا ھے، گویا یہ باریک ریشہ اپنے اس مقصد کے تحت اپنا پورا کام بغیر کسی رکاوٹ کے انجام دیتا رہتا ھے، لیکن یہ باریک پردہ دوسرے کیمیاوی مرکبات سے مل کر بغیر کسی رکاوٹ کے رشد ونموکرتے ھیں،جو”سیٹوپلازم“ “Cytoplasm”سے اس باریک پردہ کی طرف مندفع هوتے ھیں، تاکہ ان کیمیاوی مرکبات کے ذریعہ ”کروموسوماٹ“ سے اجزاء تشکیل پائیں، اور زندگی کے مورد نیاز عناصر کی تخلیق هوسکے۔

کیونکہ کروموسوماٹ کی ترکیب “D.N.A”کے اجزاء سے هوتی ھے جس کو ” وراثتی “Geneticcs”“ اجزاء بھی کھا جاتا ھے،اس کی وجہ سے انسان لمبا اور ناٹا هوتا ھے اور اسی کی بنا پر انسان کے جسم، آنکھ اور بالوں کا رنگ تشکیل پاتا ھے اور ان تمام سے بالا تر انسان کی آدمیت تشکیل پاتی ھے اور انھیں وراثتی اجزاء کی بناپر گھوڑے سے گھوڑا ھی پیدا هوتا ھے او ربندر سے بندر، چنانچہ اسی کے باعث ھر مخلوق اپنی خاص شکل وصورت پر پیدا هوتی ھے اور کروڑوں سالوں سے ھر مخلوق اپنی گذشتہ صنف کے مشابہ پیدا هوتی ھے، چنانچہ کبھی آپ نے یہ نہ دیکھا هوگا کہ کسی انسان سے گدھا متولد هوا هو، یا کسی گدھے سے بندر پیدا هوا هو؟! اور کسی درخت سے پھولوں کی جگہ پرندے پیدا هوئے هوں؟!!۔

کیونکہ یہ تمام صفات “D.N.A”کی بناپر هوتے ھیں۔

اوران ”جزیٴ“(اجزاء)کی تشکیل کا طریقہ کار بہت ھی عمدہ اور بہترین ھے ،اور یہ گول قسم کے هوتے ھیں اور باھم ملے ذرات سے مل کر کبھی تو ”ریبوز“ نامی سوگر “Sugar”پیدا هوتی ھے ، جس کا پتہ ماھرین آج تک نھیں لگاپائے کہ کھاں سے آتی ھے او رکیسے پیدا هوتی ھے، اور ریبوز”فاسفیٹ“”Phoohate” کے ذرات سے مرتبط ھے،اور یہ عمل کروڑوں مرتبہ تکرار هوتا ھے فاسفیٹ اور شوگر کے درمیان،اور اس کا ھمیشہ ایسے عمل کرتے رہنا ضروری ھے۔

چنانچہ اس شکل کے درجات کیمیاوی ماھرین کے تعریف سے کھیں زیادہ قیمتی ھیں، جو چار قوانین کے تحت تشکیل پاتے ھیں:

۱۔”آڈنین“۔

۲۔”ثمین“۔

۳۔”غوانین“

۴۔”سیٹوسین“

یھاں پرسوال یہ پیدا هوتا ھے کہ ان میں کا پھلا تیسرے سے یاچوتھے سے کیوں نھیں بدلتا؟ اور کون ھے جو اس میں مانع ھے؟

لہٰذا اس کے منع میں دوران ہندسہ ، دوری اور زاویہ مانع هوتے ھیں کیونکہ ان میں سے ھرایک کے لئے محدودیت ھے جو ان میں سے دوسرے کے علاوہ صرف ایک میں حلول کرتا ھے۔

اور شاید یہ عظمت اور خوبصورتی کے بہترین عکاس ھیںجو ان عملیات میں جو ایک نئے جز کے بنانے کے وقت آپ مشاہدہ کریں، چنانچہ یہ دائرہ نما شکل اپنے اطراف میں ملیونوںالٹے چکر لگاتی رہتی ھے جو آخر میں ایک بغیر بنی رسی نما بن جاتی ھے ، چنانچہ آج کا سائنس ابھی تک اس بات کو کشف کرنے سے عاجز ھے کہ اس میں ایسی طاقت کھاں سے آئی ؟!

اسی طرح کسی قادر کی قدرت کے ذریعہ اس چیز میں دو شگاف هوجاتے ھیں وہ بھی اس طرح جیسے کسی آری سے دوٹکڑے کردئے گئے هوں، اور ملیونوں مرتبہ یہ شگاف پیدا هوتا ھے تب جاکے کھیں اس ذرہ کی پیدائش هوتی ھے، اور پھر اس پردہ کی طرف سے جزئیات کے اندر یا شوگر، فوسفات، آڈینین، ثیمین، غوانین اور سیٹوسین کے اندر داخل هوتا ھے ، اور یہ تمام سوائے فوسفات کے علاوہ جادوئی طریقہ سے بن جاتے ھیںاس کے بعد اپنی شکل کے اطراف میں گھومنے لگتے ھیں، جبکہ ان میں سے بعض تو اس شکل کے دوسری (بیرونی) طرف گھومتے ھیں جن کی وجہ سے شوگر اور فوسفات بنتے ھیں اور ان سب سے مل کر اس کے دوبڑے جزء بنتے ھیں ، اور اس کے بعد ان عملیات کی دس کروڑبار تکرار هوتی ھے تب جاکے ایک شکل بنتی ھے اور پھر دسیوں کروڑ بار یہ عملیات جاری هوتے ھےں اسی طریقہ سے اس کی شکلیں بنتی جاتی ھیں تاکہ پروٹن کے ذرات تشکیل پائیں۔

جبکہ D.N.A. کے اجزاء انسان سے مخصوص نھیں ھیں بلکہ یہ تمام زندہ چیزوںکے مکروب سے لے کر حشرات او رھاتھی وغیرہ میں بھی پائے جاتے ھیں اور یھی اساسی او ربنیادی اجزاء ھیں جن کی بنا پرحیات مکمل هوتی ھے۔

حالانکہ علم کیمیاء نے اس بات کی وضاحت کی ھے کہ وہ قواعد جن کی بنا پر تمام چیزوں میںجو لازمی اجزاء هوتے ھیں تو وہ تمام کائنات میں ان کی ترکیب میں اختلاف نھیں هوتا، تو پھر سوال یہ پیدا هوتا ھے کہ یہ تمام کائنات کی چیزیں ایک دوسرے سے الگ کیوں ھیں؟!!

چنانچہ بعض ماھرین نے اس اختلاف کی وجہ یہ بتائی ھے کہ D.N.A.کے اجزاء کی مقدار اور گذشتہ چار قواعد کی بنا پر ان تمام چیزوں میں اختلاف پایا جاتا ھے۔

لیکن کسی بھی ماھر نے کوئی ایسی مطمئن بات نھیں بتائی جس کوانسان قبول کرسکے۔

کیونکہ جن ماھرین نے حیات کے اسرار کے بارے میں بہت سی کتابیں لکھیں ھیں ان سب میں ”شاید“ ، ”بالفرض“ ،”بسااوقات“ جیسے الفاظ استعمال کئے ھیں مثلاً شاید اس کی وجہ یہ ھے ،بالفرض اس کی وجہ یہ هو، جو اس بات پر بہترین دلیل ھے کہ وہ ابھی تک حیاتی اسرار سے پردہ نھیں اٹھاپائے ھیں۔

کیونکہ اس شکل میں کروموساٹ هوتے ھیںاور کروموساٹ ژین اور وراثتی اجزاء بنتے ھیں ، اور یہ وراثتی اجزاء D.N.A.کے اجزاء سے بنتے ھیں اور یہ D.N.A.جزئیات سے بنتے ھیں اور یہ جزئیات چھوٹے چھوٹے ذرات سے بنتے ھیں، گویا یہ ایک ایسی عمارت ھے جس کے اندر ایک کمرہ اس کمرہ میں ایک اور کمرہ اور اس کمرہ میں ایک اور کمرہ۔۔۔۔۔۔

وجود خدا پر قرآنی آیات

قارئین کرام ! آئےے قرآن مجید کی ان آیات کا مطالعہ کرتے ھیں جن میں خداوندعالم کے وجود کو بیان کیا گیا ھے کیونکہ درج ذیل آیات میں حیوانات کی خلقت اور دوسرے دقیق نظام کو بیان کیا گیا ھے جن کے مطالعہ کے بعد انسان کو یہ یقین هوجاتا ھے کہ حساب شدہ نظام یونھی اتفاقی طور پر پیدا نھیں هوا۔

ارشاد خداوندی هوتا ھے:

< وَاللّٰہُ خَلَقَ کُلَّ دَآبَّةٍ مِّنْ مَّاءٍ فَمِنْہُمْ مَنْ یَمْشِیْ عَلٰی بَطْنِہِ وَمِنْہُمْ مَنْ یَّمْشِیْ عَلٰی رِجْلَیْنِ وَمِنْہُمْ مَنْ یَّمْشِیْ عَلٰی اٴَرْبَعٍ یَخْلُقُ اللّٰہَ مَایَشَآءُ >[14]

”اور خدا ھی نے تمام زمین پر چلنے والے (جانوروں) کو پانی سے پیدا کیا اوران میں سے بعض تو ایسے ھیں جو اپنے پیٹ کے بل چلتے ھیں اور بعض ان میں سے ایسے ھیں جو دو پاؤں سے چلتے ھیں اور بعض ان میں سے ایسے ھیں جو چار پاؤں پر چلتے ھیں ، خدا جو چاہتا ھے پیدا کرتا ھے۔“

<وَمِنَ النَّاسِ وَالدَّوَآبِّ وَالاٴنْعَامِ مُخْتَلِفٌ اَلْوَانُہُ>[15]

”اور اسی طرح آدمیوں اور جانوروں اور چار پایوں کی بھی رنگتیں طرح طرح کی ھیں“

< وَمَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الاٴرْضِ وَلَا طٰٓٓائِرٍ یَّطِیْرُ بِجَنَاحَیْہِ اِلاّٰ اُمَمٌ اٴَمْثَالُکُمْ>[16]

”زمین میں جو چلنے پھرنے والا (حیوان) یا اپنے دونوں پروں سے اڑنے والا پرندہ ھے ان کی بھی تمھاری طرح جماعتیں ھیں“

< اَوَلَمْ یَرَوا اِلٰی الطَّیْرِ فَوْقَہُمْ صٰفٰتٍ وَیَقْبِضْنَ مَا یُمْسِکُھُنَّ اِلاَّ الرَّحْمٰنُ>[17]

”کیا ان لوگوں نے اپنے سروں پر پرندوں کو اڑتے نھیں دیکھا جو پروں کو پھیلائے رہتے ھیں اور سمیٹ لیتے ھیں کہ خدا کے سوا انھیں کوئی روکے نھیں رہ سکتا“

<وَالْاَنْعَامِ خَلَقَہَا لَکُمْ فِیْہَا دَفْ ء ٌوَّمَنَافِعُ وَمِنْہَا تَاْکُلُوْنَo وَلَکُمْ فِیْہَا جَمَالٌ حِیْنَ تَرِیْحُوْنَ وَحِیْنَ تَسْرِحُوْنَ o وَتَحْمِلُ اَثْقَالَکُمْ اِلٰی بَلَدٍ لَمْ تَکُوْنُوْا بَالِغَیْہِ اِلَّا بِشَقِّ الْاَنْفُسْ اِنَّ رَبَّکُمْ لَرَوٴُفٌ رَحِیْمْ o وَالْخَیْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِیْرَ لِتَرْکَبُوْہَا وَزِیْنَةً وَیَخْلُقُ مَا لٰا تَعْلَمُوْنَ >[18]

”اسی نے چار پایوں کو بھی پیداکیا کہ تمھارے لئے ان (کی کھال اور اُون ) سے جاڑوں (کاسامان) ھے اس کے علاوہ اور بھی فائدے ھیں اور ان میں سے بعض کو تم کھاتے هو اور جب تم انھیں سرِشام چرائی پر سے لاتے هو جب سویرے ھی چرائی پر لے جاتے هو تو ان کی وجہ سے تمھاری رونق بھی ھے اور جن شھروں تک بغیر بڑی جان کپھی کے پہنچ نہ سکتے تھے وھاں تک یہ چوپائے تمھارے بوجھ اٹھائے لئے پھرتے ھیں، اس میں شک نھیں کہ تمھاراپروردگار بڑا شفیق مھربان ھے اور (اسی نے) گھوڑوں ،خچروں اور گدھوں کو( پیدا کیا)تاکہ تم ان پر سوار هو اور (اس میں) زینت (بھی) ھے (اس کے علاوہ) اور چیزیں بھی پیدا کرے گا جن کو تم نھیں جانتے“

اقسام حیوانات

ماھرین علم نے حیوانوں کی بہت سی قسمیں بیان کی ھیں، اور ان حیوانوں کے رہنے کی جگہ بھی مختلف ھے مثلاً: خشکی، دریا جن میں مختلف حیوانات رہتے ھیں اور ان حیوانات کے مختلف طریقوں کے ساتھ ایک بہت بڑا اختلاف نظر آتا ھے کیونکہ ھر حیوان اپنی زندگی کے لئے ایک مخصوص گھر بناتا ھے او ران کی غذا بھی مختلف هوتی ھے۔

یہ منھ ھاضمہ کے لئے سب سے پھلا مرحلہ ھے اور اس کے لئے ایک عظیم فکر کی گئی ھے جو فکر وتصمیم گیری کرنے والے اور ان چیزوں کے خلق کرنے والے کی عظمت پر دلالت کرتی ھے۔

ان حیوانات میں کچھ ایسے ھیں جو صحرائی اور جنگلی هوتے ھیں جیسے شیر اور بھیڑئے ، ان کے لئے وھاں کوئی غذا نھیں هوتی مگر جس کا وہ شکار کرلیں چنانچہ ان کے لئے تیز اور سخت دانت اور بہت طاقتور ھاتھ اورپیروں کی ضرورت هوتی ھے تاکہ یہ شکار کرسکیں ،اسی طرح ان کے لئے پنجوںمیں طاقتور ناخن اور قوی ھاضمہ کا هونا ضروری ھے تاکہ گوشت اور اپنے سخت کھانے کو ہضم کرسکےں۔

اور کچھ حیوانات ایسے ھیں جو چراگاہ میں زندگی گذارتے ھیں جن سے انسان خدمت لیتا ھے انسان ان کے قوام کے لئے نباتات اور چھوٹے چھوٹے درختوں اور گھاس وغیرہ کے ذریعہ غذا فراھم کرتا ھے، چنانچہ ان کے ھاضمہ کاسسٹم ان کے جسم کے لحاظ سے بنایا گیا ھے ،اسی وجہ سے ان کے منھ نسبتاً بڑے هوتے ھیں، لیکن ان کا منھ کچھ مخصوص دانتوں سے خالی هوتا ھے، جن کے بدلے ان کو اللہ نے ایسے دانت دئے ھیں جن کے ذریعہ مختلف درختوں اور گھاس وغیرہ کو بہت جلد کھا جاتے ھیں، اور اس کو ایک دفعہ میں نگل جاتے ھےں لیکن اس کے ہضم کے لئے عجیب مشین موجود ھے ،وہ جو کچھ بھی کھاتے ھےں وہ معدہ میں جاتا ھے جو کھانے کا مخزن ھے اور جب حیوان کھانا کھالیتا ھے اور آرام کے لئے بیٹھتا ھے تو پھر یہ کھانا معدہ سے ایک دوسرے” تجویف“نامی جگہ کی طرف چلا جاتا ھے اور پھراس معدہ کے منھ تک آتا ھے تاکہ ا سکو اچھی طرح کوٹ لے اس کے بعد پھر ایک دوسری تجویف میں چلا جاتا ھے اور پھر چوتھی بار بھی اسی طرح هوتا ھے کیونکہ یہ تمام فعالیت حیوان کے لئے فائدہ مند هوتی ھے۔

چنانچہ آج کے سائنس کا کہنا ھے کہ حیوان کے جسم کے لئے جگالی کرنا نھایت ضروری اور حیاتی ھے کیونکہ گھاس کا ہضم هونا ایک مشکل کام ھے کیونکہ اس میں ایسے اجزاء اور سلیلوز هوتے ھیں جن پر سبزی کے خلیے کے غلاف هوتے ھیںجن کو ہضم کرنے کے لئے حیوان کو کافی وقت کی ضرورت هوتی ھے اور اب اگر یہ حیوان جگالی نہ کرے اور اس کے لئے حیوان کے پاس مخزن نہ هو تو اس صورت میں حیوان کا چارہ چرنے میں کافی وقت ضایع هوگا یھاں تک وہ صبح سے شام تک بھی چرتا رھے گا تب بھی پیٹ نہ بھرے گالہٰذا حیوان کی غذا ہضم هونے کے لئے ضروری ھے کہ اس کے پاس ایک ایسا مخزن هو جس میں وہ اپنی غذا کو جگالی کے ذریعہ تحلیل کرے تاکہ بدہضمی کا شکار نہ هو اور یہ غذا اس کے لئے سود مند ثابت رھے۔

لیکن پرندوں کے ھاضمہ کا سسٹم مذکورہ حیوانوں سے بالکل الگ هوتاھے کیونکہ ھر پرندہ کی صرف ایک چونچ هوتی ھے جس میں ہڈی نما دانت بھی هوتے اوران کے نہ منھ هوتا ھے اورنہ هونٹ هوتے ھیں چنانچہ پرندہ غذا کو بغیر چبائے کھاتا ھے۔

ان پرندوں کی غذا کی طرح ان کی چونچ بھی الگ الگ طرح کی هوتی ھیں ان میں جو شکاری پرندے هوتے ھیں ان کی چونچ قوی اور لمبی هوتی ھے تاکہ گوشت کو خوب کوٹ لیں اور ”بطخ“ اور” ہنس“ کی چوڑی چونچ هوتی ھیں تاکہ وہ اپنی غذا مٹی اور پانی دونوں سے تلاش کرسکیں اور چونچ کے اطراف میں چھوٹی چھوٹی کچھ اضافی چیز بھی هوتی ھے (جس طرح چھوٹے چھوٹے دانت) جو ان کی غذا کے کاٹنے میں مدد کرتی ھیں لیکن چڑیا ،کبوتر اور دوسرے پرندوں کی چونچ چھوٹی هوتی ھیں تاکہ وہ اپنے ہدف تک پهونچ سکیں۔

ان کے علاوہ بھی ھم اس مخلوقات کی عظیم او رمنظم چیزوں کا مشاہدہ کرتے ھیں مثلاً حیوانات کے پیر، جن کی وجہ سے حیوان چلتا پھرتا، دوڑتااور بوجھ اٹھاتا ھے، کیونکہ یھی پیر حیوان کو تیز دوڑنے کی صلاحیت عطا کرتے ھیں اورحیوان کے ھر پیر میںکُھر هوتے ھیں جو دوڑتے وقت احتمالی ضرر سے محفوظ رکھتے ھیں۔

لیکن گائے اور بھینس کے پیر چھوٹے اور مضبوط هوتے ھیںجن میں کھُر هوتے ھیں جو زراعتی اور نرم زمین پر چلنے میں مدد کرتے ھیں، اسی طرح اونٹ کے پیر اس قسم کے هوتے ھیں جو اس کو ریت پر چلنے میں مدد کرتے ھیں اسی طرح اس کے پیروں پر موٹی اورسخت کھال هوتی ھے جو اس کو کنکریوں اور ریت پر بیٹھنے میں مدد کرتی ھے۔

اسی طرح پرندوں کے پیر بھی ان کی طبیعت کے لحاظ سے مختلف هوتے ھیں چنانچہ ان میں سے بعض گوشت خوار هوتے ھیں اور ان کے پنچے سخت او رمضبوط هوتے ھیں تاکہ وہ شکار کرنے میں ان کی مدد کریں جیسے باز اور گدھ،لیکن وہ پرندے جو اناج اور دیگر دانے وغیرہ کھاتے ھیں جیسے مرغ اور کبوتر ان کے پنچوں میں ا یسے ناخن هوتے ھیں جن سے صرف زمین کھود سکتے ھیں (تاکہ اس میں چھپے دانوں کو نکال سکےں)، لیکن وہ حیوانات جو اپنی غذا پانی میں تلاش کرنے پر مجبور ھیں ان کی انگلیوں کے درمیان ایک پردہ هوتا ھے جس کی وجہ سے وہ پانی میں تیر کر اپنی غذا تلاش کرتے ھیں۔

اسی طرح انھی عجیب وغریب خلقت میں سے مینڈھک کی خلقت بھی ھے ، کیونکہ اس کی زبان دوسرے زندہ موجودات سے لمبی هوتی ھے اور اس کی لمبائی اس کے قدکے نصف هوتی ھے اور اس میں چپک هوتی ھے جس سے وہ مکھیوں کا آسانی سے شکار کرتا ھے، کیونکہ مینڈھک بالکل کوئی حرکت نھیں کرتا مگر یہ کہ مکھی اس کے قریب هوجائے اور جب زبان باھر نکالتا ھے تو اپنے سامنے موجود مکھیوں کا شکار کرلیتا ھے۔

اور واقعاً مینڈھک میں یہ بات کتنی عجیب ھے کہ اگر اس میں وہ گردن نہ هوتی جس سے وہ اپنے سر کو حرکت دے کر اپنے اطراف میں دیکھتا ھے تو پھر اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جاتیں جو چاروں جانب (گردن کے حرکت کرنے کی بنا پر) حرکت کرتی ھیں۔

قارئین کرام ! آج کے سائنس نے یہ بات کشف کی ھے کہ اکثر پستاندار “Mammals”حیوانات میں” قوہٴ شامہ“ (سونگھنے کی قوت)قوی هوتی ھے برخلاف قوت باصرہ کے، جبکہ پرندوں میں دیکھنے کی قوت زیادہ تیز اور قوی هوتی ھے اور اس کا راز یہ ھے کہ حیوانات کی غذا معمولاً زمین پر هوتی ھے اور وہ اس کو سونگھ کر حاصل کرسکتے ھیں لیکن پرندے معمولاً آسمان میں پرواز کرتے ھیں لہٰذا ان کو اپنی غذا کی تلاش میں تیز آنکھوں کی ضرورت هوتی ھے، تاکہ وہ دور سے اپنی غذا کو دیکھ سکیں۔

لیکن ”مُحّار“(ایک دریائی حیوان) جس کی آنکھیں ھماری طرح هوتی ھیں البتہ ھماری صرف دو آنکھیں هوتی ھیں لیکن اس کی کئی عدد هوتی ھیں اور ان میں لاتعداد چھوٹی چھوتی پتلیاں هوتی ھیں جن کا احصاء ممکن نھیں ، اور کھا یہ جاتا ھے کہ ان کی مدد سے داہنے سے اوپر کی طر ف دیکھ سکتی ھیں، اور چھوٹی چھوٹی پتلیاں انسانی آنکھوں میں نھیں پائی جاتیں، تو کیا یہ پتلیاں اس محار میں اس وجہ سے هوتی ھیں کہ اس میں انسان کی طرح سوچنے کی صلاحیت نھیں هوتی؟ اسی طرح کھا یہ جاتا ھے کہ بعض حیوانوں میں دو آنکھیں اور بعض میں ہزار آنکھیں هوتی ھیں جو سب کی سب الگ هوتی ھیں تو کیا طبیعت علم مرئیات میں اتنے عظیم مرتبہ پر فائز ھے۔؟! یعنی کیا یہ تمام کی تمام دقیق اور حساب شدہ چیزیں بغیر کسی خالق کے وجود میں آسکتی ھیں؟!!

اسی طرح مچھلی میں عجیب وغریب حس پائی جاتی ھے جس کی بنا پر دریاؤں کے پتھروں اور دوسری چیزوں سے نھیں ٹکراتی ، چنانچہ بعض ماھرین نے اس سلسلہ میں غور وخوض کرکے یہ نتیجہ پیش کیا ھے کہ مچھلی کے دونوں طرف ایک طولانی خط (لکیر) هوتا ھے ، جبکہ یہ خط اتنا باریک هوتا ھے کہ صرف دوربین ھی کے ذریعہ دیکھا جاسکتا ھے اور اس میں قوت حس کے بہت سے اعضاء هوتے ھیں چنانچہ مچھلی انھیں کے ذریعہ پتھر یا کسی دوسری چیز کا احساس کرلیتی ھے جب پانی پتھروں اور دوسری چیزوں سے ٹکراتا ھے اور یہ پتھر وغیرہ کو دیکھ کر اپنا راستہ بدل دیتی ھے۔

اسی طرح چمگادڑکی خلقت بھی کتنی عجیب وغریب ھے جیسا کہ ماھرین نے اس پر توجہ دلائی ھے، یہ چمگادڑ رات میں اڑتا ھے لیکن اپنے راستہ میں کسی مکان ، درخت یا کسی دوسری چیز سے نھیں ٹکراتا،چنانچہ اٹلی کے ایک ماھراور سائنسداں نے اس کی قدرت کے سلسلہ میں تحقیق کی، اس نے ایک کمرے میں کچھ رسیاں باندھیں، ھر رسی میں ایک چھوٹی گھنٹی باندھی کہ اگر رسی سے کوئی بھی چیز ٹکرائے تو وہ گھنٹی بجنے لگے ، اس کے بعد اس نے کمرے کو بالکل بند کردیا اور اس میں چمگادڑ کو چھوڑ دیا چنانچہ چمگادڑ اس کمرے میں اڑنے لگا لیکن کسی بھی گھنٹی کی کوئی آواز سنائی نہ دی، یعنی وہ کسی بھی رسی سے نھیں ٹکرایا ، اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ چمگادڑ میں ایسی طاقت هوتی ھے کہ جب وہ اڑتاھے تو اس کے اندر سے ایک ایسی آواز نکلتی ھے جو کسی بھی چیز سے ٹکراکر واپس آتی ھے اور اسی واپس آئی آواز کے ذریعہ وہ اس چیز کا احساس کرلیتا ھے ، پس ثابت یہ هوا کہ اس کے احساس کا طریقہ بالکل ”راڈار“ کی طرح ھے۔

اسی طرح اونٹ کی خلقت بھی بڑی عجیب ھے،چنانچہ اس کو خدا کی عظیم نشانیوں میں شمار کیا جاتا ھے جیسا کہ خداوندعالم نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:

<اٴفَلاٰ یَنْظُرُوْنَ اِلَی الْاِبِلِ کَیْفَ خُلِقَتْ>[19]

”تو کیا یہ لوگ اونٹ کی طرف غور نھیں کرتے کہ کیسا (عجیب) پیدا کیا گیا ھے“

چونکہ اونٹ کی زندگی زیادہ تر جنگل اور ریگستان میں بسر هوتی ھے چنانچہ خداوندعالم نے اس کو ایسا خلق کیا ھے جس سے وہ ایک طولانی مدت تک بغیر کچھ کھائے پئے رہ سکے، اور اپنی بھوک وپیاس پر کافی کنٹرول رکھ سکے۔

اسی طرح اونٹ کی لمبی اور گھنی پلکیں هوتی ھیں جن کی بنا پر شدید طوفان او رآندھی میں بھی اپنی آنکھیں کھولے رکھتا ھے اور اس کی آنکھیں محفوظ رہتی ھیں ، اور جس طرح ھم آندھی کے وقت اپنی آنکھوں کے بند کرنے پر مجبور هوتے ھیں وہ اپنی آنکھوں کو بند کرنے پر مجبور نھیں هوتا۔

اسی طرح اس کے پاؤں اس طرح نرم هوتے ھیں جن سے وہ ریت پر آسانی سے چل سکتا ھے اور اس کے پیر ریت اور ریگستان میں نھیں دھنستے، اور اس کی ناک بھی آندھی کے وقت کھلی رہتی ھے لیکن پھر بھی اس میں کوئی گرد وغبار نھیں جاتا، اور اس کا اوپر والا هونٹ نکلا هوا هوتا ھے تاکہ اس کے ذریعہ کانٹوں والی گھاس وغیرہ کا آسانی سے پتہ لگاسکے۔

اسی طرح چیونٹی کی خلقت بھی کتنی عجیب ھے چنانچہ چیونٹی میں بہت سی خدا کی نشانیاں بتائی جاتی ھیں، کیونکہ اس میں فھم وادراک، صبراور احساس اس قدر هوتا ھے کہ کوئی شخص اس کے چھوٹے سے جسم اور حجم کو دیکھنے کے بعد نھیں سمجھ سکتا، اور شاید آج کی بہت سی جدید چیزیں اسی میں غور وفکر کرنے سے وجود میں آئی ھیں کیونکہ اس کی خلقت میں بہت ھی دقت اور نظم وترتیب کا لحاظ رکھاگیا ھے۔

چنانچہ بعض چیونٹی سردی کے زمانہ میں دوسری ان چیونٹیوں کے لئے کھانے دانے کا انتظام کرتی ھیں جو باھر نھیں نکل سکتیں، اسی طرح ان میں سے بعض وہ هوتی ھیں جو دانوں کاآٹا بناتی ھیںاور وہ ھمہ وقت اسی کام میں مشغول رہتی ھےں۔

اور بعض چیونٹیاں ایسی هوتی ھیں جن کی فطرت میں کھانا کھانے کا مخصوص گھر بنانے کا میلان هوتا ھے ، جن کو کھانے کا باغیچہ کھا جاسکتا ھے اور وھاں پر مختلف کیڑے مکوڑوں کا شکار کرکے لاتی ھیںاور وھاں پر آرام سے بیٹھ کر کھاتی ھیںان میں سے بعض ان شکار شدہ کیڑے مکوڑوں کے اندر سے ایک طریقہ کا رس نکالتی ھیں جو شہد کے مشابہ هوتا ھے تاکہ اس کا کھاتے وقت مزہ لیں۔

اسی طرح ان میں سے بعض وہ بھی هوتی ھیں جو اپنے گروہ کوایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتی ھیں اور ان میں محافظ کا کام کرتی ھیں ، نیز بعض چیونٹیاں اپنے لئے گھر بنانے کی ذمہ داری نبھاتی ھیں جبکہ دوسری چیونٹیاں اس طرح کے پتّے کاٹتی ھیں جو ان کے اندازہ کے مطابق هوتے ھیں،اور ان میں سے بعض اپنے گھر کے اردگرد پھرہ داری کرتی ھیں۔

قارئین کرام ! ان تمام تفصیلات کے پیش نظر کیا مادہ کے لئے یہ ممکن ھے کہ وہ اتنی دقیق چیزوں کو پیدا کرے جن میں ایک چیونٹی بھی ھے جو اتنے دقیق حساب وکتاب سے رہتی ھے؟

پس ان تمام چیزوں کے پیش نظر حیوانات قابل توجہ ھیں چنانچہ قرآن مجید نے اس بارے میں پھلے ھی بیان کردیا ھے، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ هوتا ھے:

< حَتَّی إِذَا اٴَتَوْا عَلَی وَادِی النَّمْلِ قَالَتْ نَمْلَةٌ یَااٴَیُّہَا النَّمْلُ ادْخُلُوا مَسَاکِنَکُمْ لاَیَحْطِمَنَّکُمْ سُلَیْمَانُ وَجُنُودُہُ وَہُمْ لاَیَشْعُرُونَ >[20]

”یھاں تک کہ جب (ایک دن) چیونٹیوںکے میدان میں آنکلے توایک چیونٹی بولی اے چیونٹیو ! اپنے اپنے بلوں میں گھس جاؤ ایسا نہ هو کہ سلیمان اور ان کا لشکر تمھیں روند ڈالے اور انھیں خبر بھی نہ هو۔“

اس کے صدیوں بعد کھیں علم نے ان حقائق اور معلومات کو ثابت کیا ھے۔

قارئین کرام ! مذکورہ حیوانات کے علاوہ اور بھی بہت سی مختلف قسم کے حیوانات اور جانور هوتے ھیں،مثلاً یھی مرغ جس سے ھم زیادہ سروکار رکھتے ھیں ان کی آواز بھی مختلف هوتی ھے چنانچہ جب مرغی چھوٹے بچوں کو دانے ملنے کی بعد آواز لگاتی ھے تو اس کی آواز اور هوتی ھے اسی طرح جب ان کو اپنے گھر کی طرف بلاتی ھے تو اس کی آواز کچھ اور هوتی ھے۔

اسی طرح شہد کی مکھی جب کھیں پھولوں والی زمین میں جاتی ھے تو اپنے ایک خاص انداز میں گھومتی ھے جیسے انگریزی میں “8”کا هوتا ھے اور پھول میں شہد هوتا ھے تو اس کو حاصل کرلیتی ھے۔

چنانچہ ایک ماھر دانشور جس نے چیونٹی کے متعلق تحقیق کی ھے وہ کہتا ھے کہ میں نے ایک چیونٹی کو اپنے بل سے دور دیکھا جس نے اپنے ڈنک سے ایک مکھی کاشکار کیا اور اس کو تھوڑی دیر کے لئے وھیں پر ڈال دیا تقریباً بیس منٹ بعد جب اس کومکھی کے مرنے کا یقین هوگیا تو اس کو اٹھاکر اپنے بل کی طرف چلنا شروع کیا ، لیکن جب اس میں لے جانے کی طاقت نہ رھی تو اس نے تنھا جاکراپنے ساتھیوں کو باخبر کیا تو ان چیونٹیوں کا ایک گروہ اس کے ساتھ نکلا یھاں تک کہ سب نے مل کر اس کے ٹکڑے ٹکڑے کرڈالے اور پھر سبھوں نے اس کے مختلف اجزاء کو اٹھایا،اور اپنے بل میں لے گئیں، اب یھاں سوال یہ پیدا هوتا ھے کہ جب وہ پھلی چیونٹی ،تنھا بغیر کچھ لئے اپنے بل میں گئی تو اس کے ساتھ کوئی ایسی چیز نہ تھی جس کو دیکھ کر دوسری چیونٹیوں کو اس شکار کے بارے میںمعلوم هوتا تو پھر اس چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں کو کس زبان میں باخبر کیا کہ میںنے ایک بہترین شکار کیا ھے آؤ مدد کرو تاکہ اس کو اپنے بل میں لے آئیں۔(پس معلوم هوا کہ ان کی بھی ایک خاص زبان ھے جس سے وہ سمجھتی اور سمجھاتی ھیں)۔

اسی طرح آپ ھاتھی کی خلقت پر غور کریں تو اس میں بھی عجیب وغریب قدرت کے آثار ملاحظہ کریں گے مثلاًھاتھیوں کا جھنڈ جب ایک ساتھ چلتا ھے تو ان کے درمیان سے مسلسل ھمھمہ کی آواز آتی رہتی ھے لیکن جب یھی ھاتھی اپنے گروہ سے جدا هوکر الگ الگ چلتے ھیں توان کی وہ آواز ختم هوجاتی ھے، آخر ایسا کیوں ھے؟!۔

اسی طرح جناب کوے کی آواز کس قدر مختلف اور بامفهوم هوتی ھے چنانچہ وہ خطرہ کے وقت رونے جیسی آواز نکالتا ھے تاکہ اس کے دوسرے ساتھی خطر ہ سے مطلع هوجائیں ، اور یھی کوا جب کوئی خوشی کامقام دیکھتا ھے تو ایسی آواز نکالتا ھے جو قہقہہ اور ہنسی سے مشابہت رکھتی ھے۔

قارئین کرام ! حیوانات میں کوئی ایسی زبان نھیں ھے جس کو سب سمجھتے هوں ، بلکہ ان میں سے ھر صنف کی الگ الگ زبان هوتی ھے، مثلاً آپ مکڑی کو دیکھیں ، یہ جب جالا بناتی ھے تو اس جالے کے تار ان کے درمیان گفتگو کاوسیلہ بنتے ھےں، چنانچہ کھا جاتا ھے کہ جب جالے کے ایک طرف مذکر اور دوسری طرف مونث هو تو اسی جالے کے تارکے ذریعہ ان کے درمیان تبادلہ خیالات هوتا ھے،اور اس کی مادہ اپنے شوھر کے استقبال کے لئے اسی جالے کے تار کے ذریعہ رابطہ قائم کرتی ھے، جس طرح آج کل فون کے ذریعہ گفتگو کی جاتی ھے۔

اور جب ھم مرغی کو دیکھتے ھیں تو اس کے اندر الٰھی شاہکار کی بہت سی عحیب وغریب نشانیاں پاتے ھیں، چنانچہ ھمارے لئے درج ذیل حقائق پر نظرکرکے خالق خائنات کی معرفت حاصل کرنا ھی کافی ھے:

ایک امریکی ماھر نے مرغی کے انڈے سے بغیر مرغی کے بچہ نکالنا چاھا ،چنانچہ اس نے انڈے کو ایک مناسب حرارت (گرمی) میں رکھا ، جس مقدار میں مرغی انڈے کو حرارت پهونچاتی ھے ، لہٰذا اس نے چند عدد انڈوں کو جمع کرکے ایک مشین میں رکھا ،وھاں موجود ایک کاشتکار نے اس کو بتایا کہ انڈوں کو الٹتا پلٹتا رھے، کیونکہ اس نے مرغی کو دیکھا ھے کہ وہ انڈوں کو الٹتی پلٹتی رہتی ھے، لیکن اس ماھر نے اس کاشتکار کا مذاق اڑاتے هوئے کھا کہ مرغی اس لئے انڈے کو بدلتی ھے تاکہ اپنے جسم کی گرمی انڈے تک پهونچاتی رھے،الغرض اس نے انڈوں کو چاروں طرف سے حرارت پهونچانے والی مشین میں رکھا لیکن جب انڈوں سے بچے نکلنے کا وقت آیا تو کوئی بھی انڈا نہ پھٹا تاکہ اس سے بچہ نکلتا، (وہ حیران هوگیا) اور دوبارہ اس نے کاشتکار کے کہنے کے مطابق انڈوں کو مشین میں رکھ کر بچے نکلنے کی مدت تک ان کو الٹتا پلٹتا رھا، چنانچہ جب ان کا وقت آیا تو انڈے پھٹ گئے اور ان سے بچے نکل آئے۔

مرغی کے انڈوں سے بچے نکلنے میں الٹ پلٹ کرنے کی ایک دوسری علمی وجہ یہ ھے کہ جب انڈے کے اندربچہ بن جاتا ھے تو اس کی غذائی موادنیچے کے حصہ میں چلی جاتی ھے اب اگر اس کو مرغی نہ گھمائے تو وہ انڈا پھٹ جائے ، یھی وجہ ھے کہ مرغی پھلے اور آخری دن انڈوں کو نھیں پلٹتی کیونکہ اس وقت پلٹنے کی ضرورت نھیں هوتی ، پس کیا یہ تصور کیا جاسکتا ھے کہ ان اسرار کو وہ بغیر کسی الٰھی الھام کے سمجھتی ھے، جس کے سمجھنے سے انسان بھی قاصر ھے؟

چنانچہ یھی الٰھی الھام ھے جس کی بنا پر پانی میں رہنے والے جانور بالخصوص سانپ اپنی جگہ سے ہجرت کرکے دور درازگھرے سمندروں میں جیسے ”جنوبی برمودا “ چلے جاتے ھیں ، پس یہ کتنی عجیب مخلوق ھے کہ جب ان کا رشد ونمو مکمل هوجاتا ھے تو دریاؤں سے ہجرت کرکے مذکورہ سمندروں میں چلے جاتے ھیں ،وھیں انڈے دیتے ھیں اور کچھ مدت کے بعد مرجاتے ھیں لیکن ان کے بچے جو اس جگہ کے علاوہ کسی دوسری جگہ کو نھیں پہنچانتے یہ لوگ اس راستہ کی تلاش میں رہتے ھیںکہ جدھر سے ان کے والدین آئے تھے، اس کے بعد سمندری طوفان اور تھپیڑوں سے مقابلہ کرتے هوئے اپنے آبائی وطن پهونچ جاتے ھیں اور جب ان کا رشد ونمومکمل هوجاتا ھے تو ان کو ایک مخفی الھام هوتا ھے کہ وہ جھاں پیدا هوئے تھے وھی جائیں ، لہٰذا ان چیزوں کو ملاحظہ کرنے کے بعد یہ سوال پیدا هوتا ھے کہ ایسی کون سی طاقت ھے جو ان کو اس طرح کا الھام عطا کرتی ھے؟!، چنانچہ یہ کھیں نھیں سنا گیا ھے کہ امریکی سمندروں کے سانپ یورپی سمندر میں شکار کئے گئے هوں، یا اس کے برعکس، اور قابل توجہ بات یہ ھے کہ یورپی سانپوں کا رشد دیگر سانپوںکی بنسبت ایک سال یا اس سے زیادہ کم هوتا ھے، کیونکہ یہ لوگ طولانی مسافت طے کرتے ھیں۔

بھرحال ان تمام چیزوں پر غور کرنے کے بعد سوال یہ پیدا هوتا ھے کہ ان سانپوں کے اندر یہ طاقت اور فکرکھاںسے آئی جس کی بناپر یہ سب اپنی سمت، سمندر کی گھرائی وغیرہ کو معین کرتے ھیں،لہٰذا کیا یہ تصور کیا جاسکتا ھے کہ یہ سب ”بے جان مادہ“کی مخلوق ھیں؟!!

اسی طرح الٰھی الھام کی وجہ سے مختلف پرندے جب بڑے هوجاتے ھیں تو اپنے والدین کی طرح اپنے لئے الگ آشیانہ بناتے ھیں اور وہ بھی بالکل اسی طرح جس میں وہ رہتے چلے آئے ھیں، یعنی ان کے گھونسلوں میں کوئی فرق نھیں پایا جاتا۔

یھی الٰھی الھام ھے کہ جس کی بنا پر بعض حیوانات کے اجزاء کٹنے یا جلنے کے بعد دوبارہ اسی طرح سے بن جاتے ھیں، مثلاًجب سمندری سرطان (کیکڑا) اپنے جسم کے پنجوں کو ضائع کربیٹھتا ھے تو جلد ھی ان خلیوں کی تلاش میں لگ جاتا ھے جو اس کے پنجوں کی جگہ کام کریں اور جب خلیے بھی ناکارہ هوجاتے ھیں تووہ سمجھ جاتا ھے کہ اب ھمارے آرام کرنے کا وقت آپہنچاھے، اور یھی حال پانی میں رہنے والے دیگر جانوروں کا بھی ھے۔

اسی طرح ایک دریائی حیوان جس کو ”کثیر الارجل“(بہت سے پیر والا)کہتے ھیں اگر اس کے دوحصہ بھی کردئے جائیں تو اس میں اتنی صلاحیت هوتی ھے کہ اپنے باقی آدھے حصے سے دوسرا حصہ بھی مکمل کرلے۔

اسی طرح ”دودة الطعم“نامی کیڑے کی اگر گردن کاٹ دی جائے تووہ اس سر کے بدلے میں ایک دوسرا سر بنا لیتا ھے، جس طرح جب ھمارے جسم پر کوئی زخم هوجاتا ھے یا گوشت کا ٹکڑا الگ هوجاتا ھے تو وہ آہستہ آہستہ صحیح هوجاتا ھے اور جب یہ زخم بھرتے ھیں تو پتہ چلتا ھے کہ یہ خلیے کس طریقہ سے حرکت کرتے ھیں جن کے نتیجہ میں نیا گوشت، نئی ہڈی اور نئے ناخن یا کوئی دوسرا جز بن جاتا ھے۔

قارئین کرام ! حشرات کی دنیا بھی کیا چیز ھے چنانچہ اس میں غور وفکر کرنے کے بعد انسان کو تعجب هوتاھے، اور شاید ان کی ”شناخت غرائز“ کے بعد ان کی تفصیل ھمارے سامنے مجسم هوجائے۔

کیونکہ ”ابو دقیق “ حشرہ جو کرم کلے (بندگوبھی) میں پایا جاتا ھے اور اس میں انڈے دیتا ھے جبکہ وہ بند گوبھی کو نھیں کھاتا لیکن اس کے اندر ایک ایسا غریزہ هوتا ھے جس کی بناپر اس کا انتخاب کرتا ھے ، چنانچہ جب اس کے انڈوں سے بچے نکلتے ھیں وہ بند گوبھی کو کھاجاتے ھیں ، پس معلوم یہ هوا کہ یہ کیڑاانڈے دینے کے لئے بند گوبھی کا اس لئے انتخاب کرتا ھے تاکہ اس کے بچوں کو مخصوص غذا مل سکے۔

تو کیا یہ ابو دقیق نامی کیڑا اس مسئلہ کو عقلی طور پر سمجھتا ھے؟!

اسی طرح ”زنبور الطین“ (انجن ھاری،جس کو کمھاری بھی کہتے ھیں) جو کیڑے مکوڑوں کا شکار کرتی ھے اور اپنے مٹی کے چھتے میں لے جاتی ھے تاکہ کھانے کے لئے گوشت جمع رھے، اوراس کے بعداس پر ایک انڈا دیتی ھے، اس کو اپنے گھر میں رکھ دیتی ھے ، پھر گارے مٹی کی تلاش میں نکلتی ھے جب اس کو مل جاتی ھے تو اس سے اپنے گھر کا دروازہ بند کردیتی ھے تاکہ جب انڈے پھٹنے کا وقت آئے اور بچے باھر نکلےں تو ان کا کھانے پھلے سے موجود رھے۔

اسی طرح وہ مچھر جو پانی پر اپنے انڈے دیتے ھیںلیکن کبھی بھی اس کے انڈے بچے پانی میں ضایع نھیں هوتے تو کیا یہ مچھر قوانین ”ارشمیڈس“کو جانتا ھے۔

اسی طرح وہ حشرہ جس کو علم حشرات میں ”قاذفة القنابل“ کہتے ھیں جو پھاڑ کھانے والے حیوانات کے آگے آگے بغیر کسی خوف وھراس کے چلتا ھے اور اگرکسی جانور نے اس کو کھانے کے لئے منھ کھولا تو اپنے پیٹ پر موجود ایک تھیلی کو فشار دیتا ھے تاکہ اس سے تین قسم کے غدے نکلےں جس میں ”ھیڈروکینون“ ، ”فوق اکسیڈھیڈ روجین“ اور ”ازیم خاص“ اور جب یہ تینوں چیزیں مخلوط هوتی ھیں تو ان میں سے ایک قسم کا گیس نکلتا ھے جس کی وجہ سے وہ درندہ حیوان بھی ڈر کی وجہ سے بھاگنے لگتا ھے ، تو کیا اس حشرہ اور کیڑے نے علم کیمسٹری میں کامبرج یونیورسٹی سے ڈیپلم”Diploma” کیا ھے؟!!

اسی طرح ابریشم کے کیڑے ، جو نھایت ھی باریک جال بناتے ھیں۔اور اسی طرح وہ جگنو جو رات میں روشنی پھیلاتا پھرتا ھے تاکہ روشنی پر آنے والے چھوٹے چھوٹے کیڑوں کا شکار کرسکے۔

نیز اسی طرح پانی کے کچھ خاص کیڑے جو چند میٹر پانی میں پہنچ جاتے ھیں اور پھر آسمان میں بھی کافی اوپر اڑلیتے ھیں۔

اسی طرح وہ تتلی جس کے پر بہت ھی نازک اور شفاف هوتے ھیں جب ان پر روشنی پڑتی ھے تو وہ نیلے رنگ کے دکھائی پڑتے ھےں، اور اگر اس میں دسیوں ہزار میں سے ایک جز بھی متغیر هوجائے تو پھر اس کی روشنی میں بھی فرق آجائے گا یا بالکل ختم هوجائے گی۔

قارئین کرام ! یھاں تک ھماری گفتگو کا خلاصہ یہ هوا کہ حیوانات کی دنیا واقعاً عجیب وغریب ھے جن کی خلقت اور نوآوری وغیرہ کو دیکھنے کے بعد(اگرچہ حیوانات کے صفات اس مختصر کتاب میں کماحقہ بیان نھیں کئے جاسکتے) انسان اس نتیجہ پر پهونچتا ھے :

<ِ صُنْعَ اللهِ الَّذِی اٴَتْقَنَ کُلَّ شَیْءٍ إِنَّہُ خَبِیرٌ بِمَا تَفْعَلُون>[21]

”(یہ بھی ) خدا کی کاریگری ھے کہ جس نے ھر چیز کو خوب مضبوط بنایا ھے بے شک جو کچھ تم کرتے هو اس سے وہ خوب واقف ھے۔“

”تعالیٰ الله یقول المنکرون الجاحدون علوا کبیرا“

قارئین کرام ! ھم یھاں پر ان آیات کریمہ کو بیان کرتے ھیں جو خداوند عالم کے وجود پربہترین دلیل ھیں ،جن میں انسان کونباتات،آسمان سے بارش هونے اور زمین وآسمان کے درمیان موجودعجائبات میں غوروفکر کی دعوت دی گئی ھے، کیونکہ ان تمام چیزوں کا اس قدر دقیق اور خصوصیات کے ساتھ پایا جانا اس بات پر دلالت کرتا ھے کہ یہ صفات ان میں خود بخود نھیں پائے جاتے بلکہ ان سب کو مذکورہ صفات عطا کرنے والا خدوندعالم ھے۔

ارشاد خداوندعالم هوتا ھے:

< اٴَفَرَاٴَیْتُمْ مَا تَحْرُثُون۔ اٴَاٴَنْتُمْ تَزْرَعُونَہُ اٴَمْ نَحْنُ الزَّارِعُونَ۔ لَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَاہُ حُطَامًا۔۔۔>[22]

”بھلا دیکھو تو کہ جو کچھ تم لوگ بوتے هو کیا تم لوگ اسے اگاتے هو یا ھم اگاتے ھیں، اگر ھم چاہتے تو اسے چور چور کردیتے

< اٴَفَرَاٴَیْتُمْ النَّارَ الَّتِی تُورُونَ ۔ اٴَ اٴَنْتُمْ اٴَنشَاٴْتُمْ شَجَرَتَہَا اٴَمْ نَحْنُ الْمُنشِئُونَ >[23]

”توکیا تم نے آگ پر بھی غور کیا جسے تم لوگ لکڑی سے نکالتے هو کیا اس کے درخت کو تم نے پیدا کیا ھے یا ھم پیدا کرتے ھیں۔“

<وَهو الَّذِی اٴَنزَلَ مِنْ السَّمَاءِ مَاءً فَاٴَخْرَجْنَا بِہِ نَبَاتَ کُلِّ شَیْءٍ فَاٴَخْرَجْنَا مِنْہُ خَضِرًا نُخْرِجُ مِنْہُ حَبًّا مُتَرَاکِبًا وَمِنْ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِہَا قِنْوَانٌ دَانِیَةٌ وَجَنَّاتٍ مِنْ اٴَعْنَابٍ وَالزَّیْتُونَ وَالرُّمَّانَ مُشْتَبِہًا وَغَیْرَ مُتَشَابِہٍ اُنْظُرُوا إِلَی ثَمَرِہِ إِذَا اٴَثْمَرَ وَیَنْعِہِ إِنَّ فِی ذَلِکُمْ لَآیَاتٍ لِقَوْمٍ یُؤْمِنُون>[24]

”اور وہ وھی (قادر وتوانا) ھے جس نے آسمان سے پانی برسایا پھر ھم نے اس کے ذریعہ سے ھر چیز کے کوئے نکالے پھر ھم ھی نے اس سے ھری بھری ٹہنیاں نکالیں کہ اس سے ھم باھم گتھے هوئے دانے نکالتے ھیں اور چوھارے کے درخت سے لٹکے هوئے گچھے (پیدا کئے) اور انگور اور زیتون اور انار کے باغات جو باھم صورت میں ایک دوسرے سے ملتے جلتے ھیں اور (مزے میں) جداجدا ،جب یہ پھلے او رپکے تو اس کے پھل کی طرف غور تو کرو بے شک اس میں ایماندارلوگوں کے لئے بہت سی (خداکی ) نشانیاں پائی جاتی ھیں۔“

< الَّذِی جَعَلَ لَکُمْ الْاٴَرْضَ مَہْدًا وَسَلَکَ لَکُمْ فِیہَا سُبُلاً وَاٴَنزَلَ مِنْ السَّمَاءِ مَاءً فَاٴَخْرَجْنَا بِہِ اٴَزْوَاجًا مِنْ نَبَاتٍ شَتَّی >[25]

”وہ وھی ھے جس نے تمھارے( فائدہ کے واسطے)زمین کو بچھونا بنایا اور تمھارے لئے اس میں راھیںنکالیں اور اس نے آسمان سے پانی برسایا پھر (خدا فرماتا ھے کہ )ھم ھی نے اس پانی کے ذریعہ مختلف قسموں کی گھاسیں نکالیں۔“

< اٴَمَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضَ وَاٴَنزَلَ لَکُمْ مِنْ السَّمَاءِ مَاءً فَاٴَنْبَتْنَا بِہِ حَدَائِقَ ذَاتَ بَہْجَةٍ مَا کَانَ لَکُمْ اٴَنْ تُنْبِتُوا شَجَرَہَا اٴَ ء ِلَہٌ مَعَ اللهِ بَلْ ہُمْ قَوْمٌ یَعْدِلُونَ>[26]

”بھلا وہ کون ھے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور تمھارے واسطے آسمان سے پانی برسایا پھر ھم ھی نے پانی سے دلچسپ اور خوشنما باغ اگائے، تمھارے تو یہ بس کی بات نہ تھی کہ تم ان سے درختوں کو اگاسکتے تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور بھی معبود ھے ؟ (ھر گز نھیں) بلکہ یہ لوگ خود( اپنے جی سے گڑھ کے بتوں کو)اس کے برابربناتے ھیں۔“

قارئین کرام ! نباتات کی دنیا بھی کس قدر عجیب ھے چنانچہ زمین شناسی (جیولوجی) “Geological”کے ماھرین اس بارے میں ھمیشہ بررسی وتحقیق میںمشغول ھیں کیونکہ وہ ھر روز ایک نہ ایک نئی چیز کشف کرتے ھیں۔

اورجیسا کہ ماھرین نے بیان کیا ھے کہ نباتات کی تقریباً پانچ لاکھ قسمیں ھیں اور وہ ترکیب اورتزویج اور عمر کے لحاظ سے مختلف ھیں کیونکہ انھیں نباتات میں سے وہ بھی ھیں جن کی عمر کچھ دن کی هوتی ھے اور ان میں سے بعض وہ ھیں جن کی عمر کچھ سال هوتی ھے اور ان میں سے بعض کی عمر انسان کے کئی برابر هوتی ھے۔

معمولاً نباتات وھاں پیدا هوتی ھیں جھاں پر ان کے لئے مناسب اسباب موجود هوں ، ان کے بیج طولانی مدت تک باقی رہتے ھیں کیونکہ جب تک ان کے لئے مناسب پانی اور مناسب گرمی موجود نہ هوں تب تک پیدا نھیں هوتیں، (جیسا کہ معلوم ھے کہ نباتات میں سے ھر ایک معین گرمی میں پیدا هوتی ھیں) اسی طریقہ سے ان کے لئے هوا کا بھی هونا ضروری ھے کیونکہ وہ اسی کی بدولت زندہ رہتی ھے اور اسی سے سانس لیتی ھے۔

اور جب دانہ اگنا شروع هوتا ھے، تو پھلے چھوٹی چھوٹی جڑیں پیدا هوتی ھیں اس وقت وہ اپنی غذا کو خود دانہ سے حاصل کرتا ھے یھاں تک کہ اس کی جڑیں زمین میں پھیلنا شروع هوتی ھیں اس وقت وہ اپنی غذا زمین سے حاصل کرتا ھے گویا وہ انسان اور حیوان کے بچوں کی طرح ھے کہ جب تک وہ شکم مادر میں رہتا ھے تو اس کی غذا اس کی مادر کے ذریعہ پهونچتی ھے ، اس کے بعد اس کے دودھ سے غذا پهونچتی ھے اور جب بچہ بڑا هوجاتا ھے تو پھر وہ اپنی غذا میں خود مختار هوجاتا ھے۔

قارئین کرام ! کیا ان تمام چیزوں کے ملاحظہ کرنے کے بعد کوئی یہ کہہ سکتا ھے کہ ان تمام چیزوں کو خدا کے علاوہ کسی اور نے پیدا کیا ھے؟

اور نباتات کا غذائی سسٹم،جڑوںپر منحصر هوتا ھے کیونکہ یہ جڑیں ھی غذائی سسٹم کا پھلا جز ھےں، اور جڑیں نباتات کی احتیاجات کی بنا پر مختلف هوتی ھیں، پس ان میں سے کچھ گاجر جیسی اور بعض آلو جیسی اور بعض جالی نما هوتی ھیں، جبکہ ان تمام ا ختلاف کے باوجود ایک ھی مقصد کے لئے پیدا کی گئی ھیں۔اور یہ مقصد نباتات کا اپنے لئے غذا حاصل کرنا ھے۔

اورجب یہ جڑیں رشد کرتی ھیں تو اس پر موجود چھلکا زمین سے رطوبت حاصل کرکے اس کو جڑوں کے اوپرپهونچاتا ھے، اور یھاں سے نباتات تک غذا پهونچتی ھے جس کے ذریعہ وہ رشد کرتی ھیں اور یہ بات بھی طے شدہ ھے کہ نباتات کے لئے روشنی، پانی اور دیگر ضروری عنصر کا پایا جانا ضروری هوتا ھے جیسے کاربن، “Carbon” آکسیجن، “Oxygen” فسفور “Phosphore”، ”کاربرائڈ“”Carbide” وغیرہ۔

یہ بات بھی ذہن نشین رھے کہ نباتات اپنے پتوں کے ذریعہ سانس لیتی ھیں جو ان کے پھیپھڑوں کا کام کرتے ھیں چنانچہ نباتات حیوانوں اور انسانوں کی طرح انھیں پتوں کے ذریعہ آکسیجن،”Oxygen” کو حاصل کرتی ھےں اور کاربن اکسیڈ دوم “Carbon oxide”کو نکالتی ھے،اور نباتات کے سانس لینے سے گرمی میں کمی پیدا هوتی ھے اور نباتات کا عملِ تنفس شب وروز جاری وساری رہتا ھے، مگر اس کا نتیجہ دن میں عمل کاربن کے مقابلہ میں ظاھر نھیں هوتا کیونکہ عمل کاربن کو نباتات عمل تنفس سے زیادہ جلدی انجام دیتی ھیں پس آکسیجن نکلتا رہتا ھے اور کاربن ڈائی اکسیڈ دوم”Carbon Dioxide” کو حاصل کرتا ھے۔

چنانچہ آج کے سائنس کا کہنا ھے کہ کاربن “Carbon” کا پیدا هونا ھی ،ڈائی اکسیڈ کاربن “Carbon Dioxide” کی نابودی کے لئے کافی ھے ، اگر صرف اسی چیز پر اکتفا کی گئی هوتی تو کافی تھا، لیکن خداوندعالم نے جو خالق عظیم ھے ایسی دوسری زندہ موجوات کوبھی خلق کیا جو اپنے سانس لینے میں کاربن اکسیڈ “Carbon oxide” نکالتی ھیں ، جیسا کہ مردہ جسم بھی کاربن اکسیڈ نکالتے ھیں نیز دیگر امور کی وجہ سے بھی یہ مادہ نکلتا ھے۔

چنانچہ اس کاربن اکسیڈ “Carbon oxide” کی نابودی میں کبھی کوئی کمی یا زیادتی نھیں هوتی، بلکہ قدرت اور حکمت خدا کا تقاضا یہ ھے کہ فضا میں کاربن آکسائیڈ کی نسبت دس ہزار اجزا میں سے تین یا چار هوتی ھے، اور اس نسبت کا اس مقدار میں موجود هونا کائنات کی حیات کا سبب ھے ، اور (کاربن “Carbon” اور کاربن اکسیڈ”Carbon oxide” کی عملیات) میں ابھی تک کوئی ایسا موقع نھیں آیا جب اس نسبت میں کوئی اختلاف هوا هو۔

چنانچہ بعض ماھرین کا کہنا ھے کہ اگرهوا میں آکسیجن،”Oxygen” %۲۱ کے بجائے %۵۰ هوجائے تو اس کائنات میںجو چیزیں جلنے کے قابل ھیں ان سب میں آگ لگ جائے اور بجلی کی کوئی چنگاری اگر درخت تک پهونچ جائے تو وہ تمام آگ کی نذر هوجائےں، اسی طرح اگر هوا میں آکسیجن،”Oxygen” %۱۰یا اس بھی کم هوجائے تو پھر تمام چیزوں کی زندگی خطرہ میں پڑجائے۔

تو کیا ان تمام تحقیقات کے بعد بھی کوئی انسان بے جان مادہ کوان تمام عجیب وغریب موجوات کا خالق کہہ سکتا ھے؟!!!

پانی کی خلقت

پانی ایک حیاتی اور ضروری مادہ ھے جو تمام ھی زندہ چیزوں کے لئے نھایت ضروری ھے:

<وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ کُلَّ شیءٍ حَيٍّ>[27]

”اور ھم ھی نے ھر جاندار کو پانی سے پیدا کیا “

لہٰذا پانی ضروریات زندگی میں سب سے اھم کردار رکھتاھے، اسی وجہ سے قرآن مجید نے اس عظیم نعمت پر غور وفکر کرنے کی دعوت ھے بلکہ کرہ زمین پر موجود پانی کو دیکھ کر تمام لوگوں کواس خالق کے وجود پر دلیل کو درک کرنے کی دعوت دی گئی ھے:

< اٴَفَرَاٴَیْتُمْ الْمَاءَ الَّذِی تَشْرَبُون۔ اٴَاٴَنْتُمْ اٴَنزَلْتُمُوہُ مِنْ الْمُزْنِ اٴَمْ نَحْنُ الْمُنزِلُونَ ۔ لَوْ نَشَاءُ جَعَلْنَاہُ اٴُجَاجًا فَلَوْلاَتَشْکُرُونَ>[28]

”کیا تم نے پانی پر بھی نظر ڈالی جو (دن رات) پیتے هو،کیا اس کو بادل سے تم نے برسایا یا ھم برساتے ھیں؟اگر ھم چاھیں تو اسے کھاری بنادیں تو تم لوگ شکر کیوں نھیں کرتے؟!

<وَمِنْ آیَاتِہِ یُرِیکُمْ الْبَرْقَ خَوْفًا وَطَمَعًا وَیُنَزِّلُ مِنْ السَّمَاءِ مَاءً فَیُحْیِ بِہِ الْاٴَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا >[29]

”اور اس کی (قدرت کی) نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ھے کہ وہ تم کو ڈرانے اور امید دلانے کے واسطے بجلی دکھاتا ھے اور آسمان سے پانی برساتا ھے اور اس کے ذریعہ سے مردہ زمین کوآباد کرتا ھے “

چنانچہ پانی کے ماھرین کا کہنا ھے کہ سمندر ھی آب شیرین(پینے کامیٹھا پانی) کی بنیاد اور اساس ھے اگرچہ سمندر کا پانی بہت زیادہ نمکین هوتا ھے جس کو زمین پر زندہ موجودات استعمال نھیں کرسکتی، لیکن خدا وندعالم نے اپنی موجودات کے لئے پانی کو بارش کے ذریعہ صاف وخوشگوار بنایا ھے کیونکہ بارش کے ذریعہ ھی یہ نمکین پانی صاف اورگورا بنتا ھے۔

خدا وندعالم آسمان سے بارش برساتا ھے:

< وَمَا اٴَنزَلَ اللهُ مِنْ السَّمَاءِ مِنْ مَاءٍ فَاٴَحْیَا بِہِ الْاٴَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا>[30]

”اور وہ پانی جو خدا نے آسمان سے برسایا پھر اس سے زمین کو مردہ (بیکار) هونے کے بعد جلا دیا(شاداب کردیا)

اور اگرخدا چاہتا تو یہ کھارا اور نمکین پانی اپنی پھلی والی حالت پر باقی رہتاجیسا کہ خداوندعالم نے ارشاد فرمایا ۔

جبکہ ھم یہ بھی جانتے ھیں کہ سمندر کے پانی کا نمکین هونا بھی ضروری ھے کیونکہ سمندر بہت وسیع اور گھرے هوتے ھیں لیکن محدود اور بند هوتے ھیں اور ان میں پانی بھرا رہتا ھے اور اگر یہ پانی نمکین نہ هوتا تو ایک مدت کے بعد یہ پانی خراب اور بدبودار هوجاتا۔

قارئین کرام ! ان کے علاوہ بھی پانی کی اھم خصوصیات هوتی ھیں، مثلاً جب انسان سمندر کے پانی کو دیکھتا ھے تو اسے خدا کی قدرت اور اس کی تدبیر کا احساس هوتا ھے، کیونکہ زمین کے تین حصے پانی ھیں تو اس سے هوا او رگرمی پر بہت اثر پڑتا ھے، اور اگر پانی کے بعض خواص ظاھر نہ هوں تو پھر زمین پر بہت سے حادثات رونما هوجائیں، اور چونکہ پانی پانی ھے اور سالوں باقی رہ سکتا ھے اور پانی کی گرمی بھی زیادہ هوتی ھے جو اوپر رہتی ھے جس کی بنا پر درجہ حرارت سطح زمین سے اوپر ھی رہتا ھے اور زمین میں سخت گرمی هونے سے روکتاھے، اور یہ چیز زمین کو طولانی حیات کرنے میں مدد کرتی ھے جس کی وجہ سے سطح زمین پر موجود انسانوں (اور حیوانوں) کو فرحت ونشاط ملتی ھے۔

اسی طرح مذکورہ خواص کے علاوہ بھی پانی کی کچھ منفرد خاصیتیں ھیں جو اس بات پر دلالت کرتی ھیں کہ اس کے خالق نے اس کو اس طرح اس لئے خلق کیا ھے تاکہ اس کی مخلوقات مکمل طریقہ سے فائدہ اٹھاسکے۔ پس پانی ھی وہ مشهورومعروف اورواحدمادہ ھے جسکی کثافت “Density” پانی کے جماد کے وقت سب سے کم هوتی ھے اور اس کی یہ خاصیت زندگی کے لئے بہت اھم ھے، کیونکہ اسی کی وجہ سے جب سخت سردی کے موسم میں پالا پڑتا ھے تو وہ اس کو ختم کردیتا ھے بجائے اس کے کہ وہ پانی کے اندر جائے اور غرق هوجائے اور وہ آہستہ آہستہ جم جاتا ھے لیکن یہ پالا پڑنا اس پانی کو برف بننے سے روک دیتا ھے اگرچہ ٹھنڈک کتنی ھی زیادہ کیوں نہ هو ، اسی وجہ سے پانی میں موجود مچھلی او ردیگر حیوانات زندہ رہتے ھیں اور جب گرمی آتی ھے تو یہ پالا بہت جلد ختم هوجاتا ھے۔

ان کے علاوہ بھی ھم پانی کے دوسرے عجیب فوائد کا ذکر کرسکتے ھیں، مثلاً نباتات کے لئے زمین کی سطح کو نرم کردیتا ھے، جس کی بنا پر نبات میں زمین کے اندر سے غذائی موادحاصل کرنے کے بعد رشد کرنے کی صلاحیت پیدا هوتی ھے، چنانچہ یھی پانی ھے جو دیگر چیزوں کے اجسام کو نرم کرتا ھے ، اسی طرح پانی ھی وہ شے ھے جو انسان کے بدن میں داخل هوکراس کے حیاتی مختلف عملیات میں مددگار ثابت هوتا ھے، مثلاً خون یا خون کے مرکبات، اسی طرح پانی کا ایک بخار هوتا ھے جس کی وجہ سے درجہ حرارت کم هوجاتا ھے اور اسی وجہ سے پانی ایک طولانی مدت تک پانی کی شکل میں بہنے والا باقی رہتا ھے ورنہ تو گرمی کی وجہ سے خشک هوکر ختم هوجائے۔

قارئین کرام ! سمندر اور دریا خدا کی عظیم نشانیاں ھیں، چنانچہ ان میں خشکی سے زیادہ متعدد قسم کے حیوانات پائے جاتے ھیںاور اس کائنات میں بہت زیادہ اختلاف پایا جاتا ھے، مثلاً ایک مربع میٹر میں لاکھوں چھوٹے چھوٹے حیوانات پائے جاتے ھیں، جبکہ انھیں سمندروں میں بڑی بڑی مچھلیاں بھی پائی جاتی ھیں ، واقعاً خداوندعالم کا قول صادق اور سچا ھے، جیسا کہ ارشاد هوتا ھے:

< وَهو الَّذِی سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَاٴْکُلُوا مِنْہُ لَحْمًا طَرِیًّا وَتَسْتَخْرِجُوا مِنْہُ حِلْیَةً تَلْبَسُونَہَا وَتَرَی الْفُلْکَ مَوَاخِرَ فِیہِ وَلِتَبْتَغُوا مِنْ فَضْلِہِ وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُون>[31]

”اور وھی وہ خدا ھے جس نے دریا کو (بھی تمھارے) قبضہ میں کردیا تاکہ تم اس میں سے (مچھلیوں کا) تازہ تازہ گوشت کھاؤ اور اس میں سے زیور (کی چیزیں موتی وغیرہ)نکالو جن کو تم پہنا کرتے هو اور تو کشتیوں کو دیکھتا رھے کہ (آمد ورفت میں) دریا میں (پانی کو) چیرتی پھاڑتی آتی جاتی ھے اور (دریا کو تمھارے تابع) اس لئے کردیا کہ تم لوگ اس کے فضل (نفع وتجارت) کی تلاش کرو اور تاکہ تم شکر کرو۔“

قارئین کرام ! یہ تو تھیں سمندر کی گھرائیوں کی باتیں اور اگر ھم اپنے اوپر وسیع وعریض نیلے آسمان پر دقت کے ساتھ غور وفکر کریں تو ھمیں معلوم هوجائے گا کہ آسمان میں کس قدر چاند، سورج اور ستارے موجود ھیں ، اور اگر کوئی واقعاً ان میں غوروفکر کرے تو وہ بالکل دنگ رہ جائے گا اسی وجہ سے قرآن مجید نے اس طرف توجہ دلائی ھے تاکہ ھم ایک عظیم اور ھمیشگی نتیجہ پر پهونچ جائیں، اور وہ یہ کہ یہ تمام عجیب وغریب چیزیں اتفاقی طور پر پیدا نھیں هوئیں اور نہ ھی ان کا پیدا کرنا والا ”مادہ“ ھے:

< اٴَوَلَمْ یَنظُرُوا فِی مَلَکُوتِ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ وَمَا خَلَقَ اللهُ مِنْ شَیْءٍ>[32]

”کیا ان لوگوں نے آسمان وزمین کی حکومت اور خدا کی پیدا کی هوئی چیزوں میں غور نھیں کیا ؟!!“

< قُلِ انْظُرُوا مَاذَا فِی السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْض>[33]

”(اے رسول ) تم کہہ دو کہ ذرا دیکھو تو سھی کہ آسمانوں اور زمین میں (خدا کی نشانیاں) کیا کچھ ھیں۔۔۔“

< اٴَفَلَمْ یَنْظُرُوا إِلَی السَّمَاءِ فَوْقَہُمْ کَیْفَ بَنَیْنَاہَا وَزَیَّنَّاہَا وَمَا لَہَا مِنْ فُرُوج>[34]

”تو کیا ان لوگوں نے اپنے اوپر آسمان کی طرف نظر نھیں کی کہ ھم نے اس کو کیونکر بنایا ھے اور اس کو (کیسی) زینت دی اور اس میں کھیں شگاف تک نھیں“

< اللهُ الَّذِی رَفَعَ السَّمَاوَاتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَہَا>[35]

”خدا وھی تو ھے جس نے آسمانوں کو جنھیں تم دیکھتے هو بغیر ستون کے اٹھاکھڑا کردیا۔۔۔“

< وَالسَّمَاءَ بَنَیْنَاہَا بِاٴَیدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ>[36]

”اور ھم نے آسمانوں کو اپنے بل بوتے سے بنایا اور بے شک ھم میں سب قدرت ھے“

<ِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ کُلٌّ یَجْرِی لِاٴَجَلٍ مُسَمًّی>[37]

”اسی نے چاند اور سورج کو اپنی مطیع بنارکھا ھے کہ ھر ایک اپنے (اپنے) معین وقت پر چلاکرتا ھے“

ستاروں کی یہ کائنات کروڑوں ستاروں پر مشتمل ھے جن میں سے بعض ایسے ھیں جن کو آنکھ سے دیکھا جاسکتا ھے لیکن بعض کو دوربین وغیرہ ھی کے ذریعہ دیکھا جاسکتا ھے، جبکہ ان میں سے بعض ایسے بھی ھیں جن کے وجود کا محققین وماھرین احساس کرتے ھیں لیکن ان کو دیکھا نھیں جا سکتا، لہٰذا ان تمام چیزوں کا مشاہدہ کرنے کے بعد انسان دنگ رہ جاتا ھے، کیونکہ کوئی ایسا مقناطیسی سسٹم نھیں ھے جس کی بناپر ان کو ایک دوسرے سے قریب یا ایک دوسرے سے دور کردے،جیسا کہ آپ دیکھتے ھیں کہ کسی سمندر میں دو اسٹمیر “Steamer” ایک راستہ پر ایک ھی سرعت کے ساتھ چلتے ھیں اوران کا آپس میں ٹکرانے کا احتمال هوتا ھے۔

چنانچہ آج کا سائنس کہتا ھے کہ روشنی کی رفتارفی سیکنڈ ۱۸۶۰۰۰ میل ھے، ان میں سے بعض ستاروںکی روشنی فوراً ھی ھم تک پہنچ جاتی ھے اور بعض کی روشنی مھینوں اور بعض کی سالوں میں پهونچتی ھے تو آپ اندازہ لگائیں یہ آسمان کتنا وسیع وعریض اور عجیب وغریب ھے۔؟!

تو کیا یہ تمام چیزیں یونھی اتفاقی طورپر اور بغیر کسی قصد وارادہ کے پیدا هوگئیں؟! اور کیا یہ تمام چیزیں بغیر کسی بنانے والے کے بن گئیں؟! اور کیا ”مادہ“ ان تمام چیزوں کو اتنا منظم خلق کرسکتا ھے؟!!

<ہَذَا خَلْقُ اللهِ فَاٴَرُونِی مَاذَا خَلَقَ الَّذِینَ مِنْ دُونِہِ بَلِ الظَّالِمُونَ فِی ضَلَالٍ مُبِینٍ>[38]

”(اے رسول ان سے کہہ دو کہ ) یہ تو خدا کی خلقت ھے پھر (بھلا) تم لوگ مجھے دکھاؤ تو کہ جو (معبود) خدا کے سوا تم نے بنارکھے ھیں انھوں نے کیا پیدا کیا بلکہ سرکش لوگ (کفار) صریحی گمراھی میں (پڑے) ھیں۔“

قارئین کرام ! اس زمین کو خداوندعالم نے اس طرح خلق کیا ھے تاکہ اس پر مختلف چیزیں زندگی کرسکیںاور یہ زمین گھومتی ھے تاکہ اس کے ذریعہ شب وروز وجود میں آئیں۔

اور یہ زمین سورج کے گرد بھی گھومتی ھے جس کی وجہ سے سال اور فصل بنتی ھیں ، جس کی بنا پر کرہٴ زمین پر موجودہ مختلف مقامات پر ساکنین کے لئے مساحت زیادہ هوجائے، اور زمین پر نباتات کی فراوانی هوسکے۔

زمین کا یہ گھومنا بہت ھی حساب شدہ ھے، چنانچہ نہ اس میں کمی هوتی ھے اور نہ ھی اس میں اضافہ هوتا ھے کیونکہ اگر اس زمین کی موجودہ حالت میں کمی یا اضافہ هوجائے توزندگی کا خاتمہ هوجائے۔

اور جیسا کہ آپ جانتے ھیں کہ اس زمین پر گیس کا غلاف هوتا ھے جو گیس زندگی کے لئے ضروری ھے، چنانچہ یہ گیس زمین سے /۵۰۰ میل کے فاصلہ پر رہتی ھے اوریہ غلاف اتنا ضخیم هوتا ھے ،جو آج کے دور میں ایک سیکنڈ میں تیس میل کی دوری کو تیزی کے ساتھ طے کرتا ھے۔

جس کی بناپر ان ستاروں کی گرمی کو کم کردیتا ھے کہ اگر یہ غلاف نہ هو تو پھر زمین پر کوئی زندہ باقی نہ بچے، اور اسی غلاف کی وجہ سے مناسب گرمی ھم تک پهونچتی ھے اسی طرح اس زمین سے پانی کا بخار بھی بہت دور رہتا ھے تاکہ خوب بارش هوسکے، اور مردہ زمین سبزہ زار بن جائے کیونکہ بارش ھی کی وجہ سے پانی اتنا صاف هوتا ھے اور اگر یہ چیزیں نہ هوں تو پھر زمین چٹیل میدان نظر آئے اور اس میں زندگی بسرکرناغیر ممکن هوجائے۔

اسی طرح پانی کا ایک اھم خاص امتیاز یہ ھے کہ وہ سمندر اور خشکی میں موجود تمام چیزوں کی حیات کی حفاظت کرتا ھے خصوصاً وہ برفیلے علاقے جھاں پر کڑاکے کی سردی هوتی ھے کیونکہ پانی آکسیجن کی کافی مقدار کو اپنے اندر جذب کرلیتا ھے جب کہ آکسیجن کا درجہ حرارت کم هو اور جو سمندر اور نھروں میں پانی کی سطح پر پالا هوجاتا ھے اس کو یہ پانی ختم کردیتا ھے، کیونکہ نسبی طور پر خفیف هوتا ھے پس اس بنا پر ٹھنڈے علاقے میںتمام پانی میں رہنے والے موجودات کازندگی گذار نا آسان هوجاتا ھے، اور جب پانی جم جاتا ھے تو اس کے اندر سے کچھ حرارت نکلتی ھے جو سمندری حیوانات کی زندگی کی محافظت کرتی ھے۔

اب رھی خشک زمین تو یہ بھی بہت سی چیزوں کی حیات کے لئے بنائی گئی ھے ، چنانچہ اس میں ایسے بہت سے عناصر ھیں جو نباتات اور دوسری چیزوں کی حیات کی اھم ضرورت ھےں، جن سے انسان اور حیوانات کی غذا فراھم هوتی ھے، چنانچہ بہت سے معادن زمین پر یا اس کے اندر پائے جاتے ھیں، اور اس سلسلہ میں بڑی بڑی کتابیںبھی لکھی گئی ھیں۔

اور اگراس زمین کا قُطر موجودہ قطر کے بجائے ایک چھارم هوتا تو پھر اس کے اطراف میں موجود پانی اور فضائی دونوں غلاف کو یہ زمین اپنے اوپرروک نہ پاتی اور اس زمین پر اتنی گرمی هوتی کہ کوئی بھی چیز زندہ نھیں رہ پاتی۔

اور اگر اس زمین کا اندازہ موجودہ صورت کے بجائے دوبرابر هوتا اور اس زمین کی مساحت دوبرابر هوتی ، اور اس وقت موجودہ زمینی جاذبہ دوبرابر هوجاتا، جس کی بنا پر هوائی غلاف کا نظام خفیف هوجاتا، اور فضائی تنگی ایک کیلو گرام سے دو کیلوگرام فی مربع سینٹی میٹر هوجاتی، اور یہ تمام چیزیں سطح زمین پر موجودہ تمام اشیاء کے لئے موٴثر ثابت هوتیں، تو ٹھنڈے علاقے کی مساحت اور وسیع هوجاتی، اور وہ زمین جو قابل سکونت ھے اس کی مساحت کافی مقدار میں کم هوجاتی، چنانچہ ان وجوھات کی بناپر انسانی زندگی درھم وبرھم هوجاتی۔

اسی طرح ا گرسطح زمین موجودہ مقدار سے زیادہ بلند هو تو اس صورت میں یہ آکسیجن اور ڈائی اکسیڈ کاربن دوم “Carbon Dioxide”زیادہ جذب کرتی جس کی بنا پر نباتات کی زندگی تنگ هوجاتی۔

اسی طریقہ سے اگر زمین کی سورج سے موجودہ دوری کو دوبرابر بڑھا دیا جائے تو اس کی سورج سے لی جانے والی موجودہ حرارت سے ایک چوتھائی کم هوجائے گی اور اس صورت میں زمین کا سورج کے اردگرد چکر لگانا طولانی مدت طے پائے گا جس کی بنا پر سردی کا موسم بڑھ جائے گا اور سطح زمین پر رہنے والے موجودات کی زندگی مفلوج هوکر رہ جائے گی۔

اسی طرح سے اگرزمین اور سورج کے درمیان موجودہ مسافت کو کم کرکے نصف کردیا جائے تو موجودہ حرارت میںچار گنا اضافہ هوجائے گا، اور گردش زمین سورج کے اطراف میں تیز هوجائے گی، جس کی بنا پر زمین پر کسی بھی موجود کا زندہ رہنا ناممکن هوجائے گا۔

یھاں تک کہ کرہ ارض کا میلان کہ جس کی مقدار ۲۳زاویہ فرض کی گئی ھے یہ بھی بغیر مصلحت نھیں ھے کیونکہ اگر اس میں یہ میلان نہ هوتا تو زمین کے دونوں قطب مسلسل اندھیرے میں ڈوبے رہتے اور پانی کے بخارات شمال وجنوب میں منڈلاتے رہتے، اور ایک دوسرے پر پالا یا برف بن کر منجمد هوجاتے۔

المختصر زمین کا موجودہ دقیق نظام مختل هوجائے تو تمام جاندار اشیاء کی زندگی نیست ونابود هوکر رہ جائے گی، کیونکہ زمین کے اندر پائے جانے والے نظام جاندار اشیاء کے لئے اسباب حیات فراھم کرتے ھیں، تو کیا یہ سارا نظام اتفاقی اور تصادفی ھے؟!!

قارئین کرام ! زمین کی مٹی بھی عجیب کائنات ھے اور اسی سے بہت سی چیزیں مربوط هوتی ھیں، جو تمام اس بات پر دلالت کرتی ھیں کہ اس زمین اور مٹی کا بنانے والا کوئی نہ کوئی ھے ، کیونکہ جب ھم مٹی کو دیکھتے ھیں کہ یہ کس طرح کی فعالیت انجام دیتی ھے اور کس طرح بہت سے نتائج پیش کرتی ھے چنانچہ ماھرین نے اس کے نتائج کی درج ذیل قسمیں بیان کی ھیں: کہ اس کا نچلا حصہ گول هوتا ھے اس پر مٹی کا ایک طبقہ هوتا ھے، جب وہ ہٹ جاتا ھے تو دوسرا طبقہ اس کی چگہ پر آجاتا ھے۔

اور یہ بھی مسلم ھے کہ ھمارے لئے مٹی بہت ھی مفید ھے کیونکہ اکثرکھانے کی چیزیں اسی سے دستیاب هوتی ھیں، کیونکہ تمام نباتات مٹی کی وجہ سے ھی رشد ونمو کرتی ھیں اور یہ بات بالکل واضح ھے کہ بغیر زمین کے نباتات کا کوئی وجودهو ھی نھیں هوسکتا،اور جب ان نباتات کی جڑیں کسی بھی موٹے پتھر سے ٹکراتی ھیں تو وہ آہستہ آہستہ ان سے ہٹتے جاتے ھیں البتہ پتھروں کا ہٹ جانا ان قواعد کے تحت هوتا ھے جن سے پتھر پانی میںپگھل جاتے ھیں مثلاً ان میں کیلسم “Calcium”، میگنیسم”Magnesium” ، اورپوٹاشم”Potassium” هوتے ھیں اسی طرح ان میں سلکون اسیڈس “Silicon Acids”باقی رہتے ھیں اور المینیم اور لوھے کا مٹی میں زیادہ غلبہ ھے ۔

جبکہ سلکون کے عناصر کے بارے میں یہ بتایا جاتا ھے کہ بڑے سے بڑے پتھر کو پانی بناسکتے ھیںلہٰذا پتھر کو پانی بنانے والے اجزاء بھی اسی نبات میں هوتے ھیں اور اسی طرح ان نبات میں وہ اجزاء بھی هوتے ھیں جو ان کو رشد ونمودیتے ھیں تو یہ دونوں ایسی چیزیںھیں جو ایک دوسرے کے سوفی صد مخالف ھیںتوکیا ایک ساتھ رہ کر کام کرسکتی ھیں او ردرختوں اور نباتات پر کوئی منفی اثر نھیں پڑتا۔

لیکن یھی نیٹروجن”Nytrogen”جس کے ذریعہ بجلی بنتی ھے اور اس بجلی کو بہت سے لوگ موت کا فرشتہ بھی کہتے ھیں، چنانچہ اسی نیٹروجن”Nytrogen”کے “OXidS”سے بجلی کی طاقت پیدا هوتی ھے ،لیکن جب یھی نیٹروجن کے اکسیڈس بارش یا برف کے ذریعہ مٹی میں جذب هوتے ھیں تو اس کو یا اس پر موجود درختوں کو جلانے کے بجائے ان کو رشد ونمو عطا کرتے ھیں، چنانچہ مٹی میں موجود نیٹروجن کی مقدار کو سالانہ سوڈیم کی تیس بالٹی حاصل کرتی ھے اور یہ مقدار درختوں او ردیگر نباتات کے رشد ونمو کے لئے کافی هوتی ھے۔!!

اور یہ بات معلوم هونا چاہئے کہ یہ نیٹروجن جس سے بجلی بنتی ھے تو یہ مستوی علاقوں میں بنسبت مرطوب اور معتدل علاقوں کے زیادہ هوتا ھے پس خشک اور جنگلی علاقوں میں اس کی مقدار میں اضافہ هوتا رہتاھے، خلاصہ یہ کہ یہ نیٹروجن علاقے کی ضرورت کے تحت مختلف چیزوں میں کارگر هوتا رہتاھے کیونکہ ھر علاقہ میں اس کی ایک خاص ضرورت هوتی ھے تو کیا اس کی تدبیر کے لئے کوئی نھیں هونا چاہئے؟!!

الغرض اس دنیا کے عجائبات میں سے کس کس چیز کا ذکر کیا جائے مثلاً پانی کا دورہ، اکسیڈ کاربن دوم کا دورہ، عجیب انداز میں زاد ولد هونا اسی طرح روشنی اور نور کی عملیات ان سب کی قوت شمس کے خزانہ میں بہت زیادہ اھمیت ھے ، اسی طرح اس موجودہ کائنات کی زندگی میں اھم کردار رکھتے ھیں ، چنانچہ اس کائنات کی ظاھری چیزیں اور سبب واقع هونے والی چیزیں اسی طرح تکامل وتوافق او رتوازن جن کے ذریعہ سے بہت سی چیزیں منظم هوتی ھیں، توکیا یہ اتنی عجیب وغریب چیزیں اتفاقی اور اچانک پیدا هوگئیں،(انسان کی عقل کو کیا هوگیا اور ان تمام مخلوقات میں غور نھیں کرتا)

چنانچہ یہ بسیط جزئیات جن کی کوئی صورت معین نھیں هوتی اور نہ ھی ان کے درمیان خالی جگہ هوتی ھے ، لیکن ان سے کروڑوں کواکب اور ستارے نیز مختلف عالم وجود میں آئے جن کی معین صورت بھی هوتی ھے اورطولانی عمر بھی اور اپنے خاص قوانین کے تحت کام کرتے ھیں، تو کیا یہ بھی سب کچھ اتفاقی طور پر اچانک پیدا هوگیا؟!!

اور یہ کیمیاوی مشهور عناصر جن کی تعداد سو سے بھی زیادہ ھے تو کیا انسان ان میں تشابہ اور اختلاف کی صورتوں کو ملاحظہ نھیں کرتا؟کیونکہ ان میں بعض رنگین ھیں اور بعض رنگین نھیں ھیں، ان میں سے بعض ایسے گیس ھیں جن کو سائل (بہنے والی)یا جامد بنانا مشکل ھے اور بعض سائل ھیں، اور بعض ایسے سخت ھیں جن کو سائل یا گیس بنانا مشکل ھے ، ان میں سے بعض کمزور ھیں اور بعض سخت، ان میں سے بعض ھلکے اور بعض بھاری، بعض مقناطیسی ھیں اور بعض مقناطیسی نھیں ھیں، ان میں سے بعض نشاط آورھیں اور بعض بے قدرے، بعض احماض (کڑوے) ھیں اور بعض کڑوے نھیں ھیں ان میں بعض کافی عمر کرتے ھیں اور بعض کچھ دن ھی عمر کرتے ھیں ، لیکن یہ تمام ایک ھی قانون کے تحت هوتے ھیں اور وہ قانون ”قانون دوری“ “Periodic Law”ھے۔

کیونکہ ان معین عنصر اور غیر معین عنصر کے ذرات کے درمیان فرق صرف پروٹونات اور نیوٹرونات کی تعداد میں هوتا ھے جو گٹھلی کی طرح هوتے ھیںاور دوسرا فرق یہ ھے کہ عدد اور الکٹرونات جو گٹھلی سے باھر هوتے ھیں اور ان کا طریقہ تنظیم بھی جدا هوتا ھے، لہٰذا اس بنا پر مواد مختلفہ کی کروڑوں قسمیں چاھے وہ عناصر هوں یا مرکب چیزیں” کھربائی“”Electricity” جزئیات سے مل کر بنتی ھیں اور ان میں یا تو فقط صورت هوتی ھے یا طاقت ، او رچونکہ مادہ بھی جزئیات او رذرات سے تشکیل پاتا ھے ، اور جزئیات وذرات ”الکٹرونات“ و”نیوٹرونات“سے ذرات تشکیل پاتے ھیں اسی طرح طاقت او رکھرباء”Electricity” یہ تمام کے تمام معین قوانین کے تحت هوتے ھیں اس حیثیت سے کہ ان ذرات کی ایک مقدار بھی ان کی معرفت اور خصوصیات کو کشف کرنے کے لئے کافی ھے۔

کیا یہ تمام چیزیں اتفاقی هوسکتی ھیں؟ اسی طرح کیا یہ تمام قوانین اور نظام کائنات صدفةً اور اچانک هوسکتے ھیں؟!!

آج کا سائنس مادہ کے ازلی هونے کو ردّ کرتا ھے

ھمیں اس بات کا یقین ھے اور اس بات پر ایمان رکھتے ھیں کہ یہ تمام جھان اور جو کچھ بھی اس میں موجود ھے جسے ھم ملاحظہ کررھے ھیں یہ سب قدیم زمانہ سے موجود ھیں اور یہ بات بھی مسلم ھے کہ ” عدم“ کے ذریعہ کوئی چیز وجود نھیں پاتی؟! بلکہ ھر چیز کے لئے ایک بنانے والے کا هونا ضروری ھے ، یعنی یہ تمام چیزیں پھلے نھیں تھیں اور بعد میں وجود میں آئیں، تو اب سوال یہ پیدا هوتا ھے کہ ان کا پیدا کرنے والا کون ھے؟

مادہ ھے یا خدا؟

اس جگہ اگر کوئی یہ کھے کہ ان کا پیدا کرنے والا مادہ ھے جیسا کہ بعض لوگ اس نظریہ کے قائل ھیں تو ھم ان سے یہ سوال کرتے ھیں کہ یہ مادہ کیسے پیدا هوا ؟اور اس کو کس نے پیدا کیا؟

ھمارے اس سوال کے جواب میں اھل مادہ کہتے ھیں:

”مادہ چونکہ پھلے سے موجود تھااور وہ ازلی ھے لہٰذا اس کے پیدا هونے اوراس کو پیدا کرنے والے کی ضرورت ھی نھیں

قارئین کرام ! آج کل کے سائنس نے اس نظریہ کو بہت ھی آسان طریقہ سے ردّ کیا ھے ، کیونکہ سائنس نے یہ بات واضح کردی ھے کہ یہ کائنات ازلی نھیں هوسکتی، کیونکہ نظام کائنات کا دستور یہ ھے کہ گرم اجسام سے گرمی سرد اجسام کی طرف جاتی ھے اورذاتی طور پر اس کے برعکس نھیں هوتی، مثلاً گرمی ٹھنڈی چیزوں سے گرم چیزوں کی طرف منتقل هو، اس کے معنی یہ ھیں کہ اس کائنات میں تمام اجسام کا درجہ حرارت متعادل رہتا ھے اور اس میں معین طاقت جذب هوتی ھے ،اور اگر ایک روز ایسا آجائے کہ جب اس میں کیمیاوی اور طبیعی کارکردگی نہ هو، تو اس کائنات میں کوئی شی بھی زندہ باقی نہ بچے، جبکہ ھم دیکھ رھے ھیں کہ اس کائنات میں حیات باقی ھے تو اس کا مطلب یہ ھے کہ اس میں مختلف قسم کی کارکردگی هورھی ھے ، لہٰذا ھم یہ نتیجہ حاصل کرتے ھیں کہ یہ کائنات ازلی نھیں ھے اور اگر اس کو ازلی مان لیا جائے تو اس کائنات کی تمام موجودات کبھی کی ختم هوگئی هوتیں۔

چنانچہ آج سائنس نے ایسے آلات بنالئے ھیں جن کی وجہ سے زمین کی عمر کا پتہ لگایا جاسکتا ھے ، لیکن پھر بھی اس کے نتائج تخمینی هوتے ھیں لیکن ان سے یہ بات معلوم هوتی ھے کہ یہ کائنات کروڑوں اور اربوں سال پھلے ایجاد هوئی ھے، یعنی اس کا مطلب یہ ھے کہ یہ ازلی (ھمیشہ سے)نھیں ھے اور اگر ازلی هوتی تو اس میں کوئی بھی عنصر نہ پایا جاتا، چنانچہ قوانین ”ڈینا میکا حراری“ “Thermo Dynamics”کا قانون دوم بھی اسی بات کی تصدیق کرتا ھے۔

لیکن وہ نظریہ جوکہتا ھے کہ” یہ کائنات دوری“ ھے یعنی پھلے یہ کائنات سُکڑی هوئی تھی ، پھر پھیل گئی اور اس کے بعد پھر سُکڑ ے گی اوریہ سلسلہ اسی طرح جاری ھے۔

لیکن یہ نظریہ بھی درست نھیں ھے اور نہ ھی اس کی دلیل قابل قبول ھے نیز نہ ھی اس کو علمی نظریہ کھا جاسکتا ھے، کیونکہ ”قوانین ڈینا میکا حراری“ “Thermo Dynamics” ، دلائل فلکی اور جیولوجی”Geological” ان تمام چیزوں سے مذکورہ نظریہ کی تائید نھیں هوتی بلکہ یہ چیز اس جملہ کی تائید کرتی ھے کہ ”زمین وآسمان کو ابتداء میںخداوندعالم نے خلق کیا ھے“:

”لقد خلق الله فی البدایة السماوات والارض“

(بے شک خدا نے ھی زمین وآسمان کو ابتداء میں خلق کیا ھے۔)

اسی طرح یہ بے عیب سورج اور چمکتے هوئے ستارے اوریہ زمین اپنی تمام زندگی کے اسباب کے ساتھ بہترین دلیل ھے کہ اس کائنات کی اصل واساس ایک خاص زمانہ سے مربوط ھے جس کا مطلب یہ ھے کہ یہ بعد میں حادث هوئی (یعنی ازلی اور ھمیشہ سے نھیں ھے۔)

اسی طرح علم کیمیا (کیمسٹری)بھی دلالت کرتا ھے کہ تمام مادے زوال اور فنا کی طرف بڑھ رھے ھیں چاھے ان کی رفتار تیز هو یا کم، لہٰذا اس سے یہ ثابت هوتا ھے کہ مادہ ھمیشہ باقی نھیں رھے گا ،اور نہ ھی یہ مادہ ازلی تھا پس اس مادہ کی بھی کوئی ابتداء تھی کہ جب یہ وجود میں آیا ، چنانچہ اس بات پر علم کیمیا اور سائنس بھی دلالت کرتے ھیںکہ مادہ کی ابتدا ء تدریجی نھیں بلکہ یہ اچانک اور یکایک پیدا هوا ھے ،لہٰذا سائنس کے ذریعہ اس کے پیدا هونے کا وقت معین کیا جاسکتا ھے ، تو پھر ان تمام چیزوں سے یہ بات واضح هوتی ھے کہ یہ عالَمِ مادی مخلوق ھے اور یہ جب سے خلق هوا ھے تو اسی وقت سے خاص قوانین کے تحت ھے اور کائنات کے قوانین کے ساتھ محدود ھے جس میں کوئی اتفاقی عنصر نھیں پایا جاتا۔

قارئین کرام ! تقریباً سوسال پھلے روس کے ایک ماھر ”مانڈلیف“ نے ایسے کیمیاوی عناصر مرتب کئے جو ذرات کے وزن کو ترتیب دوری کے لحاظ سے بڑھادیتے ھیں ،اور اس نے ایسے عناصر کا پتہ لگایا ھے جن کے ذریعہ مادہ کی ایک نئی قسم ایجاد هوتی ھے جس کی صفات تقریباً ایک دوسرے کے مشابہ هوتی ھیں، تو کیا ان تمام باتوں کو دیکھ کر یہ کھا جاسکتا ھے کہ یہ کائنات تصادفی اور اتفاقی طور پر پیدا هوگئی ھے؟!!

بتحقیق ”مانڈالیف“ کے کشفیات کو ”مصادفہ دوری“ کا نام نھیں دیا جاسکتا، البتہ اسے”قانون دوری“ “Periodic Law”کھا جاسکتا ھے۔

کیا یہ ممکن ھے کہ ان کو مصادفہ اور اتفاق کا نام دیدیں جیسا کہ ماھرین سائنس کا درج ذیل نظریہ :

عنصر ”الف“ ،عنصر ”ب“ کے ذریعہ متاثر هوتا ھے لیکن عنصر ”الف“ ،عنصر ”ج“ کے ذریعہ متاثر نھیں هوتا۔؟!

نھیں ھرگز نھیں! کیونکہ سائنسدانوں کا یہ ماننا ھے کہ اس کائنات کے تمام عنصر ”الف“ ،وعنصر ”ب“ میں قوت جاذبہ اور رجحان هوتا ھے لیکن یہ طاقت عنصر”ج“ میں نھیں هوتی۔

چنانچہ ماھر سائنسداںافراد کا ماننا ھے ھلکے معادنی ذرات اور پانی کے درمیان سرعت تفاعل معادنی ذرات کے اوزان کی زیادتی کی وجہ سے بڑھتی رہتی ھے ، اس حال میں کہ عناصر ”ھالوجینیہ “ جو جدا هوئے ھیں ان کی گردش ،مذکورہ گردش کے بالکل مخالف هوتی ھیں، اور آج تک بھی اس مخالفت کا سبب کسی کو معلوم نہ هوسکا، اس کے باوجود بھی کسی بھی شخص نے اس چیز کو محض مصادفہ کا نام نھیں دیا ھے، اور نہ کسی نے یہ گمان کیا ھے کہ ان عناصر کی مذکورہ گردش کبھی کبھی ایک دو مادہ کے بعد معتدل هوجاتی ھے، یا زمان ومکان کے اختلاف کی بناپر معتدل هوجاتی ھے، اور نہ ھی کسی کے دل میں یہ خیال آیا کہ یہ تمام ذرات بنفسہ کبھی کبھی اپنے تفاعل سے خارج هوجاتے ھیں، یا برعکس فعالیت کرنا شروع کردیتے ھیں یا بغیر کسی سوچے سمجھے اپنی فعالیت انجام دیتے ھیں۔

سائنس نے ترکیب ذرات کوکشف کیا ھے کہ کیمیا کی وہ فعالیت جو ھم مشاہدہ کرتے ھیں اور ان کی خاصیت کو ملاحظہ کرتے ھیں یہ سب کے سب، خاص قوانین کے تحت هوتے ھیں جن میں تصادفی اور اتفاقی کوئی چیز نھیں ھے۔

تاکہ ھم نامعلوم ذرات کے ذریعہ اس واضح نظریہ کو اخذ کریںکہ ھم یہ تصور کریں کہ اگر ”ھیڈروجن“ “Hydrogen”کے کروڑوں ذرات ایک جگہ جمع هوجائےں تو ایک ملی میڑ (m.m)جگہ میں جمع هوجاتے ھیں۔

بالفرض اگر ھم پیاسے هو ں اور ھم پانی پئیں تو جو پانی ھم پیتے ھیں تو اس میں کچھ ریت کے ذرات هوتے ھیں کیونکہ سمندر اور زمین میں هونے کی وجہ سے پانی میں مٹی کے ذرات پائے جاتے ھیں۔

اور کبھی کبھی یہ ذرات بہت ھی باریک باریک پتھر سے تشکیل پاتے ھیںجو بالکل ذرہ کے برابر هوتے ھیں۔

اور یہ ذرہ ایک نوات ( بہت ھی باریک پتھر )سے وجود میں آتا ھے کیونکہ یہ نوات باریک پتھر سے بنتے ھیں، چنانچہ ان میں کے بعض پروٹن هوتے ھیںاور بعض نیوٹرن ، جبکہ ان کے اردگرد ایک بعید فاصلہ پر الکٹرون گردش کرتی ھے۔

چنانچہ سائنسدانوں نے اس نظام میں بہت سی چیزوں کو کشف کیا ھے جن کی اب تک ۳۰/ قسموں کاپتہ چل چکا ھے جن میں سے بعض وہ ھیں جن کو ھم نے ابھی ذکر کیا ھے جیسے ”پروٹن“، ”نیوٹرون“ اور ”الکٹرون“۔ “Proton”,”Neutron”, “Electron”۔

اور ماھرین کا کہنا ھے کہ ”الکٹرون“ کے چکّر ایک سیکنڈ میں ۷ بلین “Billion” (ملین در ملین) هوتے ھیں۔

جبکہ بعض ذرات ایسے هوتے ھیں جو ایک دوسرے میں جذب هوجاتے ھیں اور بعض ذرات کی خاصیت یہ ھے کہ وہ ایک دوسرے سے دور بھاگتے ھیں چونکہ ذرات کے بھی کچھ قوانین ھیں جو انسان میں شادی اور طلاق کے قوانین سے دقیق تر ھیں۔

اسی طرح ھم جس نمک کو مختلف غذاؤں میں استعمال کرتے ھیں اس کے دو جز هوتے ھیں جو ایک ساتھ رہتے ھیں اور اگر اس کے یہ دو جز ایک ساتھ نہ هوں تو پھر ان میں کا ھر ایک جزء جسم میں فساد اور خرابی ایجاد کردیتا ھے، کیونکہ نمک میں دو درج ذیل چیزیں هوتی ھیں:

۱۔”کلورائیڈ“ “Chloride” جو ایک قسم کی گیس هوتی ھے جس کو اگر کوئی زندہ حیوان سونگ لے تو وہ موت کے گھاٹ اتر جائے۔

۲۔” سوڈیم“ “Sodium”جو ایک نرم عنصر هوتا ھے جو پانی کو خشک کردیتا ھے اور اس کے اندر سے دھواں اور شعلے نکلتے ھیں یہ بھی اگر کسی کے بدن میں داخل هوجائے تو وہ بھی مرجائے ، لیکن یھی دونوں زھریلی اور خطرناک چیزیں جب آپس میں مل جاتی ھیں تو نمک بن جاتاھے جس کے بعد نہ نقصان دہ هوتا ھے اور نہ شعلہ ور۔

اسی طرح پانی کے بھی تین اجزاء هوتے ھیں جس طرح سے اسلامی قوانین کے مطابق انسان کو یہ اختیار ھے کہ وہ ایک، دو تین یا چار بیویوں سے (ایک وقت میں) شادی کرسکتا ھے اسی طرح ذرات کا قانون بھی ھے پس جب ”کلورائیڈ“ ”سوڈیم“ سے ملتا ھے تو ھمارے لئے نمک بن جاتا ھے گویا یہ کلورڈ ایک ذرہ سے ملا ھے، اسی طرح جب آکسیجن،”Oxygen”، ھیڈروجن “Hydrogen” کے دو ذروں سے ملتا ھے تو پانی بنتا ھے، اور جب ”نیٹروجن“ تین ذروں سے ملتا ھے تو ”امونےا“نامی گیس بنتی ھے (جس کا مزہ منھ جلانے والا هوتا ھے جو بے رنگ اور تیز مزہ رکھتی ھے) اور جب ”کاربن“ “Carbon” ھیڈروجن “Hydrogen”کے چار ذروں سے ملتا ھے تو ”میٹھن“ “Methane”نامی گیس بنتی ھے۔

اسی طرح بعض عناصر ایسے ھیںجو انفرادی طور پر رہتے ھیںاور ان میں کے بعض ذرات کے نام اس طرح ھیں: ”نیون“ اور ”راڈون“(جو دونوںگیس ھیں)

قارئین کرام ! جیسا کہ آپ حضرات نے ملاحظہ کیا کہ عالم ذرات بھی کتنا عجیب ھے جس میں مختلف فائدہ مندجزئیات هوتے ھیں اور یہ ھماری زمین پر اس طرح ایک دوسرے سے مرتبط ھیں کہ انسان تصور کرنے سے قاصر ھے ، بس ایسے سمجھ لیجئے کہ جس طرح کسی بھی زبان کے حروف (جیسے عربی زبان میں حروف تہجی کی تعداد ۲۸/ ھے) کو ایک دوسرے سے ملاتے جائےں، ان سے کلمات بنتے جائیں تب آپ دیکھیں کہ کتنے عنصر بنتے ھیں حقیقت تو یہ ھے کہ لاکھوں او ر کروڑوں کی تعداد هوجائے گی۔

مثال کے طور پر یھی تین چیزیں :

۱۔ کاربن۔”Carbon” ۔

۲۔آکسیجن”Oxygen” ۔

۳۔ ھیڈروجن”Hydrogen”۔ کو اگر ایک دوسرے سے ملائیں تو لاکھوں کیمیائی مرکب تیار هوسکتے ھیں جن میں سے ھر ایک کی الگ الگ خاصیتیں هونگی۔

جیسا کہ ماھرین کا کہنا ھے کہ انسانی جسم کے مختلف پروٹن “Protein”کی اتنی قسم ھیں جن کی تعداد دسیوں لاکھ تک پهونچتی ھے جبکہ پروٹن”Protein”، کاربن”Carbon”، ھیڈروجن”Hydrogen” اور آکسیجن،”Oxygen” کے بغیر وجود میں نھیں آتی۔اور کبھی کبھی پروٹن کے ساتھ ”فاسفور “Phosphore” اور ”کاربرائڈ“”Carbide”هوتے ھیں اور کبھی نھیں هوتے۔

اسی طریقہ سے ھمارے لئے حیات کے تمام جزئیات واضح هوتے جاتے ھیں اوریہ جزئیات حیات اسی طریقہ سے جاری وساری ومتحدو منفصل (جدا) هوتے جاتے ھیں، چنانچہ اس زندگی کے تمام جزئیات کے ادوار اور اس کے اتحاد وانفصال کی تمام صورتیں ایک معین اور معلوم مقدار کے مطابق رواں دواں ھے نہ اس میں کمی هوتی ھے نہ زیادتی، کیونکہ ھرحالت کے لئے ایک قطعی قانون اور محکم نظام هوتا ھے ۔

کیا کوئی صاحب عقل اور مفکر انسان یہ سوچ سکتا ھے کہ عقل وحکمت سے خالی مادہ اپنے آپ کو خود بخود اچانک وجود میں لے آئے؟! یا یہ مجرد مادہ پھلے اس کائنات کے قوانین ونظام کا موجداور پھر ان قوانین کو اپنے اوپر لاگوبھی کردے یعنی پھلے ان قوانین کو اس مادہ نے ایجاد کیا اورپھر یہ مادہ ان قوانین کے ماتحت هوجاتا ھے؟!!

بلا شبہ ھر صاحب عقل کا جواب یھاں نفی میں هوگا، بلکہ مادہ جب طاقت میں تبدیل هوتا ھے یا مادہ میں طاقت آتی ھے تو یہ تمام چیزیں معین قوانین کے تحت هوتی ھیں، اور وہ مادہ جو وجود میں آیا ھے وہ بعد میںان قوانین کا محکوم هوتاھے یعنی اس پر معین قوانین لاگو هوتے ھیں۔

اور جب ھمارا یہ مادی عالم اپنے جیسا( عالم) خلق کرنے یا ایسے قوانین تعین کرنے سے، (جو اس کے زیر اثر هوں)عاجز ھے تو پھر ضروری ھے کہ اس عالم کی خلقت ایک ایسے موجود کے ذریعہ وجود میں آئے جو مادہ کے علاوہ هو۔

چنانچہ ھماری اس بات کی تائید قوانین حرارت کرتے ھیں، اور ھم انھیں کے ذریعہ طاقت میسورہ اور طاقت غیر میسورہ کے درمیان فرق محسوس کرتے ھیں،اور بتحقیق یہ بات ظاھر ھے کہ جب کوئی بھی حرارت متغیر هو توطاقت میسورہ کا ایک معین جز طاقت غیر میسورہ میں تبدیل هوجاتا ھے، جبکہ یہ بات بھی واضح ھے کہ طبعیات میں یہ تغییر و تبدیلی اس کے برخلاف نھیں هوتی،اور یہ” ڈینا میکا حرارتی قوانین“ “Thermo Dynamics”کا دوسرا قانون ھے۔

اور جب یہ بات طے هوگئی کہ مادہ ازلی نھیں ھے بلکہ حادث ھے (جیسا کہ تفصیل گذر چکی ھے) تواس کے لئے کسی محدث کا هونا ضروری ھے،کیونکہ کوئی بھی چیز اپنے کو پیدا نھیں کرسکتی ،بلکہ یہ بات عقلی طور پر محال ھے کہ کوئی شے اپنی موجد هو۔

پس نتیجہ یہ نکلا کہ مادہ کا خالق اور موجد خداوندعالم کے علاوہ کوئی دوسر انھیں هوسکتا۔

صُدفہ نظریہ کے دلائل اور اس کی ردّ

اگر ھم تھوڑی دیر کے لئے یہ فرض کرلیں کہ” تطورمادہ“ (حرکت مادہ) بر بناء صُدفہ ھے،تو ھمیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ یہ مصادفت (اتفاق) موجودات عالم کے لئے بمنزلہ سبب ھے، اور کوئی بھی عقل اس بات کو قبول نھیں کرسکتی۔

چنانچہ علم طبیعات کے ماھر ڈاکٹر ”نوبلٹشی“کہتے ھیں:

”میں کبھی بھی یہ تصور نھیں کرسکتا کہ صرف مصادفت (اتفاق) الکٹرون پھلے پروٹن کے لئے مظھر هو یا پھلے ذرات، یاپھلے احماض الامینیةیا پروٹوپلازم الاول “Protoplasm 1st” یا بذرة اولیٰ یا عقل اول کے لئے مظھر هو !! بلکہ میرا عقیدہ تو یہ ھے کہ ان تمام چیزوں کا مظھر اور مفسر واجب الوجود اللہ کی ذات ھے جو کائنات کی تمام اشیاء پر محیط ھے۔

قارئین کرام ! مصادفہ اور احتمال کا نظریہ ریاضی “Mathe matical” لحاظ سے تفصیلی طور پر گذر چکاھے ، جس کی بنا پر ھم بعض چیزوں کے بارے میں اتفاقی وجودکے قائل هوئے کہ جن کی تفسیر اس کے علاوہ کوئی نھیں هوسکتی لیکن مذکورہ بحث کے مطالعہ سے اس بات پر قادر هوجاتے ھیں کہ ھم ان اشیاء کے درمیان اتفاقی اور غیر اتفاقی اشیاء کے درمیان فرق کرلیں، لہٰذا اب ھم یھاں پروہ بحث بیان کرتے ھیں جس میں مادہ کو منشاء حیات قرار دیا گیاھے۔

چنانچہ بلا شبہ یہ بات طے شدہ ھے کہ اساسی مرکبات کے پروٹن”Protein” تمام زندہ خلیے “Cells”پانچ عناصرسے مرکب هوتے ھیں:

۱۔ کاربن”Carbon”۔

۲۔ ھیڈروجن”Hydrogen”۔

۳۔ نیٹروجن”Nytrogen”۔

۴۔ آکسیجن،”Oxygen” ۔

۵۔کبریت( سلفور)”Sulfur”

اور پروٹن کے ایک جز میں ۰۰۰’۴۰ذرات پائے جاتے ھیں، اور اب تک سائنس نے ۱۰۲/ عناصر کا پتہ لگایا ھے توکیا ان کی تقسیم ایک اتفاقی اور تصادفی ھے،اورجب یہ پانچ عناصر ایک جگہ جمع هوتے ھیں تو پروٹن کا ایک جز بنتا ھے ، لہٰذا جب اس پروٹن کے ایک جز کے لئے اتنا دقیق حساب درکار ھے تو اس مادہ کے لئے جو تمام چیزوں کا لازمہ ھے اس میں ان ذرات کا حساب کس قدر دقیق هونا چاہئے۔

جیسا کہ سویسی ریاضی داں ”ٹشالزیوجن“ نے ا ن تمام اسباب کا حساب وکتاب پیش کیا ھے، چنانچہ وہ کہتا ھے کہ اس کائنات کا صدفةً اور اتفاقی پیدا هونے کا احتمال اربوں اور کھربوں میں سے صرف ایک احتمال ھے ، کیونکہ اس نے اس طرح حساب کیا ھے کہ اگر عدد ۱۰/ کو ۱۰ میں ۱۶۰/مرتبہ گنا کیا جائے تو اربوں کھربوں اور پدم وغیرہ سے بھی بڑی رقم بنی گی جس کو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ھے تو اس رقم میں سے صرف ایک احتمال پایا جاتا ھے اور پھر کائنات کے لئے مادہ کی آزمایش کے لئے ملیونوں بار آزمائش کی ضرورت پڑی گی کیونکہ صرف زمین پر موجود پروٹن کے ایک جز کے لئے اربوں کھربوں سال کی ضرورت پڑے گی جس کا حساب مذکورہ دانشمند نے اس طرح کیا کہ عدد ۱۰ کو ۱۰ میں ۲۴۳ بار گنا کیا جائے تو یہ رقم تو گذشتہ رقم کے لاکھوں گنا هوجائے گی جس کو بیان کرنے کے لئے انسان کے پاس الفاظ نھیں ھے ، مطلب یہ ھے کہ ان تمام حساب وکتاب کے پیش نظر اس کائنات کو اتفاقی کی پیدا وار کہنے کی کوئی صورت نھیں ھے، کیونکہ زمین کی پیدائش کا اندازہ لگایا لیا گیا ھے لیکن اس اعتبار سے ہزاروں برابر سال درکار ھیں تاکہ صرف زمین پر موجودات اس اعتبار سے پیدا هوں۔

اور اگر ھم مذکورہ قاعدہ سے تھوڑا تنزل کریں اور ”ھیموغلوبین“ “Hemogbobin” کے ذرات کو دیکھیں جو کہ خون میں لال رنگ کے هوتے ھیں (جبکہ ڈاکٹروں کا کہنا ھے کہ یہ پروٹن”Protein” کی ترکیب کا سب سے کم درجہ ھے) تو ان میں ”کاربن“ “Carbon”کے ۶۰۰/متحد ذروں سے بھی زیادہ پائیں گے جن میں ھیڈروجن “Hydrogen”کے ۱۰۰/ ذروں سے کم نھیں هوتے اور نیٹروجن کے ۲۰۰/ ذروں سے زیادہ هوتے ھیں اسی طرح آکسیجن،”Oxygen” کے بھی ۲۰۰/ ذروں سے زیادہ هوتے ھیں یھاں تک کہ انسان میں ۲۵/ٹریلین (25,000,000,000,000,000,000,)) خون کے دائرے هوتے ھیں۔

اسی طرح علم کیمیا کے ماھر ڈاکٹر” بوھلڑ “ کہتے ھیں :

اورجس وقت انسان، قوانین مصادفہ (اتفاقی نظریہ) کو ملاحظہ کرتا ھے تاکہ اس بات کا اندازہ لگائے کہ کائنات کے کسی ایک پروٹن کے کسی ایک جز کا اتفاقی هونا کھاں تک درست ھے، تو معلوم هوتا ھے کہ زمین کی عمر تقریباً تین بلین(ملیون در ملیون) (3,000,000,000,000,000,) سال یا اس سے بھی زیادہ ھے لیکن اس طویل مدت سے یہ ظاھر هوتا ھے کہ یہ کائنات اتفاقی نھیں ھے۔

قارئین کرام ! مذکورہ باتوں کے پیش نظر یہ بات ثابت ھے کہ یہ پروٹن “Protein” زندگی دہندہ کیمیاوی مواد ھیں اور ان میں زندگی نھیں پائی جاتی مگر جب تک ان میں وہ عجیب وغریب راز ودیعت نہ کیا جائے جس کی حقیقت کو ھم نھیں پہچانتے۔

بتحقیق اساسی مواد میں جن میں”Hydrogen”,”Oxygen”,”Carbon”, کے ساتھ کچھ عناصر نیٹروجن اور دیگر عناصر پائے جاتے ھیں تو ان کے لئے ملیونوں ذرات پائے جاتے ھیں تب ایک چھوٹا سا مواد بنتا ھے ، اور جب ھم اس سے بڑے جسم والے مواد کو دیکھتے ھیں تو اس ذرات کی بنا پر مصادفہ (اتفاقی) نظریہ کا بہت کم احتمال باقی بچتا ھے جس کو عقل انسانی سوچنے کے لئے بھی تیار نھیں هوتی اور اس کو ماننے سے انکار کردیتی ھے ۔

چنانچہ مذکورہ گفتگو کے پیش نظر ”علوم اکاڈمی نیویورک“ کے صدر استاد ”کرس موریسن“ وضاحت کرتے ھیں:

”فرض کریں کہ آپ کے ایک تھیلے میں پتھر کے ۱۰۰ عدد ٹکڑے ھیں جن میں ۹۹/کالے ھیں اور ایک سفید ھے،اور ان کو آپس میں ملالیںاس کے بعد اگر آپ تھیلے میں ھاتھ ڈال کر ان میں سے سفید پتھر نکالنا چاھیںتو اس سفید پتھر کے نکلنے کا احتمال ایک فیصد ھے، اسی طرح اگر آپ اس کے بعد دوبارہ پتھر نکالنا شروع کریں تو بھی سفید پتھر کے نکلنے کا احتمال ایک ھی فیصد رھے گا لیکن اگر اسی کام کو دومرتبہ لگاتار نکالیں تو اس کا احتمال دس ہزار میں سے ایک ھے اور اگر تیسری مرتبہ لگاتار نکالنا چاھےں تو اس کا احتمال دس لاکھ میں سے ایک ھے، اور اگر اس کے بعد اس کام کو چار بار لگاتار نکالیں تو رقم زیادہ هوجائے گی، کیونکہ ھر بار اس عدد کو اسی میں گنا کیا جائے گا، مثلاً ۱۰۰ گنا ۱۰۰ دس ہزار هوتے ھیں اسی طرح اگر تین بار لگاتار نکالنا چاھیں تو دس ہزار دس ہزار میں گنا کیا جائے گا جس سے دس لاکھ بن جائے گا، تو جتنی مرتبہ میں آپ اس سفید پتھر کو نکالنا چاھیں تو اس عدد کو اسی میں گنا کرتے چلے جائیں گے ، اور اس سفید پتھر کے نکلنا کا چانس گھٹتا چلا جائے گا۔

چنانچہ اس طریقہ کار سے ھمارا مقصد یہ ھے کہ ھم اپنے قارئین کو علمی اورواضح طریقہ سے ان دقیق حدود کو بیان کریں جن کے ذریعہ زمین پر زندگی بسرکرنا ممکن ھے اور حقیقی برھان کے ذریعہ زندگی حقیقی کے تمام مقومات کو ثابت کریں اور یہ بتائیں کہ کسی بھی وقت میں کوئی ایک ستارہ صرف صدفہ اور اتفاقی طور پر پیدا نھیں هوا ھے۔

کیونکہ جب ھم عالم مادی کی طرف دقت سے دیکھتے ھیں تو ھمیں معلوم هوتا ھے کہ چھوٹے سے چھوٹا ذرہ اور بڑے سے بڑاایٹم ، ان میں خاص قوانین اور حساب وانضباط پایا جاتا ھے۔

یھاں تک کہ الکٹرون بھی ایک مدار سے دوسری مدار کی طرف نھیں جاتے جب تک کہ وہ ان کو اس طرح کی مساوی طاقت نہ مل جائے تاکہ وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل نہ هوجائے، گویا ایک مسافر کی طرح ھے کہ جب تک اس کو زاد راہ نہ دیا جائے وہ سفر نھیں کرسکتا۔

چنانچہ ستاروں کی پیدائش اور ان کی موت کے بھی خاص قوانین اور اسباب ھیں۔

ستاروں کے گھومنے میں طاقت متعادل ھے۔

اسی طرح مادہ ایک طاقت میں تبدیل هوتا ھے اور سورج کے جسم کو نور معادلة کی طرف روانہ کرتا ھے۔

اسی طرح نور کے لئے بھی ایک معین رفتار ھے۔

اسی طرح ھر موج کے لئے طول هوتا ھے اور حرکت کرنے والی طاقت بھی اور اس کی معین رفتار بھی۔

جیساکہ ھر معادن کے لئے کچھ ایسے مقناطیسی واضح اجزاء وخطوط هوتے ھیں جن کے ذریعہ سے یہ معادن گردشی سسٹم میں قابل شناخت ھیں۔

اسی طرح ھر معدن اپنی خاص مقدار میں هوتا ھے اس میں گرمی او ر سردی خاص مقدار میں هوتی ھے اسی طرح ھر معدن کے لئے ضخامت اور بدن اور خاص وزن هوتا ھے۔

چنانچہ ”اینش ٹن“ نے یہ ثابت کیا ھے کہ ھر معادن کے جسم اور اس کی رفتار میں خاص تناسب ھے ، اسی طرح زمانہ اور نظام حرکت جو ایک متحرک مجموعہ ھے اس میں اور زمان ومکان میں رابطہ پایا جاتا ھے۔

جس طرح بجلی بھی خاص قوانین کے تحت پیدا هوتی ھے۔

اسی طرح زلزلہ جس کے بارے میں کھا جاتا ھے کہ یہ بے قانونی کی وجہ سے حادث هوتا ھے لیکن یہ بھی ایک خاص نظام کے تحت هوتا ھے۔

اسی طرح کرہ زمین کا حجم اور اس کی سورج سے دوری ، اسی طرح سورج کی گرمی اور اس کی شاعیں جن کی وجہ سے مختلف چیزوں کو حیات ملتی ھے ، اسی طرح زمین کا اوپری حصہ، نیزپانی کی مقدار ، اور ”ڈائی آکسائیڈ کاربن ثانی“”Carbon Dioxide”اسی طرح نایٹروجن کا حجم ، اور انسان کی پیدائش اور اس کا زندگی بھر باقی رہنا، یہ تمام کی تمام (کسی کے )ارادے اور قصد پر موقوف ھیںاور جیسا کہ معلوم هوا ھے کہ یہ تمام چیزیںدقیق اور باریک حساب کے تحت هوتے ھیں ،توکیا ان سب کا اتفاقی طور پر پیدا هونا ممکن ھے؟!!

لیکن مادی لوگوں نے اتفاقی نظریہ کو ثابت کرتے هوئے کھا ھے:

”بالفرض اگر حروف ابجد سے ایک صندوق بھرا هوا هو جس کی ترتیب وتنظیم کو لاکھوں اور کروڑوں مرتبہ لاتعداد صدیوں میں انجام دیا گیا هو ، اس صورت میں کوئی مانع پیش نھیں آتا کہ ھم ایک منظوم قصیدہ کے نظم ونسق وترتیب کو صرف ایک دفعہ میں جدا کردیں، چنانچہ اس صورت میں قصیدہ کے حروف کی دوبارہ ترتیب میںصرف ھم کو ایک عمل کرنا پڑے گا اور وہ عمل وھی ھے جو ھم نے قصیدہ کی ترتیب وتنظیم کے جدا کرنے میں انجام دیا تھا، پس ترتیب جدا کرنے میںھم کو صرف ایک عمل (مصادفت)کے علاوہ اور کسی چیز کی ضرورت نھیں هوئی۔

اسی طریقہ سے ھمارا یہ عالم مادی جس کے بارے میں بہت سی ممکنہ مصادفات (اتفاقات) ھماری عقل میں آسکتی ھیں چنانچہ گذشتہ مثال کی طرح ھم عالم مادی میں بھی یھی طریقہ اپنا سکتے ھیں یعنی عقل اس بات سے منع نھیں کرتی کہ ھم اس نظام میں متعدد پائے جانے والے اتفاقات میں سے ایک اتفاق کو جدا کرلیں، اور یہ عالم مادہ چاھے عالَم جماد هو یا عالم حیات۔“

لیکن ان کے قول کو ردّ کرنے کے لئے مذکورہ مثال کی تحلیل کرنا ھی کافی ھے، جس میں چند احتمالات پائے جاتے ھیں:

۱۔سب سے پھلے ھمارے پاس ایسے حروف هونا ضروری ھے جن سے قصیدہ کھا جاسکتا هو، ان میں سے نہ ایک حرف کم هو اور نہ زیادہ۔

۲۔ ان حروف کومنظم ومترتب کرنے والی طاقت کا هونا بھی ضروری ھے۔

۳۔ اس طاقت کا باقی رہنا تاکہ نظم وترتیب هوتی رھے اور بیچ میں متوقف نہ هو۔

۴ ۔ ایسی بافھم قوت کا هونا ضروری ھے جو قصیدہ تمام هونے پر تنظیم وترتیب کی حرکت کو موقوف کردے۔

چنانچہ ان چاروں احتمالات میں ان کے دعویٰ کو باطل کرنے والی دلیل موجود ھے۔

پھلے فرضیہ میں ھم یہ سوال کریں گے کہ مذکورہ حروف جن کو ترتیب دیا گیا کس طرح پیدا هوئے؟ اور مادہ مختلف اجزاء میں کس طرح تقسیم هوا اور اس طرح کے نتائج کیسے برآمد هوئے؟ اس کے بعد اس تقسیم کے لئے کس طرح اتحاد کی قابلیت پیدا هوئی؟!

دوسرے فرضیہ میں ھم یہ سوال کریں گے :

وہ کونسی طاقت ھے کہ جس کے تحت یہ ترتیب وتنظیم انجام پائی اور کیا یہ عقلی طور پر صحیح ھے کہ یھی حروف بذات خود اس بات کی صلاحیت رکھتے هوں کہ وہ خود بخود محرک هوکر کوئی قصیدہ بن جائےں؟

تیسرے فرضیہ میں ھم یہ سوال کرتے ھیں کہ اگر ھم یہ فرض کرلیں کہ حروف کے درمیان ایک قوت محرکہ پائی جاتی ھے جو تنظیم وترتیب کاکام انجام دیتی ھے لیکن سوال یہ پیدا هوتا ھے کہ آیا وہ کونسی طاقت ھے جو اس قوت محرکہ کو اثنائے حرکت میں رکنے نھیں دیتی، کیا اس قوت محرکہ کے پاس اس حرکت کو مسلسل جاری رکھنے کا ادراک پایا جاتا ھے؟!

چوتھے فرضیہ میں ھمارا سول یہ ھے کہ وہ طاقت کونسی ھے جس نے اس قصیدہ کے تمام هونے پر اس قوہ محرکہ کے استمرار کو روک دیا،اور پھریہ قوت کیوں اس کام کو مسلسل جاری رکھنے سے متوقف هوگئی؟!

< إِنَّ اللهَ یُمْسِکُ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضَ اٴَنْ تَزُولاَوَلَئِنْ زَالَتَا إِنْ اٴَمْسَکَہُمَا مِنْ اٴَحَدٍ مِنْ بَعْدِہِ إِنَّہُ کَانَ حَلِیمًا غَفُورًا >[39]

”بے شک خدا ھی سارے آسمان اور زمین اپنی جگہ سے ہٹ جانے سے روکے هوئے ھے اور اگر (فرض کرو کہ) یہ اپنی جگہ سے ہٹ جائیں تو پھر اس کے سوا انھیں کوئی نھیں روک سکتا بے شک وہ بڑا بردبار (اور) بڑا بخشنے والا ھے۔“

قارئین کرام ! گذشتہ مطالب کے پیش نظریہ بات واضح هوچکی ھے کہ مذکورہ نظریہ کو نہ تو منطق قبول کرتی ھے اور نہ ھی عقل تسلیم کرتی ھے،چنانچہ یہ تمام احتمالات اس بات پر دلالت کرتے ھیں کہ ایک ایسی قوت کا هونا ضروری ھے جو ازلی ، ابدی ، ھمیشگی اور صاحب عقل هو،

اور اسی نے اس عظیم کائنات کو بغیر کسی اضطراب و اتفاق کے مرتب و منظم طریقہ سے خلق کیا ھے ۔

ھم نظریہ صدفہ کے باطل هونے کے سلسلے میں مزید عرض کرتے ھیں:

اگر ھم بدون حیات مادہ میں حیات کا تصور کریں تو ھماری عقل دوچیزوں میں سے ایک چیز کو قبول کرتی ھے اور اس میں کسی تیسری چیز کا تصور نھیں :

۱۔ یا تو حیات مادہ کی خصوصیات اور لوازم میں سے ھے تو پھر اس صورت میں حیات کی خلقت کے لئے خالق مرید کی کوئی ضرورت نھیں !

۲۔ یا پھر حیات کا کوئی خالق ھے۔

پس اگر کوئی یہ کھے کہ حیات اورزندگی مادہ کی خاصیتوں میں سے ھے تو ھم اس سے یہ کھےں گے کہ اس صورت میں مادہ ازلی اور ابدی ھے جس کا اول وآخر نھیں ھے اور وہ ازل سے اپنی تمام خصوصیات کے ساتھ موجود ھے، اور اس کی خصوصیات اس کے ساتھ ھیں چاھے جھاں بھی رھے۔

لیکن اس صورت میں یہ کہنا غلط هوگا کہ فلاں ستارہ پیدا هوا اور فلاں ستارہ پیدا نھیں هوا کیونکہ حیات کی تمام خصوصیات کا بغیرکسی اثر کے اربوں سال تک باقی رہنے کا کوئی مقصد نھیں ھے کہ حیات ایک زمانے کے بعد ظاھر هو جس کا تاریخ نے اربوں سال کا حساب کیا ھے لہٰذا اس جگہ سوال یہ پیدا هوتا ھے کہ حیات اتنے طولانی عرصے کے بعد کیوں ظاھر هوئی جبکہ حیات کے خصوصیات ازل سے موجود ھیں؟!!

اور اگر ھم یہ فرض کرلیں کہ حیات کا مادہ ازلی ھے تو اب سوال یہ در پیش ھے کہ یہ اتفاق(صدفہ) سے پیدا هوکر دائمی کسیے هوگئی؟ اوریہ اتنی طولانی مدت کھاں رھی ؟ یھاں تک کہ وہ یکایک بغیر کسی ارادہ وقصد کے وقوع پذیرهوگئی ؟!!

پس ان تمام باتوں سے یہ ثابت هوا کہ ھم اس دوسرے فرضیہ کو صحیح مانیں کہ اس مجرد(بدون حیات) مادہ کے لئے ظهور حیات ایک خالق ازلی، مریداور صاحب اختیار سے وجود میں آئی ھے جو اس کے ظهور کے لئے زمانہ معین کرتا ھے اور جس جگہ رکھنا چاھے رکھتا ھے ،پس اسی نے اس کائنات کو اپنے ارادہ اور حکمت سے خلق کیا ھے، اور اسی کا نام اللہ تبارک وتعالیٰ ھے۔

زمین پر حیات کی شروعات

ھم اپنی بات کو تمام کرنے سے پھلے اس سوال کا جواب دینا اپنے لئے ضروری اور مناسب سمجھتے ھیں :زمین پر زندگی کا آغاز کیسے هوا؟ اور کیا اس حیات کی اصل سورج هوسکتا ھے؟!

لہٰذا ھم اس سوال کے جواب میں یہ عرض کرتے ھیں کہ حیات اور زندگی کیا ھے؟ کیا یہ حجم والی چیز ھے یا وزن دار مادہ؟ یا یہ ان دونوں چیزوں سے مل کر تشکیل پاتی ھے؟

حیات ایک ایسا اثر ھے جس کا ایک زندہ خَلیہ ” Cell “میں مشاہدہ کیا جاسکتا ھے وہ بھی ٹلسکوپ “Telescope” وغیرہ کے ذریعہ، لہٰذا جب یہ معمولی اور سب سے چھوٹا نقطہ جو ”پروٹو پلازم“ “Protoplasm”سے مخلوط هوتا ھے اور اس میں زندگی کے آثار پائے جاتے ھیںجو هوا میں سے “Carbon Dioxide2th”خورشید سے حاصل کرتا ھے ، اور پانی سے “Hydrogen”, نکلتا ھے چنانچہ ان دونوں چیزوں سے اس کی غذا فراھم هوتی ھے جس کے ذریعہ وہ رشد ونموکرتا ھے۔

چنانچہ ماھرین نے ”پروٹو پلازم “ “Protoplasm”کو بارھا مختلف وسائل اور مختلف زمانے میں خلق کرنا چاھالیکن سب ناکام رھے اور اسی وجہ سے خدا پر ایمان میں اضافہ هوا جو ان تمام خلیوں کا خالق ھے کیونکہ مخلوقات اپنی کو نھیں بناسکتی۔

چنانچہ یھی واحد زندہ خلیہ جو حیات کا واحد عنصر ھے جس کی بنا پر یہ کائنات وجود میں آئی تو کیا یہ پھلا خلیہ خود بخود اچانک پیدا هوگیا یا اس کو کسی نے خلق کیا ھے؟!

قارئین کرام ! زندگی کی ابتداء کے بارے میں مختلف قسم کے نظریات پائے جاتے ھیں جن میں سے بعض افراد نے یہ کھاھے کہ حیات ”پروٹوجن “یا ”فیروس“ سے شروع هوئی ھے یا ”پروٹن“ کے وجود سے شروع هوئی ھے جبکہ بعض لوگوں کا یہ بھی گمان ھے کہ ان نظریات نے اس میدان کا دروازہ بند کردیا جس سے عالم جماد اور عالم حیات میں فرق پیدا هوتا ھے ۔

جبکہ حقیقت تو یہ ھے کہ مذکورہ کسی بھی نظریہ میں اتنی صلاحیت نھیں ھے کہ ان کو قبول کرلیا جائے کیونکہ ان کی دلیلیں بہت کمزور ھیں ۔

ان تمام کے باوجود جو شخص بھی خدا کے وجود کا انکار کرتا ھے وہ کوئی ایسی علمی دلیل پیش کرنے سے قاصر ھے کہ تمام ذرات جمع هوکر اتفاقی طور پر زندگی کے اسباب بن گئے ، کیونکہ خلیوں میں ھر ایک خلیہ اتنا دقیق ھے کہ ھماری سمجھ میں آنا مشکل ھے اور اس کائنات میں اربوں، کھربوں خلیہ موجود ھیں جو اپنی زبان بے زبانی سے خدا کی قدرت کی گواھی دے رھے ھیں، جن پر عقل وفکر اور منطق دلالت کررھی ھیں۔

اسی طرح حیات کی یہ تعریف کرنا کہ یہ ایک کیمیاوی نشاط ھے ، یہ تعریف بھی قابل قبول نھیں کیونکہ مردہ جسم میں بھی کیمیاوی مادہ پایا جاتاھے، اسی طریقہ سے خود مٹی میں بھی لوھا، تانبا اور کاربن نکلتا ھے۔

اسی طرح یہ کہنا کہ جنسی خواہشات ” تستوسترون ھارمون“”Testosterone Hormone”کی وجہ سے هوتا ھے ،لیکن اس کے بھی کوئی معنی نھیں ھےں کیونکہ ھم یہ کہتے ھیں اس Hormoneمیں یہ فاعلیت اور خاصیت کس نے عطا کی؟!!

اسی طریقہ سے وہ لوگ جو کہتے ھیں کہ عالم نباتات کی حرکت سورج مکھی کے پھول کی طرح ھے جس میں ”ھارمون اکسین“ “Hormone Auxin.” کا کردار هوتاھے اورھمیشہ اسی طرح یہ پھول سورج کی طرف گھومتا رہتا ھے اور اس میں کوئی مشکل ایجاد نھیں هوتی۔

لہٰذا ھم یھاں پر یہ سوال کرتے ھیں کہ وہ کونسی طاقت ھے جس نے مادہ کو اس طرح کی تاثیر عنایت کی جو نباتات میں اسی طرح کیمیاوی عناصر کو پهونچاتی ھے۔؟

کیونکہ ابھی تک خلیہ میں کیمیاوی ترکیب نے ھمارے اوپر راز حیات کو واضح نھیں کیا ھے کیونکہ حیات صرف مجرد منظومہ اور جامد مثلاً مکان نھیں ھے بلکہ یہ تو حیات منظومہ صاحب حیات ھے جس میں ایک طاقت هوتی ھے جن کے اندر ایسی قدرت هوتی ھے جس کے ذریعہ وہ ہدایت کرتا ھے اور ایک ایسی فطرت ھے جس میں تنظیم و ترتیب کی صلاحیت هوتی ھے۔

اسی طرح سائنس کا ایک نظریہ یہ بھی ھے کہ یہ ھماری زمین سورج سے جدا هوئی ھے اور جس وقت یہ سورج سے جدا هوئی ،اس وقت اس کی گرمی سورج کے برابر تھی اور ھمارے فرض کے حساب سے اس کا درجہ حرارت ، سورج کے اس وقت کی گرمی کے برابر ھے اور چونکہ ملیونوں سال سے اس کی گرمی میں کمی واقع هورھی ھے۔

لہٰذا اس وقت اس کی سطح کی گرمی (۶۰۰۰) درجہ ھے ، لیکن اس کے اندر کا درجہ حرارت چالیس ملین (چار کروڑ) درجہ ھے، اور جب اس زمین نے ان گیسوں کو حاصل کرناشروع کیا جو سورج سے جدا هوئیں تھیں تو یہ زمین سطح ارض پر ٹھنڈی هونے لگی اور پانی جب زمین کے اس حصے سے مس هوا جو مرتفع اور حرارتی تھا تو یہ پانی فضا کی جانب بخار کی شکل میں جانے لگا کہ جس کا درجہ قابل تصور نہ تھا پس یہ پانی اس فضا کے مقابل قرار پایا جو سورج اور زمین کے درمیان ٹھنڈی تھی اس کے بعد یہ زمین کی طرف ھلاک کنندہ طوفان کی طرح واپس هوا، اور آہستہ آہستہ جب اس میں درجہ حرارت کم هوا تو پانی ایک جگہ رک گیا اور کھیں سمندر کی شکل میں اور کھیں منجمد هوکر پھاڑوںکی شکل میں ظاھر هوا۔

اور اگر کرہ ارضیہ کے بارے میں یہ فرضیہ صحیح هو تو پھر ذرا اس زندہ خلیہ کے بارے میں فکر کریں جس کے بارے میں کھا جاتا ھے کہ یہ زمین کے ساتھ سورج سے جدا هوا ھے، تو پھر یہ کیسے ممکن ھے کہ ۶۰۰۰/ درجہ حرارت میں کس طرح باقی رہ سکتا ھے ، اگرچہ یہ خلیے غلاف شدہ ھی کیوں نہ هوں۔

کیونکہ انسان کا درجہ حرارت ۳۷ /درجہ هوتا ھے لیکن جب مریض هوتا ھے تو یہ درجہ حرارت ۴۰ /درجہ تک پهونچ جاتا ھے ، اور جب پانی کا درجہ حرارت سوپر پهونچ جاتا ھے تو وہ بخار بن جاتا ھے، اور اس صورت میں ہزارواں درجہ کفایت کرے گا کیونکہ یہ درجہ ھر شے کو گیس کا درجہ بنادیتا ھے اس صورت میں کوئی بھی سخت سے سخت چیز پگھل جاتی ھے، پس اگر یہ درجہ حرارت ۶۰۰۰ /پر پهونچ جائے توپھر اس کائنات کا کیا حال هوگا؟!!

لہٰذا علم وعقل دونوں اس بات پر متفق ھیں کہ سورج کے جدا شدہ خلیہ کے ذریعہ حیات کا آغاز هونا محال اور ناممکن ھے، لہٰذا اس کے لئے ضروری ھے کہ ایک خالق حیّ هو جو زمین پر مخلوقات کو پیدا کرے۔

چنانچہ ایک مشهور ومعروف ماھر ”غوسٹاف بونیہ“ کا یہ قول کتنا بہترین ھے:

”اگرھم نے زندہ مادہ کو خلق کیا ھے تو پھر یہ فکر کرنا کیسے ممکن ھے کہ کتنے ھی اجتماعی ،وراثتی اور پیچیدہ پیش آنے والے خصائص ”پروٹوپلازم حیّ“کے ٹکڑے میں پائے جاتے ھیں۔؟“

…..

قارئین کرام !

ان تمام باتوں کی تفصیل کے بعد ھم یھاں ایک یہ اھم سوال کرنا چاہتے ھیں:

”یہ پھلی موجود جس میں پھلے حیات نہ تھی کھاں سے آئی؟ اور کس طرح مختلف حالات میں تبدیل هوئی؟ جبکہ اس میں پھلے کبھی حیات نہ تھی۔کیا یہ عدم سے وجود میں آگئی؟ یا مردہ مادہ سے پیدا هوئی؟!!

اور کس طرح ایک مردہ شے سے زندہ چیز بن سکتی ھے اور وجود، عدم سے کیسے بن سکتا ھے۔؟“

اس سوال کا جواب سائنس کے پاس مفروضوں اور تخمینوں کے علاوہ اور کچھ نھیں ھے۔

مثلاً ایک صاحب کہتے ھیں کہ یہ پھلی مخلوق ، آسمان سے شھاب( بجلی) کے ذریعہ نازل هوئی ھے ، یعنی جب بہت ھی دوری پر موجود ستاروں سے شھاب جداهوئے تو ان کے ذریعہ یہ زندگی وجود میں آئی۔

اس کاجواب تو خود ھمارے سوال کی طرف پلٹ رھا ھے ، یعنی ھم پھر سوال کرتے ھیں کہ یہ پھلی مخلوق ان دوردراز ستاروں میں کھاں سے آئی؟

چنانچہ ایک اور ماھرسائنس کہتا ھے کہ یہ حیات مردہ مادہ کے ذرات کی ترتیب سے وجود میں آئی ھے ، اور اس نظریہ پر ھماری دلیل یہ ھے کہ زندہ مادہ، مردہ عناصر سے وجود میں آتا ھے جیسا کہ ھم دیکھتے ھیں ھمارے اردگرد موجود پتھر ، پانی اور مٹی جیسے عناصر کے ذریعہ یہ مادہ تشکیل پاتا ھے اوریہ ذرات کاربن، ھیڈروجن، آکسیجن اور نیٹروجن “Hydrogen”,”Oxygen”, “Carbon”, “Nytrogen” ھی سے مادہ بنتا ھے چنانچہ ھم انھیں کو ترتیب دے کر دوبارہ دوسرے مادہ بناسکتے ھیں اور کبھی ان میں ”امینہ“ پروٹن ، نشویات اور سوگر کا اضافہ کرتے ھیں تو ایک نیا مادہ تشکیل پاتا ھے، اور یہ فرضیہ میں کافی نھیں ھے بلکہ اس پر کچھ تجربات کئے جانے ضروری ھیں جس میں بجلی اور شعائیں هوتی ھیں اور جس میں مختلف قسم کی گیس هوتی ھیں جیسے نوشادر آکسیڈ کاربن ،”CarbonDioxide” ”میٹھن“ “Methane” اور پانی کے بخارات کے فعل وانفعالات کے بعد آثار احماض امینیہ پیدا هوتے ھیں۔

”احماض امینیہ“ (کڑوی گیس) جو ایک دودھ جیسی گیس هوتی ھے جس کا تمام زندہ چیزوں میں هوناضروری ھے اور جب ان احماض کو آپس میں ملایا جاتا ھے تو ایک دوسری قسم کی پروٹن بن جاتی ھے ، یھاں تک کہ ان کو آپس میں ملانے سے کروڑوں قسم کی پروٹن بن سکتی ھیں جس طریقہ سے کسی زبان کے الفابیٹ کے ذریعہ سے مختلف کلمات بنتے جاتے ھیں تاکہ ان سے مختلف مفاھیم ومعانی حاصل کریں، اور یہ نتیجہ بخش پروٹن ھمیشہ حرارت وبرودت (ٹھنڈک) روشنی اور بجلی کے لئے اھم مواد هوتے ھیںپس یہ پرو ٹن مرکب هوکر دوسری خارجی چیزوں کے بننے کے باعث هوتے ھیںتب جاکے جوھرحیات کی صفت بنتے ھیں۔

جبکہ زمین کو تقریباً کروڑوں سال هوچکے ھیں اور مختلف تجربے هوتے رہتے ھیںاور اس مرکب ”احماض امینیہ“ کے بے مثال تجربہ هوچکے ھیں اور یہ احماض امینیہ پانی میں اپنے جوھر کے ساتھ گھُل جاتے ھیں تاکہ پروٹن کے لاکھوں مواد کوتشکیل دے، اور ضروری ھے کہ یہ احماض امینیہ ایک مرتبہ جب بے مثال گیس ( حامض دیزوکسی ربیونیوکلئیک ) “D.N.A” سے ملتے ھیں اور اسی جز سے ”فیروس“ بنتا ھے۔

یہ تمام مفروضوں کا مجموعہ تھا جو ایک دوسرے سے ٹکراتے ھیں۔

چنانچہ ماھرین کا کہنا ھے کہ قانون صدفہ ھماری تائید کرتا ھے، جیسا کہ اگر کمپیوٹر پر بیٹھ کر ایک بندر کی بورڈ کے بٹن کو بہت ھی دقت سے دباتا چلا جائے تو کیا اس کے لکھنے سے کسی مشهور شاعر کا شعر بن سکتا ھے؟!!!ھر گز نھیں ، چاھے سالوں بیٹھ کر لکھتا رھے لیکن کبھی بھی اس کا یہ کام نتیجہ بخش نھیں هوسکتا۔

چنانچہ ماھرین کا کہنا کہ احماض امینیہ اپنی ھیئت مخصوص “D.N.A” پر باقی رہتا ھے تب کھیں منفرد مادہ اپنے اوپر تسلط پیداکرتا ھے اور پھر یہ منفرد مادہ اپنے مخصوص طریقوں کے ذریعہ تکاثر پیدا کرتا ھے اور اس کے ذریعہ بذر حیات برقرار رہتا ھے۔

بالفرض اگر ھم جدلی طریقہ سے قبول کریں اور فرض کریں کہ مٹی اور پانی کے عناصر بغیر کسی علت کے صدفةً اور اتفاقاً (D.N.A) حامض کے لحاظ سے پیدا هوتے ھیں ۔

اس کے بعد اس (D.N.A) سے مختلف لاکھوں چیزیں بننے کا سبب بنتا ھے۔

لیکن ان تمام چیزوں میں وہ حیات نھیں ھے جس کا ھم مشاہدہ کرتے ھیں۔

پس ضروری ھے کہ ھم پلٹ کر یہ کھیں کہ اس حامض کے اجزاء بھی اتفاقاً اور صدفةً هونے چاہئے تاکہ ان سے پروٹن وجود میں آئیں۔

اس کے بعد پروٹن بھی اتفاقاً خلیہ کے شکل میں ایجاد هونے چاہئے۔

پھر یہ خلےے بھی اپنی ذات میں خود بخود اور اتفاقی طور پر پیدا هوکر نباتی شکل اختیار کریں اور پھر دوسرا خلیہ انسانی شکل کو پیدا کرے۔

اس کے بعد ھم زندگی کی تمام کڑیوں کودرجہ بدرجہ ملاتے جائیں ،تو اس جادوئی کلید (کنجی)کا مطلب یہ بھی هوگاکہ یہ بھی صدفةً اور اتفاقی طور پر پیدا هوا ھے؟!

لیکن کیا یہ عقل میں آنے والی باتیں ھےں:

کیااتفاقی طور پر پرندے اور مچھلیوں کااپنے گھروں سے لاکھوں میل فاصلہ پر چلے جانے کے باو جود اپنے گھروں میں واپس آجانا اتفاقی ھے؟!!

کیا یہ بھی اتفاق ھے کہ مرغی کا بچہ انڈے کو توڑ کر خود بخودباھر نکل جائے!!

کیا زخم کا خود بخود ٹھیک هوجانا یہ بھی اتفاق ھے!!

کیا یہ بھی اتفاق ھے کہ ”سورج سے جدا شدہ اجزا“ اس بات کا ادراک رکھتے ھیں کہ ان کی حیات کا ملجاء وماویٰ سورج ھے تاکہ وہ اس کی اتباع کریں!!

کیا یہ بھی اتفاق ھے کہ جنگل اور پھاڑوں میں درخت خود بخود اگ جائیں ۔!!

کیا یہ بھی اتفاق ھے کہ”فیروس“ خلیہ کو کشف کرتا ھے اوراس سے اپنی حیات حاصل کرتا ھے۔

کیا یہ بھی اتفاق ھے کہ نباتات اپنے لئے ”کلوروفیل“ “Chlorophill”کشف کرتے ھیں اور اس کو استعمال کرتے ھیں تاکہ ان کی حیات باقی رھے۔

کیا یہ بھی اتفاق ھے کہ مچھر بڑی هوشیاری سے پانی پرتیرے اور وھاں انڈے دے اور پانی پر تیرتا رھے اور ھلاک نہ هو۔!!

کیا یہ بھی اتفاق ھے کہ چیونٹی اپنے اندرمو جود زھر کو محفوظ رکھے اور اپنے بچوں کو دی جانے والی غذا میں اسے نہ ملائے ۔ کیا یہ اتفاق کی ناؤ ریت پر چل سکتی ھے!!

اسی طرح شہد کی مکھی اتنے منظم طریقہ سے شہد کو جمع کرتی ھے، مختلف پھولوں سے رس چوستی ھے اور اس کو شہد میں تبدیل کرتی ھے اور اس کے موم سے شمع بنائی جاتی ھے کیا یہ بھی اتفاق ھے۔!!!

اسی طرح زمین پر رینگنے والے حشرات (کیڑے مکوڑے) فضا میں موجود قوانین کو سمجھتے ھیں اور اسی کے تحت اپنی زندگی چلاتے ھیں کیونکہ بہت سے کیڑے صرف برسات کے موسم میں نکلتے ھیں ، کیا یہ بھی اتفاق ھے !!!

اسی طرح رنگ برنگے حشرات جو اپنے اندر ایسی صلاحیت رکھتے ھیں جو ان کے رنگ سے مطابقت رکھتے ھیں۔

اسی طرح وہ حشرات جو بہت سی زھریلی گیس بناتے ھیں اورفضا میں چھوڑتے ھیں، کیا یہ بھی اتفاق ھے ؟!!

قارئین کرام ! اگر ھم ان تمام باتوں کو تسلیم کرلیں کہ یہ حیات بھی اتفاقی طور پر وجود میں آئی ھے تو ھم کیسے مان سکتے ھیں کہ یہ مذکورہ تمام چیزیں اتفاقی طور پر وجود میں آگئی ھیں۔!!

چنانچہ ان تمام بے هودہ باتوںکو عقل انسانی تسلیم نھیں کرسکتی۔

اور جب مادہ پرستوں نے اپنے کواتفاق(صدفہ)کی اس کشمش میں پایا تو اس سے چھٹکارا پانے کے لئے صدفہ (اتفاق) کی جگہ ایک دوسرا لفظ رکھا اور اس طرح کھا کہ یہ ھماری حیات (جو مختلف الوان واقسام سے مزین ھے) ایک ضرورت کے تحت پیدا هوئی جس طرح ایک بھوکا انسان غذا تلاش کرتا ھے اور مختلف غذا فراھم کرتا ھے اسی طرح ھماری زندگی میں مختلف ضروریات پیش آتی رھی اور ھمارے سامنے بہت سی چیزیں وجودمیں آتی گئیں!!۔

قارئین کرام ! آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ یہ سب الفاظ کے ساتھ کھلواڑ کرنے کے علاوہ اور کچھ نھیں ھے ،کیونکہ انھوں نے لفظ ”صدفہ “(اتفاق) کی جگہ ” ضرورت کے تحت “ رکھا ! ۔

یہ کیسے تصور کیا جاسکتا ھے کہ ایک چھوٹا سا واقعہ بغیر کسی عقل کی کارکردگی کے ایک بہت بڑا واقعہ بن جائے؟!! لہٰذا یھاں سوال یہ پیدا هو تا ھے کہ ”ضرورت“ کو کس نے پیدا کیا؟۔

اور یہ” ضرورت“ ”لاضرورت“ سے کیسے وجود میں آئی؟!!

کیونکہ یہ سب چیزیں حقیقت کو چھپانے والی ھیں جس کا عقل انسانی اور فطرت بدیھی طور پر انکار کرتی ھیں پس معلوم یہ هوا کہ ان تمام چیزوں کا خالق ایک مدبر اور حکیم ھے۔

پس ھم ان زور گوئی والی باتوںکو بغیر دلیل کے کس طرح قبول کرسکتے ھیں؟!!

ھم کیسے ان محالات کو قبول کرسکتے ھیں؟!! تاکہ واضح حقائق کی پردہ پوشی هوجائے جو کہ ھماری بدیھی فطرت میں شامل ھیں اور ھم ان کا مشاہدہ کررھے ھیں۔!! اور اگر ھم ان تمام چیزوں کی بداہت کو جھٹلائیں تو پھرگویا ھم نے عقل کو بیچ ڈالا ،!! کیونکہ یہ تمام چیزیں منطقی اور عقلی بدیھیات میں سے ھیں۔ اگر ھم ان تمام چیزوں کا انکار کریں تو گویا ھم نے اپنی عقل کو بالائے طاق رکھدیا حالانکہ ھم اپنے کو بہت بڑاعاقل اور علامہ سمجھتے ھیں۔

چنانچہ علم طبیعیات کے مشهورو معروف ماھر ڈاکٹر ”کونجڈن“کہتے ھیں: ”کائنات میں موجود ھر شے خدا کے وجود ، اس کی قدرت اور اس کی عظمت پر دلالت کرتی ھے ، اور جب ھم اس کائنات کی چیزوںکو ملاحظہ کرتے ھیں تو ھمیں نعمت خدا کے علاوہ اور کچھ نظر نھیں آتا ،پس خدا ھی کی ذات ھے جس نے کائنات میں ان نعمتوں کو ھماری خدمت کے لئے خلق کیا ، لہٰذا ھم کسی مادی علمی وسیلہ سے خدا کو نھیں پہچان سکتے، لیکن ھم اپنے اندر اور کائنات کے ذرہ ذرہ میںخدا کی نشانیاں واضح طور پر دیکھتے ھیں: خلاصہ یہ کہ یہ علوم ، مخلوقات اور خدا کی قدرت کے علاوہ اور کسی چیز کا پتہ نھیں دے سکتے۔ چنانچہ خداوندعالم کا ارشاد هوتا ھے:

< ذَلِکُمْ اللهُ رَبُّکُمْ لاَإِلَہَ إِلاَّ هو خَالِقُ کُلِّ شَیْءٍ فَاعْبُدُوہُ وَهو عَلَی کُلِّ شَیْءٍ وَکِیلٌ >[40]

”(لوگو) وھی اللہ تمھارا پروردگار ھے اس کے سوا اور کوئی معبود نھیں وہ ھر چیز کا پیدا کرنے والا ھے تو اسی کی عبادت کرو اور ھی ھر چیز کا نگھبان ھے ۔“

< هو الَّذِی جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَاءً وَالْقَمَرَ نُورًا وَقَدَّرَہُ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِینَ وَالْحِسَابَ مَا خَلَقَ اللهُ ذَلِکَ إِلاَّ بِالْحَقِّ یُفَصِّلُ الْآیَاتِ لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ> ([41]

”وھی وہ (خدائے قادر) ھے جس نے آفتاب کو چمکدار اور ماہتاب کو روشن بنایا اور اس کی منزلیں مقرر کیں تاکہ تم لوگ برسوں کی گنتی اور حساب معلوم کرلو، خدا نے اسے حکمت ومصلحت سے بنایا ھے وہ اپنی آیتوں کو واقف کار لوگوں کے تفصیل وار بیان کرتا ھے۔“

< اللهُ الَّذِی خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضَ وَاٴَنزَلَ مِنْ السَّمَاءِ مَاءً فَاٴَخْرَجَ بِہِ مِنْ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَکُمْ وَسَخَّرَ لَکُمْ الْفُلْکَ لِتَجْرِیَ فِی الْبَحْرِ بِاٴَمْرِہِ وَسَخَّرَ لَکُمْ الْاٴَنہَارَ۔ وَسَخَّرَ لَکُمْ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَائِبَیْنِ وَسَخَّرَ لَکُمْ اللَّیْلَ وَالنَّہَارَ۔ وَآتَاکُمْ مِنْ کُلِّ مَا سَاٴَلْتُمُوہ۔۔۔>[42]

”خدا ھی ایسا (قادر وتوانا) ھے جس نے آسمان وزمین پیدا کرڈالے اورآسمان سے پانی برسایا پھر اس کے ذریعہ سے (مختلف درختوں سے) تمھاری روزی کے واسطے (طرح طرح کے) پھل پیدا کئے اور تمھارے واسطے کشتیاں تمھارے بس میں کردیں تاکہ اس کے حکم سے دریا میں چلیں اور تمھارے واسطے ندیوں کو تمھارے اختیار میں کردیا اور سورج چاند کو تمھارا تابعدار بنادیا کہ سدا پھیری کیا کرتے ھیں او ررات دن کو تمھارے قبضہ میں کردیا (کہ ھمیشہ حاضر باش رہتے ھیں) اور( اپنی ضرورت کے موافق) جو کچھ تم نے اس سے مانگا اس میں سے بقدر مناسب تمھیں دیا ۔۔۔“

< اٴَلاَلَہُ الْخَلْقُ وَالْاٴَمْرُ تَبَارَکَ اللهُ رَبُّ الْعَالَمِین>[43]

”دیکھو حکومت او رپیداکرنا بس خاص اسی کے لئے ھے۔“

———————————————

حوالہ

[1] سورہ ابراھیم آیت ۱۰

[2] سورہ اعراف آیت ۴۳۔

[3] سورہ آل عمران آیت ۱۹۳۔

[4] سورہ ملک آیت ۳، ۴۔

[5] نشاٴة الدین ص ۱۹۶،۱۹۷۔

[6] نشاٴة الدین ص ۱۸۴۔

[7] سورہ بقرہ آیت ۱۶۴۔

[8] v سورہ واقعہ آیت ۵۸،۵۹۔

[9] سورہ واقعہ آیت ۵۸،۵۹۔

[10] سورہ طارق آیات ۶تا ۸۔

[11] سورہ طٰہ آیت ۳۵۔

[12] سورہ روم آیت ۲۰۔

[13] سورہ نحل آیت ۷۸۔

[14] سورہ نور آیت ۴۵۔

[15] سورہ فاطر آیت ۲۸۔

[16] سورہ انعام آیت ۳۸۔

[17] سورہ ملک آیت ۱۹۔

[18] سورہ نحل آیات ۵ تا ۸۔

[19] سورہ غاشیہ آیت ۱۷۔

[20] سورہ نمل آیت ۱۸ َ

[21] سورہ نمل آیت ۸۸۔

[22] سورہ واقعہ آیت ۶۳تا ۶۵۔

[23] سورہ واقعہ آیت ۷۱تا ۷۲۔

[24] سورہ انعام آیت ۹۹۔

[25] سورہ طٰہ آیت ۵۳۔

[26] سورہ نمل آیت ۶۰۔

[27] سورہ انبیاء آیت ۳۰ ۔

[28] سورہ واقعہ آیات ۶۸تا۷۰۔

[29] سورہ روم آیت ۲۴۔

[30] سورہ بقرہ آیت ۱۶۴۔

[31] سورہ اعراف آیت ۱۸۵۔

[32] سورہ ٴ نحل آیت ۱۴ ۔

[33] سورہ یونس آیت ۱۰۱۔

[34] سورہ ق آیت ۶۔

[35] سورہ رعد آیت ۲۔

[36] سورہ ذاریات آیت ۴۷۔

[37] سورہ فاطر آیت ۱۳۔

[38] سورہ لقمان آیت ۱۱۔

[39] سورہ فاطر آیت ۴۱۔

[40] سورہ انعام آیت۱۰۲۔

[41] سورہ یونس آیت۵۔

[42] سورہ ابراھیم آیت ۳۲تا۳۴۔

[43] سورہ اعراف آیت۵۴۔

You may also like...