خدا شناسی

خدا شناسی

(جہاں شناسی کے سلسلے میں ایک یاد دہانی )

تالیف: آیت الله استاد محقق : سید جعفر سیّدان دام ظلہ

مترجم: الفت حسین ساقی

جیساکہ پہلے گزرچکاہے،یہاں پر مقصود کلی اور عقلائی معرفت ہے نہ کہ معرفت تجربی،بالفاظ دیگر کبھی ایک خاص جہت سے کائنات کے بارے میں تحقیق کی جاتی ہے اس صورت میں وہ تحقیق اوربحث ایک خاص علم کو تشکیل دیتی ہے ، جیسے علم فزکس، کیمسٹری،نفسیات، نباتات، طب وغیرہ ، یہاں ایسی معرفت مدنظر نہیں بلکہ یہاں پر مقصود کلی معرفت ہے ، جیسے آیا کائنات خود بخود قائم ہے یا کسی اور کی محتاج ہے؟ اس کائنات کی ابتداء و انتہا ہے یا نہیں؟ کیا موجود معدوم یا معدوم موجود ہوتا ہے یا نہیں؟ کیا اس دنیاوی زندگی کے بعد کوئی اورزندگی موجود ہے یانہیں؟

مذکورہ درج بالا مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم کہتے ہیں کہ جہاںشناسی اور معرفت کائنات کے سلسلے میں کلی طور دونظریات موجود ہیں .

(1)کچھ لوگوں کا نظریہ یہ ہے کہ کائنات مادہ میں منحصر ہے اورمادہ و مادیات کے علاوہ کوئی چیز موجود نہیں ، کائنات مادہ کے مساوی ہے اور زندگی مادہ کے آثار میں سے ہے .

(٢)دوسرا نظریہ ، یہ ہے کہ مادہ کائنات کا حصہ ہے اورکائنات صرف مادہ اورمادیات میں منحصر نہیں ، بلکہ مادہ کے ماوراء غیر مادی حقیقت بھی موجود ہے جس سے مادہ اورمادیات وابستہ ہیں اوروہ حقیقت خودبخود موجود ہے اورمادہ کے آثارو خواص نہیں رکھتی.

پہلے گروہ نے کائنات کی توجیہ میں ہمیشہ مختلف نظریات پیش کئے ہیں جن میں سے اہم ترین نظریات درج ذیل ہیں.

(الف)مادہ متصل ذرات کا وہ مجموعہ جس کے آثارمیں سے محسوس ہونا، وزن ، سختی ، نرمی جگہ گھیرنا اور طول، عرض، عمق(گہرائی ہیں) ازلی و ابدی ہے اوراسی طرح تھا اورہے اوررہے گا اورکس چیز کا محتاج نہیں ہے اورکائنات کی تمام اقسام کا وجود مادہ ہی سے پیدا ہوا ہے اورا س کا ہر ذرہ ثقل و سنگینی رکھتا ہے جو اس کو عمودی حرکت دیتا ہے اورموجودات کی تشکیل وہی ذرات کا اجتماع ہے اورموجودات کا ختم ہونا بھی انہیں ذراتِ مادہ کا منتشر ومتفرق ہونا ہے اور ذرات ازلی و ابدی ہیں.

یہ کہتے ہیں کہ اس فرض ا ور توجیہ کے مطابق کائنات کو کسی بیرونی علت کی ضرورت نہیں بلکہ وہ ہر خارجی وبیرونی سبب سے بے نیاز ہے اورخارج میں موجودات پائے جاتے ہیں. وہ تصادف ( اتفاق) کا نتیجہ ہیں کسی حکیمانہ ارادہ کا نہیں اور موجودات کائنات کی پیدائش کا کوئی مقصد ، ہدف نہیںاس مادی نظریہ کے معتقدمادہ پرست افراد کے نزدیک مادہ کی حرکت میکانیکی اور انتہائی حرکت ہے .

نہ کہ ڈائنامیکی اور اندرونی موریس، کنفورٹ اپنی کتاب ڈیالیکٹک میٹیریزم (١) میں لکھتا ہے.

وہ میٹیریزم جو گذشتہ زمانہ میں بورژ وازی انقلابی کے ذریعے پیدا ہوا تھا وہ میکانیکی میٹیریزم تھا یہ میٹیریزم قدیم میٹیریلسٹ مفاہیم کا جانشین ٹھہرا جس کے مطابق کائنات ناقابل تغییر مادی ذرات(ایٹمز) سے تشکیل پائی تھی اوران ذرات کا عمل و ردعمل تمام موجودات طبیعی کو پیداکرتاتھا. الہی نظریہ بعد میں کوشش کرتاہے کہ طبیعی کاموں کی کارکردگی کو ایک مشین کی کارگردگی کے طور پر سمجھے. یہ میٹیریزم اپنے زمانہ میں ایک ترقی یافتہ اور انقلابی نظریہ تھا لیکن اس میں تین بڑے نقائص موجود ہیں.

(١)یہ نظریہ مفہوم ذرات کو بدیہی سمجھتا ہے.

(٢) اس نظریہ کی کوشش ہے کہ تمام پراسیس کو میکانیکی عمل وردعمل قرار دے.لہذا عالم طبیعت

میں مختلف اقسام کے نئے پراسیس اور جدید کیفیات کے ظہور و کمال کی توجیہہ و تشریع نہیںکرسکتا.

(3) یہ نظریہ انسان کی معاشرتی و ترقی وکمال کی وضاحت نہیں کرسکتا اورنتیجتاً ماہیت انسان سے ایک مفہوم انتزاعی پر منتج ہوتا ہے.(٢)

(ب)ان مادی حضرات میں سے ایک گروہ کہتا ہے کہ مادہ، مادیات اور محسوسات کے علاوہ کوئی حقیقت موجود نہیں اورمادہ کے ماوراء کوئی چیز نہیں پائی جاتی ، لیکن وہ چار اصولوں کے معتقد ہیں جن کے ذریعے وہ اپنی دانست میں کائنات کی خلقت اور تکامل کی توجیہ کرتے ہیں اورپوری کائنات پر ان اصولوں کو حاکم قرار دیتے ہیں اورنتیجتاً انہیں اصولوں کے ذریعے کائنات کی سب موجودات کی فلسفی، تاریخی اور اقتصادی پہلوسے توجیہ کرتے ہیں .

یہ مادی گروہ ڈ یالیکٹک میٹیر یزم کہتا ہے کہ میکانیکی ،میٹیریزم مادہ کے اندر حرکت کا معتقد نہیں ، بلکہ مادہ کے لئے حرکت کا معتقد ہے اور اس توجیہ سے خود مادہ کے لئے تکامل نہیں ہوگااوروہ کہتے ہیں کہ وہ سیب جو درخت پر ہوتے ہوئے اندرونی حرکت رکھتا ہے اوراپنے مطلوب ِ کمال تک پہنچتا ہے . اس کی حرکت اور پرکار کی حرکت میں( جس میںتکامل نہیں ہوسکتا) فرق ہے.

فلسفہ ڈایالیکٹک کے اصول

(١)تضاد

(٢)تغیروحرکت

(٣)تاثیر متقابل(دو طرفہ تاثیر)

(٤)جہش و انقلاب

کتاب میٹر ڈایالیکٹک میٹیرکامصنف کہتا ہے:

مادہ کے اندر حالت تضادو تناقص موجود ہے.( پہلا اصول)

اوریہ اندرونی تضاد مادہ میں حرکت کا باعث بنتا ہے.(دوسرا اصول )

اوریہ اندرونی حرکت مادہ کے اندر تاثیر متقابل کا سبب بنتی ہے.(تیسرا اصول )

اورتاثیر متقابل ایک اورچیز کی پیدائش کا سبب بنتی ہے.(چوتھا اصول )

بالفاظ دیگر تضاد اوراس سے حاصل ہونے والی حرکت اورپھر ان دونوں چیزوں کی ایک دوسرے پر تاثیر ایک تیسری چیز کی پیدائش کا سبب بنتی ہے اور درحقیقت معلول علت کے اندر سے پیدا ہوتا ہے اوراپنی علت کی نقیض ہوتا ہے پھر معلول ترقی کرتا ہے اوراپنی علت سے ٹکراؤ کے نتیجے میں پھر ایک جدید مرکب پیداہوتا ہے اوریہ نیاموجود پھراسی طرح ترقی کرتا ہے اوراپنی علت سے ٹکراکر اپنے اندرسے اپنی نقیض کو پیداکرتا ہے.یہ توجیہ کائنات کو خارجی علت و سبب سے بے نیاز کرتی ہے اورماوراء مادہ ایک حقیقت کے وجود کی نفی کرتی ہے.

موریس کنفورٹ اپنی کتاب ڈیالیکٹک میٹیرینرم میں لکھتا ہے.

میکانکی یمیڑلیزم مخصوص قطعی مفروضہ رکھتا ہے:

(١) کائنات دائمی و پائیدار ذرات یا اشیاء رکھتی ہے جن کی قطعی اور دائمی خصوصیات ہیں.

(٢)ذرات مادہ ذاتاً متحرک نہیں اور ان میںکوئی تبدیل واقع نہیں ہوتی جب تک کوئی خارجی علت، سبب ان پر اثرا نداز نہ ہو.

(٣)یہ حرکات و تبدیلیاں مادہ کے جدا شدہ ذرات کو میکانیکی عمل و ردعمل میں منحصر کرتی ہیں۔

(4)ہرذرہ دوسری ہرچیز سے علیحدہ اپنی مستقل ماھیت رکھتا ہے اورجداہونے والی اشیاء کے درمیان تعلقات صرف خارجی تعلقات ہیں(2)

ڈیالیکٹک میڑنیزم میکانیکی نظریات پر غلبہ پا کر اعلان کرتا ہے کہ کائنات اشیاء کا مجموعہ نہیں بلکہ حوادث کا مجموعہ ہے اوریہ کہ مادہ کی حرکت بے انتہا مختلف شکلیں رکھتی ہے جس کے نتیجہ میںایک حادثہ دوسرے حادثہ سے پیداہوتا ہے اورایک حادثہ دوسرے حادثہ میںتبدیل ہوتا ہے اوریہ کہ اشیاء الگ الگ اکائیاں نہیں بلکہ ان میں بنیادی ربط اور تعلق موجود ہے۔(3)

اسی طرح مذکورہ کتاب میں لکھتا ہے:

اس بنا پر میڑیا لزم ڈائلکٹک ایک مادی مفہوم رکھتا ہے جو اپنے مضمون کے لحا ظ سے مٹریالیزم میکانیکی سے جامع تر ہے۔ (5)

پھر لکھتا ہے: مارکس اورانگلس نے ہگل کے انقلابی نظریات کی پیروی کرتے ہوئے اوراس کے نظریات کی آئیڈیالسٹک محدودیتوں کو ترک کر تے ہوئے میڑیالیزم ڈائلکٹک کی بنیاد رکھی۔

طبیعت ، معاشرہ اوراس کی حرکات ، سکنا ت میں تکامل کی کنجی تکامل حقیقی کے تمام مشخصات کے تسلسل داوم اورتمام پراسیس کے اندرونی تضادات میںجوان پراسیس میں عمل کرتے ہیں، چھپی ہوئی ہے۔

مارکس ، انگلس کی یہ جدید تحقیق فلسفہ میں ایک انقلاب تھی اورانہوںنے اسے مزدور طبقہ کے لئے ایک انقلابی اسلحہ میںتبدیل کردیا اورمعرفت کائنات کے لیے ایک انقلابی تبدیلی قرار دیا۔(6)

مذکورہ نظریات کی تحقیق

ڈیالیکٹک کے بنیادی چار اصولوں کے بارے میں تفصیلی بحث سے صرف نظر کرتے ہوئے :مندرجہ ذیل چند باتوں سے ہی ان لوگوں کے نظریات کا بطلان واضح ہوجاتا ہے۔

(١) میکانکی میڑیلزم اورمیڈیالیزم ڈایلکٹک کی مذکورہ توجیحات ایک فرضیہ کے علاوہ کچھ نہیں اورقائم بالذات غیر مادی حقیقت کہ جس کے ساتھ کائنات وابستہ ہے کی نفی نہیں کرتیں ۔اس بنا پر میڑیا لسٹ ماورائے مادہ وماورائے طبیعت ایک غیر مادی حقیقت کا انکار نہیں کرسکتے۔ان کے اشتباہات میں سے ایک یہ ہے کہ انہوں نے اپنے نہ پانے کو نہ ہونے پردلیل قرار دیا ہے ۔زیادہ سے زیادہ وہ یہ کرسکتے ہیں کہ معرفت کائنات کے متعلق اپنی بات کوایک احتمال اور مفروضے کے طور پر پیش کریںپھر اس مفروضے پر تحقیق ہوگی اوردیکھاجائے گا کہ اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے۔

(2)یہ جاننا ضروری ہے کہ معرفت کائنات اوریہ کہ آیاکائنات مادہ میں منحصر ہے یا ماورائے مادہ بھی کوئی حقیقت موجود ہے ، یہ عقلی معرفت ہے ، نہ تجربی ،بالفاظ دیگر یہ ایسی معرفت ہے جس میں آلات حسی کا کوئی کام نہیں اورتجربہ کے ذریعے اس معرفت کے حصول کا انتظار بے جا ہے کیونکہ فرض یہ ہے کہ غیر مادی اورماورائے طبیعت حقیقت( جیسا کہ ان الفاظ سے ظاہر ہے) دائرہ حس سے خارج ہے اس بنا پر ایسی معرفت ، معرفت عقلانی ہوگی جو حواس و کائنات سے استفادہ کرتے ہوئے فکر، تعقل سے مربوط ہے ۔ لہٰذا غیر مادی حقیقت کو تجربہ گاہوں اورآپریشن تھیڑوں میں تلاش نہیں کیاجاسکتا .

اب ہم کہتے ہیں کہ تمام مادہ پرستوں اور سب مادی مکاتب کے مفروضے کی بنیاد مادہ کی اصالت اوراس کے ازلی،ابدی اور علت سے بے نیاز ہونے پرہے اورظاہر ہے کہ اگر خود مادہ کا حادث ہونا اوراپنے غیر کا محتاج ہونا ثابت ہوجائے، تومادی مکتب ِفکر کی بنیادیں کھوکھلی ہوجائیں گی اور ان کے افکار و نظریات کا محل زمیں بوس ہو جائیگا. اب ہم مادہ کے حدوث اوراس کے محتاج ہونے پر چند دلائل ذکر کرتے ہیں۔

(1)مادہ متحرک ہے اوراس کی حرکت میکانیکی و انتقالی ہو یا ڈیالیکٹیکی و اندرونی دوصورتوں سے خالی نہیں ہے۔

(الف) حرکت مادہ کی ذاتی اور اس کا لازمہ ہے.

(ب) حرکت مادہ کی ذاتی نہیں بلکہ مادہ کو باہر سے عارض ہوتی ہے

پہلے فرض میں ہم کہتے ہیں یہ بات واضح ہے کہ حرکت ہمیشہ حادث ہوتی ہے جو پہلے نہیں ہوتی اوربعد میں پیداہوتی ہے کیونکہ ہر حرکت کی پیدائش اور اس کا وجود اپنے سے پہلی حرکت کے زوال پر موقوف ہے پس حرکت سے پہلے عدم ہوتا ہے اور حرکت معدوم بھی ہوتی ہے لہٰذا ہر حرکت حادث ہے اورکیونکہ فرض اول کے مطابق مادہ کی حرکت ذاتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مادہ ہمیشہ متحرک ہے اورمادہ کا غیر متحرک فرض کرنا ممکن نہیں اورکیونکہ حرکت حادث ہوتی ہے توجو چیز حادث کا لازمہ ہووہ بھی حادث ہوگی۔پس مادہ بھی حادث ہوگا۔

دوسرے فرض میں(کہ حرکت مادہ کا لازمہ نہیں)ہم کہتے ہیں کہ حرکت مادہ کا لازمہ نہیں لیکن مادہ متحرک ہے تو پس حرکت مادہ کو عارض ہوتی ہے اوریہ بدیہی ہے کہ ہر شی کو عارض ہونے والی چیز علت کی محتاج ہوتی ہے۔ مادہ کو حرکت کا عارض ہونا اورمادہ کا متحرک ہونا خود مادہ کے محتاج علت ہونے کی دلیل ہے اورواضح ہے کہ جو چیز بھی علت کی محتاج ہوتی ہے وہ اصالت نہیں رکھتی اورنہ ہی خود بخود قائم ہوتی ہے بلکہ وہ چیز حادث اورغیر کے ساتھ وابستہ ہوتی ہے۔

(٢)مادہ شکل و صورت رکھتا ہے اورمادہ کے لئے شکل و صورت کا ہونا ذاتی نہیں ہے اورجو چیز کسی چیز کی ذاتی نہ ہو اوراس چیز سے وہ متصف بھی ہو تو وہ علت خارجی کی محتاج ہوتی ہے نتیجتاً مادہ اپنے علاوہ ایک غیر مادی علت کا محتاج ہے مادہ کا شکل و صورت رکھنا واضح ہے اوریہ بھی واضح ہے کہ شکل و صورت مادہ کی ذاتی نہیں ہوتی کیونکہ اگر شکل و صورت مادہ کے لئے ذاتی ہو تو لازم آتا ہے کہ مادہ کی جو شکل و ہیت فرض کی جائے وہ تغییر ناپذیر ہوگی درحالانکہ مادہ کی شکل و ھئیت کی تبدیلی واضح ہے اورمادہ مختلف شکلوں کو قبول کرتا ہے ۔ دوسری طرف مادہ شکل ، صورت رکھتا ہے اور شکل و صورت کے بغیر ناممکن ہے اس بنا پر ضروری ہے کہ مادہ کے لئے مادہ کے علاوہ کوئی علت ہو جو اسے شکل وصورت عطا کرے ، نتیجتاً مادہ علت خارجی کا محتاج ہوگا ۔ پس مادہ مستقل، قائم بالذات اوراصل اول نہیں ہوسکتا۔

(3) مادہ شکل وصورت کے بغیر ناممکن ہے بلکہ ہمیشہ شکل وصورت کے ہمراہ ہوتا ہے اورشکل و صورت حادث ہوتی ہیں پس مادہ جو کہ مستلزم شکل و صورت ہے وہ بھی حادث ہوگا۔

اگرکہاجائے کہ شکل و ہئیت کے افراد حادث اورعدم سے پیدا ہونے والے ہیں لیکن اصل شکل و ہئیت قدیم وازلی ہے توہم عرض کریں گے اصل شکل و ہئیت کا فرد فرد ہئیت و شکل کے علاوہ کوئی معنی ومصداق نہیں توواضح ہے کہ شکل و ہئیت کا فرد فرد جس طرح بھی فرض کیاجائے حادث ہے۔

(٤)مادہ مرکب ہوتا ہے اورہر مرکب محتاج وحادث ہوتا ہے ، نتیجتاً مادہ بھی حادث و محتاج ہوگا اورمحتاج و حادث چیز کائنات کی اصل اولی نہیں ہوسکتی۔

وضاحت: مادہ مرکب ہے کیونکہ طول، عرض ، عمق(گہرائی) رکھتا ہے اورقابل تقسیم ہے لہٰذا مرکب ہے اورہر مرکب محتاج اور حادث ہے کیونکہ ہر مرکب اپنے اجزاء کا محتاج ہوتا ہے اس لیے کہ مرکب اپنے اجزاء میں سے ہر جزء کاغیر ہوتا ہے لیکن اپنے اجزاء کے ساتھ وابستہ ہوتا ہے اس بنا پر مادہ محتاج ہوتا ہے اوریہ واضح ہے کہ محتاج چیز کائنات کی اصل اولی نہیں ہوسکتی ۔

(٥)مادہ مرکب ہوتا ہے اورہر مرکب اپنے علاوہ علت کا محتاج ہوتا ہے نتیجتاً مادہ اپنے غیر کا محتاج ہوتا ہے۔

وضاحت: واضح ہے کہ مادہ مرکب ہوتا ہے کیونکہ ابعاد ثلاثہ(تین پہلو) رکھتا ہے اورقابل تقسیم ہوتا ہے اورہر مرکب محتاج ہوتا ہے کیونکہ ہر مرکب قابل تقسیم ہوتا ہے اور ترکیب مرکب کے لئے ذاتی نہیں ہوتی وگرنہ مادہ قابل تقسیم نہ ہوتا اورجو چیز کسی چیز کی ذاتی نہ ہو اوراس چیز سے وہ متصف ہوتو اتصاف کے لئے علت کی محتاج ہو گی اس بنا پر مادہ محتاج ہوتا ہے لہٰذا اصلی اولی اورقائم بالذات نہیں ہوسکتا۔

(٦)جہان کی حرارت ضعف کی طرف جارہی ہے اورسائنسی طور پر ثابت ہوچکا ہے کہ ایک دن کائنات کی حرارت اس طرح کم ہوجائے گی کہ اس میں جانداروں کی زندگی ممکن نہیں ہوگی اورواضح ہے کہ یہ قانون کائنات کے ازلی ہونے کے ساتھ سازگار نہیں ، بلکہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ کائنات حادث ہے .

اوپر جو کچھ بیان کیاجاچکا ہے وہ مادہ کی اصالت کے بطلان سے مربوط ہے ۔ البتہ میکانیکی اور ڈیالیکٹک میٹیریلزم کو کلی طور پر باطل ثابت کرنے کے لئے ایک الگ کتاب لکھنے کی ضرورت ہے ، لہٰذا ہم فقط اسی پر اکتفا کرتے ہیں ۔

مذکورہ اصول موجودات اورکائنات کی حرکت تکاملی کی توجیہ کے لئے ہیں اورظاہر ہے

کہ ایسی حرکت تکاملی علم محیط کے ساتھ وابستہ دقیق نظم و نظام کے بغیر ممکن نہیں ، پس اصول ڈیالیکٹک کے ذریعے کائنات کی توجیہ کا باطل ہونا واضح ہے۔

نتیجہ: مادہ کے حدوث و احتیاج کو ثابت کرنے کے لئے جودلائل ذ کرکئے گئے ہیں ان سے ثابت ہوتا ہے کہ مادہ کائنات کی اصل اولی ومستقل نہیں ہوسکتا،بلکہ ایک غیر مادی حقیقت کا محتاج ہے اوراس کے ساتھ وابستہ ہے اورنتیجتاً تمام مکاتب مادی (جن میں سے مہم ترین یہی دو میکانیکی میٹیریلزم اور ڈیالیکٹک میٹیریلزم ہیںبے بنیاد ، متزلزل و باطل ہیں۔

(خالق کائنات)

مکتب مادی کی تحقیق اور مادہ کے استقلال و اصالت کے بطلان کے بعد غیر مادی اور قائم بالذات حقیقت کے اثبات کے دلایل ذکر کرتے ہیںجس کے ساتھ تمام کائنات قائم ہے۔

برہان اوّل: برہان حدوث و نیاز

ایک مستقل، قائم بالذات اور کائنات سے بے نیاز حقیقت موجود ہے۔ (یہ بات خدا پرستوں اور مادہ پرستوں کے نزدیک مسلّم ہے) اور مادہ قائم بالذات حقیقت نہیں ہو سکتا پس وہ حقیقت غیر مادی ہے۔

وضاحت: خدا پرستوں اور مادہ پرستوں کے نزدیک مسلّم مسائل میں سے ایک یہ ہے کہ قائم بالذات حقیقت جو کسی چیز سے پیدا نہ ہو ئی ہو، اور نہ ہی کسی علت نے اسے ایجاد کیا ہواور کائنات اس سے وابستگی اور تعلق رکھتی ہو ضروری ہے۔اور واضح ہے کہ یہ بے نیاز حقیقت اپنی خصوصیات رکھتی ہے جو اسے مشخص کرتی ہیں۔

اس حقیقت سے مربوط مسلم خصوصیات میں سے ایک وہ ہے کہ یہ اپنے غیر سے بے نیاز ہے۔ کیونکہ اگر اپنے غیر کی محتاج ہو تو وہی غیر بے نیاز حقیقت ہو گی۔گذشتہ فصل میں مادہ کی تحقیق کے بارے میں جو گذر چکا ہے، اسے مدنظر رکھتے ہوئے یہ واضح ہے کہ مادہ وہ مسلم بے نیاز حقیقت نہیں ہو سکتا ، نتیجتاً ثابت ہوتا ہے کہ وہ مسلّم حقیقت غیر مادی حقیقت ہو گی۔

یاددہانی: برہان حدوث اور یہ کہ موجودات جہان مخلوق و مصنوع ہیں اور مصنوعیت ان میں واضح و روشن ہے اور اپنی زبان حال سے فریاد کر رہی ہیں کہ ہم قائم بالذات نہیں بلکہ وابستہ ومحتاج ہیں اور ہماری محدودیت اور ہر فعل و انفعال ہماری وابستگی واحتیاج کا پتہ دیتا ہے،اس حوالے سے امام جعفرصادق ں سے اس بارے میں دو حدیثیں ذکر کی جاتی ہیں۔ (یہاں حدیث میں مذکور برہان سے استفادہ کے لحاظ سے حدیث بیان کی جا رہی ہے، نہ کہ تعبد کے طور پر کیونکہ واضح سی بات ہے کہ خداوند متعال کے وجود کے اثبات کی بحث میںتعبّد صحیح نہیں ہے)

١۔ ابن ابی العوجاء نامی ایک شدت پسند مادہ پرست حضرت امام جعفر صادقں کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے تعارفی باتوں کے بعد فرمایا: ” کیا تو مصنوع اور نیازمندہے یا صانع و بے نیاز؟” ابن ابی العوجا نے کہا: ” میں مصنوع نہیں ہوں۔” امام نے فرمایا: ” اگر مصنوع ہوتا تو کیسے ہوتا؟” ابن ابی العوجا جواب نہ دے سکااور اپنے سامنے لکڑی کا ٹکڑا اُٹھا کر کہنے لگا : ”یہ لکڑی طول ،عرض، عمق رکھتی ہے چھوٹی ہے حرکت و سکون رکھتی ہے، یہ صفات مصنوع ہونے کی علامت ہیں، اور یہ تمام آثار ایک مصنوع کے آثار ہیں”۔ امام نے فرمایا: ” اب جب کہ تو نے مصنوع کی صفات بیان کر دی ہیں تو تم جانتے ہو کہ تم خود بھی مصنوع ہو کیونکہ ان صفات کو تم اچھی طرح اپنے اندر پاتے ہو”۔(7)

٢۔ مرحوم شیخ صدوق علیہ الرحمة ایک مفصل حدیث نقل کرتے ہیں جو انسان کی وابستگی اور نیاز مندی کو واضح کرتی ہے (اور مستقل و غیر مادی قائم بالذات حقیقت کا اثبات کرتی ہے) اس حدیث شریف کا خلاصہ درج ذیل ہے:

احمد بن محسن میثمی کہتا ہے ابو منصور نے کہاکہ میرے ایک دوست نے مجھے کہا ، کہ میں، ابن ابی العوجا اور ابن مقفع مسجد الحرام میںموجود تھے۔ ابن مقفع نے کہا کہ یہ لوگ جو مسجد الحرام میں ہیں (طواف کرنے والوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ) ان میں سے کوئی اسم انسانیت کے قابل نہیں مگر وہ بزرگ شخصیت جو مسجد کے اس حصہ میں تشریف فرما ہیں(امام صادق ںکی

طرف اشارہ کیا)اور دوسرے جاہل و حیوان ہیں۔

ابن ابی العوجاء نے کہا: تو نے کس طرح انسانیت کے نام کو صرف ان حضرت (امام صادقں) کے قابل سمجھا ہے؟ ابن مقفع نے کہا: کیونکہ ان میں میں نے وہ کچھ دیکھا ہے جو دوسروں میں نہیں ہے۔ ابن ابی العوجا ء نے کہا: کہ جو تو نے کہا اس کا امتحان کرنا چاہیے۔

ابن مقفع نے کہا: ان کا امتحان مت لو، کیونکہ میں ڈرتا ہوں کہ وہ تیرے افکار کو تجھ سے چھین نہ لیں۔ابن ابی العوجاء نے کہا: تو اس لئے ڈرتا ہے کہ کہیں تیری طرف سے ان کی تعظیم وتکریم غلط نہ ثابت ہو اور تیری رائے میرے نزدیک کمزورنہ ہو جائے۔ ابن مقفع نے کہا:

اب جب تم یہ سمجھتے ہو تو جو چاہو کرو، اور جاؤ اُن سے گفتگو کرو اور خود کو لغزش سے محفوظ رکھنا اورسہل انگاری نہ کرنا وگرنہ شکست سے دوچار ہو جاؤ گے۔

ابن ابی العوجاء اُٹھا اور امام جعفر صادق کی طرف روانہ ہو ا۔ کچھ دیر کے بعد واپس لوٹااور ابن مقفع سے کہا: کہ یہ بشر نہیں اگر کائنات میں کوئی روحانی شخصیت ہے جو جب چاہے جسم میں تبدیل ہو جائے اور جب چاہے روح میں تبدیل ہو جائے تو وہ یہی شخصیت ہیں ۔

ابن مقفع نے کہا تمہاری ان سے گفتگو کیسی رہی؟ابن ابی لعوجاء نے کہا: جب میں ان کی خدمت میں پہنچااور جو لوگ آپ کی خدمت میں تھے سب چلے گئے اور میں تنھا ان کی خدمت میں رہ گیا، تو آپ ں نے مجھ سے کہا : اگر اہل طواف کا عقیدہ صحیح ہو (جو کہ صحیح ہے) تو وہ محفوظ اور تو مصیبت میں مبتلا ہو گااوراگر تمہا راعقیدہ صحیح ہو (جب کہ صحیح نہیں) تو تم اور طواف کرنے والے ایک جیسے ہو ں گے ۔

میں نے کہااللہ آپ پر رحمت نازل کرے (ابن ابی العوجاء کایہ کہنا عرفی طور پر ہے) ہم کیا کہتے ہیںاور یہ کیا کہتے ہیں؟حضرت امام صادق ں نے فرمایا: یہ کہتے ہیں دنیا کے بعد آخرت ہے اور ثواب و عذاب واقعیت رکھتے ہیں، اور کہتے ہیںکہ آسمان (کنایہ از جہان و کائنات) کا ایک خدا ہے اور آسمان منظم و آباد ہے اور تمہارا عقیدہ ہے کہ آسمان ویران ہے اس میں کوئی بھی نہیں(یعنی کوئی نظم نہیں ہے)

میں نے ان کی خدمت میں عرض کی، اگر ایسا ہے اور کائنات کا کوئی رب ہے تو مخلوق کے لئے ظاہر کیوں نہیں ہوتا تا کہ سب لوگ اس پر ایمان لائیں اور اختلاف ختم ہوکیوں کہ وہ خود پنہان ہے اور پیغمبر بھیج دیتا ہے اگر خود لوگوں سے ملتا تو لوگ جلدی ایمان لاتے۔

حضرت امام جعفر صادق ں نے فرمایا:وائے ہو تجھ پر! کس طرح اللہ تجھ سے چھپا ہوا ہے در حالانکہ اس نے اپنی قدرت کو تیرے وجود میں دکھایا ہے پھر آپ نے جو کچھ فرمایا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تجھے پیدا کیادر حالانکہ تیرا وجود نہیں تھاتو کبھی بیمار ہوتاہے اور کبھی صحت مند، کبھی خوش ہوتاہے کبھی غم زدہ، کبھی راضی ہوتا ہے اور کبھی ناراض، کبھی محبت کرتا ہے، کبھی نفرت کرتا ہے کبھی مصمم ارادہ کرتا ہے اور کبھی نہیں کرتا کبھی خواہش کرتا ہے اور کبھی خواہش نہیںکرتا کبھی راغب اور کبھی خوف زدہ ؛کبھی اُمید وار ہے اور کبھی نا امید کبھی متذکر اور کبھی غافل یہ تمام حالات تیرے فقرو وابستگی کی علامت ہیں۔

پھر ابن ابی العوجاء نے اپنے دوست سے کہا: کہ حضرت امام جعفر صادقں نے میرے وجود میں خدا کے بہت سے آثار قدرت کو شمار کیا کہ گویا نزدیک تھا کہ اللہ تعالیٰ میرے اور ان کے درمیان ظاہر ہو جائے گا۔(8)

انسان کا حدوث، وابستگی، نیاز مندی، مصنوعیت حضرت امام جعفر صادق ں کی فرمائش سے اس قدر روشن اور واضح ہے کہ شک و ابہام کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی یہاں تک کہ ابن ابی العوجاء جوکہ سختی کے ساتھ وجود خدا کا منکر تھا، اپنے وجود میں خالق جہان کو پا لیتا ہے اور اس حقیقت کو ابن مقفع کے سامنے کہتا ہے۔ اور واضح ہے کہ مختلف حالات، تغییر، تبدل، مختلف حرکات جیسے اوصاف ان اوصاف سے متصف ذات کے لئے حدوث و وابستگی کو واضح کردیتے ہیں، اورنتیجتاًہر موجود جو مختلف حالات رکھتا ہو یہی حکم رکھتا ہے۔

یہاں شیخ صدوق علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب التوحید کے باب ٤٢، ”اثبات حدوث العالم” میں چھٹی حدیث کے بعد ص ٢٩٨ پر ایک بیان ارشاد فرمایا ہے جس کا ذکر مناسب معلوم ہوتا ہے۔ انہوں نے لکھاہے: ”اجسام کے حدوث کی دلیل یہ ہے کہ ہم خود کو اور دیگر اجسام کو قطعا حوادث سے جدا نہیں پاتے۔ یعنی ہمارے اجسام میں کمی و زیادتی ہوتی رہتی ہے اور وہ صناعت و تدبیر کے زیر اثر واقع ہوتے ہیں اور کوئی نہ کوئی خاص شکل و ہیئت اپناتے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ ہمارے اجسام میں رونما ہونے والی یہ تبدیلیاں ہم خود اور ہماری جنس کا کوئی موجود انجام نہیں دیتااور چونکہ یہ تبدیلیاں ہمیشہ ہمارے اجسام میں رونما ہوتی رہتی ہیںپس خود یہ حوادث اور تبدیلیاں بھی ان اجسام کی طرح حادث ہیں اور یہ نہیں ہو سکتا کہ یہ اشیاء قدیم اور ازلی ہوں۔

برہان حدوث ایک اورزاویے سے

موجودات جہان میں سے جس موجود میں غوروفکر کریں تو اس کا حادث و متغیر و مصنوع ہو نا واضح ہو جاتا ہے اوروہ زبان حال کے ساتھ فریاد کرتا ہے کہ میں مربوب و مسخر(تربیت و پرورش یافتہ اور تسخیر شدہ) ہوں۔ اور واضح ہے کہ مذکورہ حالات عقل کے واضح حکم کے مطابق ایک مدبر اورقادرھستی کے وجود کا پتہ دیتے ہیںاس کے باوجود انسان چاہتا ہے کہ بعض حوادث و تغییرات کی دیگر حواد ث و تغییرات سے توجیہ کرے، بعض موجودات کو بعض دیگر موجودات کاپیدا کرنے والا قرار دے ۔ لیکن تھوڑی سی توجہ سے پا لیتا ہے کہ جس چیز سے بھی واسطہ پڑتا ہے وہ اسی طرح ہے اور جس چیز کو بھی مدبر و خالق فرض کرتا ہے اسے خود مسخرومربوب ومخلوق پاتا ہے، یہاں پر انسان کائنات کو اس کے تمام اجزاء کے ساتھ مخلوق، مربوب و مسخر پاتا ہے اوراس وقت قدرت حقیقی کوجو کہ ان موجودات کی نوعیت سے نہیں اور ان موجودات متغیر کی علامات نہیں رکھتی، حاکم کائنات دیکھتا ہے۔

برہان دوّم:کائنات میں نظم و ضبط کاپایا جاتا اور اس کا با مقصد ہونا

خالق عالم، قادر، حکیم، قائم بالذات اور محافظ کائنات کا وجود روشن حقیقت ہے اور انسان جب کائنات و اشیاء کائنات پر غور کرتا ہے، اور زمین و آسمان چاند اور سورج و ستارے اور موجودات کی منظم و حکیمانہ حرکات کی طرف توجہ کرتا ہے تو بے شک اس پردانا، قادر اور قائم بالذات حقیقت واضح و روشن ہو جاتی ہے اس کے باوجود کہ اس عظیم حقیقت کی کنہ ذات اس کے حواس و تصور سے مخفی ہے، ایسی بے مثال و بے نظیر حقیقت کو قبول کرتا ہے۔

آفرینش ھمہ تنبیہ خداوند دل است

تمام کائنات خدا کے وجود پر (دل کی) تنبیہ ہے

دل ندارد کہ ندارد بہ خداوند اقرار

جوخدا کااقرار نہیں کرتا وہ دل ہی نہیں رکھتا

کوہ و صحرا و بیابان ھمہ در تسبیح اند

پہاڑ،جنگل،بیابان،سب خدا کی تسبیح کرتے ہیں        

نہ ھمہ مستمعی فھم کنند این اسرار

اگرچہ ان اسرار کو ہر کوئی نہیں سن سکتا

کہ تواند کہ دھد میوہ شرین از چوب

کون ہے جو لکڑی سے میٹھے پھل پیدا کرتا ہے

یا کہ داند کہ بر آرد گلِ صد برگ از خار

یاکون جانتا ہے کہ کس طرح ایک کانٹے سے سو پتیوں والا پھول اگائے

عقل حیران شود از خوشہ زرین غیب

انگور کے خوبصورت خوشے کو دیکھ کر عقل حیران ہے

فھم عاجز شود از حقہ یاقوت انار

انار کے یاقوتی غلاف کو سمجھنے سے عقل عاجز ہوجاتی ہے

پاک وبی عیب خدایی کہ عزیز است و قدیر

ہرعیب سے پاک اوربے عیب وہ خدا ہے جو عزیز وقدیر ہے

ماہ و خورشید مسخر کند و لیل و نھار

جو سورج اورچاند اوردن اوررات کو مسخرکرتا ہے

دوسرے لفظوں میں نظم و نسق اور متناسب، ہم آہنگ، حساب شدہ اور بامقصد ترکیب ناظم عالم، قادر و حکیم کے وجود کی روشن دلیل ہے اور خلقت انسان و کائنات میں نظم و نظام و ترکیب متناسب و معقول کا ہونا واضح ہے ۔ پس ناظم عالم و قادر و حکیم کا وجود واضح اور قطعی ہے۔

مثال: اگر آپ کوئی با معنی، مفیدو حکیمانہ جملہ دیکھیں مثلاً ”ہٹ دھرمی کی ابتداء جہالت و نادانی اور انجام ندامت وپشیمانی” ہے،تو آپ کبھی یہ سوال نہیں کریں گے کہ کیا یہ با معنی و مفید جملہ جو مخصوص حروف، مقدار، اندازہ و کیفیت سے منتخب و مرکب ہوا ہے اس کو ترکیب دینے والا کوئی ہے یا نہیں؟ بلکہ آپ سوال کریں گے، کہ کس نے اس جملہ کو لکھا یا کس نے یہ جملہ کہا ہے؟

اسی طرح جب انسان خود اپنے اور کائنات کے بارے میں فکر کرتا ہے اوران تمام منظم و بامقصدعجائبات کو دیکھتا ہے تو اس بات کی گنجائش نہیں رہتی کہ وہ سوال کرے کہ کیا ان تمام منظم عجائبات کا کوئی عالم وقادر خالق ہے؟ بلکہ وہ بلاشک و تردید خالق عالم وقادر کے موجود ہونے کا حکم لگاتا ہے۔

ہاں خلقت موجودات میں ابدی و ازلی نظام کا مشاہدہ خالق عالم و قادر کی نفی کے ہر طرح کے احتمال کو ختم کر دیتا ہے بلکہ بلا تردید خالق متعال کا اثبات کرتا ہے۔

درج ذیل مثال میں دقت کریں: جب ہم ماں کے شکم میں بچے کی خلقت پر غور کریں تو ہم دیکھیں گے کہ ماں کے شکم میں بچے کی ساخت اس قدر حساب شدہ خلق ہوئی ہے کہ جو کچھ عالم رحم میں موجود ہوتا ہے وہ عام طور پر عالم رحم میں کارآمد نہیں ہوتا بلکہ اس میں واضح طورپر آیندہ کی منصوبہ بندی نظر آتی ہے۔ جب بچہ عالم دنیا میں داخل ہوتا ہے تو فوراً وہ سب اعضاء با مقصدو کار آمدہو جاتے ہیں جو کچھ اسے ضرورت تھی وہ عالم رحم میں اسے عطا کر دی گئی۔ ابتدائی عمر میں دانتوں کی ضرورت نہیں، بلکہ وہ بچے کے لئے غذا حاصل کرنے سے مانع اور مضر ہیں۔ وہ بعد کے مراحل میں پیدا ہوتے ہیں بچے کی آنکھ، کان، زبان، حلق اور دیگر عضلات عالم رحم میں کام نہیں آتے اور عالم رحم میں دیکھنا، سننا و باتیں کرنا نہیں ہوتااسی طرح عالم رحم میں مغز، پھیپھڑے اور قلب کی پیچیدہ تشکیلات کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ وہ عالم رحم میں کام نہ کریں لیکن جونہی بچہ عالم دنیا میں قدم رکھتا ہے۔ ان سب کا وجود مکمل طور پر ضروری اورکارآمد ہوجاتا ہے واضح ہے کہ ایسی ہم آھنگی، مقصدیت،مستقبل بینی، (مستقبل پر نظر) عالم، قادر، حکیم کے بغیر ممکن نہیں ۔

ذرا اپنے آپ کو دیکھیں:

اگر ہم اپنے وجود اور اس کی ساخت پر اجمالی نظر کریں تو حضرت حق تعالیٰ کی قدرت، علم، حکمت کے واضح آثاردیکھیں گے انسان کا ہر ایک عضو ایسی جگہ پر ہے جواس کا مناسب ترین، حکیمانہ ترین اور بہترین مقام ہے جہاں اسے ہونا چاہیے۔ ان اعضاء میں سے ہر ایک آنکھ، کان، زبان، ہاتھ پاؤں اور دیگرا عضلاء و جوارح ایک دوسرے کے باہم مددگاراورایک دوسرے سے ہم آہنگ ہیں۔ ہم جس قدر اپنے وجود کی دقیق تر تحقیق کریں اتنا ہی آثار علم، قدرت، حکمت کا زیادہ مشاہدہ کریں گے۔ نمونہ کے طور پر درج ذیل مطالب میں دقت کریں:

١۔ حس لامسہ:آپ متوجہ ہیں کہ جسم کی جلد کا ہر نقطہ نظام اوراک(دماغ) سے اس طرح مخصوص رابطہ رکھتا ہے کہ ہر ضرب کو اعصابی لہرجو کہ الیکٹرانک لہر ہے میں تبدیل کرتا ہے اور ایک راہنمائی کا نظام موجود ہے جو ایک ہی وقت میں مختلف لہروں کو ایک دوسرے میں مخلوط کیے بغیر مرکز اوراک تک پہنچاتاہے اور مرکز اوراک فوری طور پر سمجھ جاتا ہے کہ یہ لہر کیسی ہے اور جسم کے کون سے نقطے سے بھیجی گئی ہے اوراگر انسان اپنی موجودہ ٹیکنالوجی سے اس ارتباطی نظام کو خود برقرار کرتا تو کئی ملین مشینیں بناتا جو ضربات کو الیکٹرانک لہروں میں تبدیل کرتیں اور اسی قدر پورے جسم سے نازک تاریں دماغ کی طرف کھینچتا تا کہ لہروں کو مخلوط ہوئے بغیر دماغ تک پہنچا سکیں اور بعض ماہرین حیاتیات (بیالوجی) کے نزدیک ان تاروں کی لمبائی کئی ہزار کلو میٹر ہو تی۔

٢۔ نظام انہضام: صاحب کتاب” راز آفرینش” لکھتا ہے: اگر ہم نظام انہضام کو ایسی کیمیائی تجربہ گاہ سے تشبیہ دیں، اور اس میں جانے والے غذائی مواد کو اس تجربہ گاہ کے لیے خام مواد سمجھیں تو اس وقت حیران ہوں گے کہ ہمارا ہضم کرنے کا عمل کس قدر کامل ہے کہ وہ کھائی جانے والی ہرچیز کو ہضم کرتا ہے اور تحلیل کر دیتا ہے۔ ہم مختلف مواد کو معدہ کے لیے مضر یا مفید ہونے کو مدّنظر رکھے بغیر اس تجربہ گاہ میں داخل کرتے ہیںاور صرف ہماری توجہ یہ ہوتی ہے کہ کھانے کے ذریعے زندہ رہیں، معدہ میں غذا جانے کے بعد دوبارہ پکتی و تیار ہوتی ہے، اور جسمانی سیلز کو غذا فراہم کرتی ہے۔ اور جاننا چاہیے کہ انسان کے بدن میں ان سیلز کی تعداد کئی ارب ہے یعنی ان کی تعداد روئے زمین پر نوع بشر کی تعداد سے زیادہ ہے۔  

ضروری ہے کہ غذائی مواد مسلسل سیلز تک پہنچے اور مختلف اعضاء بدن جیسے ہڈیاں، ناخن، بال، آنکھیں، دانت وغیرہ کا ہر سیل اسی غذائی مواد کو جذب کرتا ہے تا کہ وہ اس کی زندگی اور پرورش کے کام آئے۔ اس بناء پر وہ مواد جو اس کیمیائی تجربہ گاہ میں ترکیب پاتا ہے اور آمادہ اور مہیا ہوتا ہے وہ اس مواد سے زیادہ ہے جو انسانی ہاتھوں سے بنی ہوئی تجربہ گاہیں مہیا کرتی ہیں۔ رابطوںکا جال اور سیلز تک اس مواد کو اٹھانے اور پہنچانے کا طریقہ اس قدر جامع اور منظم ہے کہ اب تک اس جیسا کوئی بھی نقل و حمل کا سسٹم نہیں دیکھا گیا۔ برہان نظم کی تکمیل میں درج ذیل نکات کی یاد دہانی کرائی جاتی ہے.

الف: مادہ میں فعل و انفعال اور حرکت (قطع نظر اس کے کہ اس کی حرکت اسکے محتاج ہونے کی دلیل ہے) اگرچہ آثار رکھتی ہیں لیکن اس کا اثر خود اس کے متناسب ہو گا اور اس سے متشابہ و مادی آثار کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ اس بناء پر تغییر و تسلسل اور مقصدیت کے ساتھ منظم ترکیب و تالیف واضح طور پرثابت کرتی ہے کہ مادہ ایک عالم، قادر ذات سے وابستہ ہے۔

ب: موجودات کے ہر حصہ کی تنظیم ناظم عالم، قادرکی موجودگی کو ثابت کرتی ہے اور جن موارد میں بے نظمی، بے مقصدیت کا دعویٰ کیا جاتا ہے یہ دعویٰ بغیر دلیل کے اور باطل ہے کیونکہ اس وقت ایسا دعویٰ کیا جاسکتا ہے، جب تمام موجودات اوران کی مختلف جہات پر علمی احاطہ موجود ہو اور واضح ہے کہ ایسا وسیع و محیط علمی احاطہ کسی کے لیے بھی میسر نہیں۔ اس بناء پر جن موارد میں انسان کسی موجود کے ہدف سے آگاہ نہ ہو تو اسے یہی کہنا چاہیے کہ میں اس چیز کے مقصد سے آگاہ نہیںاور اس کی خلقت کی حکمت میرے لیے واضح نہیںنہ یہ کہے کہ بنیادی طور پر اس موجود میں کوئی ہدف و مقصد ہی نہیں بالخصوص بعض موارد میںوقت کے ساتھ ساتھ علمی وسائنسی ترقی و پیشرفت نے ان کے مصالح و منافع کو واضح کیا ہے۔

مثال: اگر ہم کوئی کتاب دیکھیں اور اس کا مطالعہ کریں، اور اس میں مفید و منظم مطالب کو دیکھیں لیکن اس کتاب کے کچھ حصے کو نہ سمجھ سکیں تو ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ کتاب کا یہ حصہ بے معنی و بے مقصد ہے۔ بلکہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم ان صفحات کے مقصود و ہدف سے آگاہ نہیں ہیں۔ گذشتہ باتوں کی بناء پر جب زمین و آسمان اور اپنے وجود کی خلقت میں غورو فکر کریں، اور کائنات اور خود اپنے وجود میں نظم و ضبط کو پائیںتو زلزلہ، طوفان متعدی امراض اورنقص عضووغیرہ کو دیکھیں تو ان کی بے مقصدیت کا دعویٰ نہیں کر سکتے بلکہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم حوادث و واقعات کی حکمت و ہدف کو نہیں جانتے۔ در حالانکہ متوجہ رہنا چاہیے کہ مکتب الہٰی میں ایسے بہت سے موارد میں کلی طور پر حکمت و ہدف متعین ہو چکے ہیں۔کیونکہ اپنے مقام پر بیان ہو چکا ہے کہ ان حوادث میں سے بعض تنبیہ و تأدیب اور بعض آزمائش و امتحان (جو کہ خود مہم ترین ہدف ہے) کیلئے ہیں۔ اور ا ن حوادث میں سے بعض طبیعی و تکوینی مصلحتیںرکھتے ہیں اور کچھ حوادث قوانین خلقت سے انسان کی غفلت کا نتیجہ ہیں اور بعض قانون مہلت سے مربوط ہیں، جو خود ہدف و حکمت رکھتا ہے۔

ج: جاننا چاہیے کہ معرفت خالق سے متعلق جن دلایل سے استدلال کیا جاتا ہے، ان میں سے ہر ایک متعلقہ مباحث کے بنیادی حصہ کو پورا کرتا ہے اور بہت سے سوالات کا جواب دوسرے مرحلے میں دیتا ہے۔

برہان سوم، برہان وجوب و امکان

برہان وجوب و امکان کی وضاحت کے لیے چندباتیں مقدمةً ذکر کرتے ہیں۔

١۔ موجود دو صورتوں سے خارج نہیں کیونکہ ہر موجود کا وجود و تحقق یا ذاتی ہے (یعنی ہرگز ممکن نہیں کہ وہ نہ ہو اس کا ہونا اس کے لیے لازمی ہے) یا وجودو تحقق اس کے لیے ذاتی نہیں بلکہ اگر اس کی پیدائش اوروجود کے لیے کوئی علت موجود ہو تو وہ بھی موجود ہوگا اور اگر علت نہ ہو تو وہ بھی موجود نہیں ہوگا جو پہلی خصوصیت رکھتا ہواس کو واجب الوجود اور دوسری خصوصیت والے کو ممکن الوجود کہتے ہیں۔

٢۔ ممکن الوجود کا علت کے بغیر وجودوتحقق ممکن نہیں کیونکہ واضح ہے کہ معلول، مخلوق کا وجود علت، خالق کے بغیر محال ہے۔

٣۔ ممکن الوجود اس وقت تحقق اور وجودپیدا کرتا ہے جب اس کا سلسلہ واجب الوجوب تک پہنچے اگر ایسا نہ ہو تو تسلسل یا دور لازم آتا ہے۔ اور دوروتسلسل باطل ہیں۔

وضاحت: اگر متعدد ممکن الوجود فرض کیے جائیں اور ایک دوسرے سے مربوط اور اس کا معلول ہو اور یہ سلسلہ اس طرح مسلسل ہو اورکبھی واجب الوجود پر ختم نہ ہو تو یہ فرض محال و باطل ہے اور اسے تسلسل کہا جاتا ہے اور اس کے باطل ہونے پر متعدد دلایل موجود ہیں، ان میں سے ایک دلیل یہ ہے۔ مذکورہ بالا فرض کا معنی معلول کا علت کے بغیرموجود ہونا ہے کیونکہ مورد نظر سلسلہ کا ہر ہر فرد ممکن الوجود ہے تو اس سلسلہ کے ہر فرد کی حیثیت مساوی ہوگی نہ کہ ایک علت ہو اوردوسرا معلول اور اگر متعدد ممکن الوجود فرض کیے جائیں اور دائرہ کی شکل میں ایک دوسرے سے مربوط ہوں اورہر ایک دوسرے کا معلول ہو تو اس کو دور رکھتے ہیں اور دور بھی تسلسل کی طرح باطل ہے۔ کیونکہ اس کا لازمہ، شی کا خود اپنے وجود پر تقدم ہے جو کہ عقل کے واضح حکم سے باطل اور محال ہے۔

مثال: اگر ہم متعدد گاڑیاں پے در پے نمبروں کے ساتھ مدّنظر رکھیں اور پہلی گاڑی کی حرکت دوسری گاڑی کی حرکت سے مشروط ہو اور دوسری کی حرکت تیسری گاڑی کی حرکت سے اور اسی طرح بعد کی گاڑیوں میںسے ہر ایک کی حرکت دوسری کی حرکت سے مشروط ہو اور کسی ایسے حرکت دینے والے پر ختم نہ ہو جو کسی دوسرے کی حرکت سے مشروط نہ ہو تو پہلے نمبر والی گاڑی کبھی حرکت نہیں کرے گی کیونکہ فرض یہی ہے کہ ان تمام گاڑیوںکی حرکت مشروط ہے اور ان کی حرکت کے لیے علت تامہ موجود نہیں مگر یہ کہ گاڑیوں کی حرکت ایک ایسی حرکت پر منتہی ہو جو خود متحرک ہو اور کسی اور حرکت سے مشروط نہ ہو اس وقت فرض شدہ تمام گاڑیاں حرکت کریں گی۔نیز اگر اس مثال میں گاڑیوں کی حرکت کو دائرہ کی طرح ایک دوسرے کی حرکت سے مربوط فرض کریں اور بات کو آسان کرنے کے لیے ان گاڑیوں کو چار فرض کرتے ہیںتو گاڑی نمبر (١) کی حرکت دوسری گاڑی پر موقوف ہو گی اور گاڑی نمبر(٢) کی حرکت تیسری گاڑی کی حرکت پر موقوف ہو گی اور تین نمبر گاڑی کی حرکت چار نمبر گاڑی کی حرکت پر موقوف ہو گی تو ہر ایک کی حرکت دوسری کی حرکت پر موقوف ہو گی اور نتیجةً چار نمبر گاڑی کی حرکت ایک نمبر گاڑی کی حرکت پر موقوف ہو گی۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ایک نمبر گاڑی کی حرکت خود اپنی حرکت پر موقوف ہو اس بناء پر کیونکہ گاڑی نمبر (١) کی حرکت معلول ہے تو مؤخر بھی ہے اور کیونکہ اپنے وجود کی خود علت ہے لہذا مقدم بھی ہے۔ اور نتیجةً ایک شیء کا خود اپنے وجود پر تقدم لازم آتا ہے جس کا باطل و محال ہونا واضح ہے۔

اب ہم کہتے ہیں کہ مذکورہ باتوں سے اچھی طرح استفادہ کیا جا سکتا ہے کہ مسلسل اور ایک دوسرے سے مربوط موجودات کا اس طرح فرض کرنا کہ ہر ایک کا وجود مشروط اور اصطلاحی طور پر ممکن الوجود ہو اور حقیقت واجب الوجود کے ساتھ مربوط نہ ہو تو یہ فرض دور یا تسلسل ہو گااور یہ دونوں فرض محال ہیں کیونکہ بے شک موجودات موجود ہیں پس ان کے لیے ضروری ہے کہ واجب الوجود موجود ہو۔ اور بالفاظ دیگر وجود واجب الوجود کے بغیر موجودات کے وجود کا فرض کرنا مستلزم دوروتسلسل ہے اوردورو تسلسل محال ہے پس واجب الوجود کا وجود قطعی ویقینی ہے۔(9)

(فطرت)

اللہ تعالیٰ کے وجود کی معرفت کے لیے بہترین راستہ دل اور فطرت کا راستہ ہے۔ فطرت کا معنی سرشت و خلقت ہے اور وہ کچھ جو انسان کی سرشت میں رکھا گیا ہے اسے فطرت کہا جاتا ہے اسی وجہ سے جو چیز فطری ہے وہ ہر جگہ اور ہر ایک میں ہے اور ختم ہونے والی نہیں ۔ کیونکہ موجودات میں سے ہر نوع کی سرشت میں جو کچھ ہو گا وہ موجود جہاں بھی ہو گا اس میں وہی خصوصیت پائی جائے گی اور جب تک وہ موجود وجود رکھتا ہے وہ خصوصیت بھی موجود ہو تی ہے۔

اس وجہ سے جو چیز فطری ہو وہ تین خصوصیات رکھتی ہے:

١۔ ہر جگہ ہوتی ہے۔

٢۔ ہر ایک میں ہوتی ہے۔

٣۔ ختم نہ ہونے والی ہوتی ہے۔

البتہ مخفی و پنہان ہو سکتی ہے اور شدت و ضعف کو قبول کرتی ہے لیکن ختم و نابود نہیں ہوتی۔ تکرار کے ذریعے جو کچھ انسان کے اندر پیدا ہوتا ہے اور وہ انسان کی عادت بن جاتا ہے واضح ہے کہ وہ ہر جگہ اور ہر ایک میں نہیں ہوتااور ختم بھی ہو سکتا ہے۔ مثلاً ہم جانتے ہیں کہ تلاش علم و کمال فطری ہے یعنی ہر انسان کی طبیعت میں علم و کمال کی طرف ایک کشش موجود ہے اور علم و کمال کے حُسن کو استدلال کیلئے بغیر ہم جانتے ہیں۔ لیکن صبح سویرے چائے پینے کا تعلق وہ تعلق ہے جو تکرار کے

ذریعے پیدا ہوا ہے اور انسان اس کا عادی ہو گیا ہے اور یہ عادت نہ ہی ہر جگہ ہوتی ہے اور نہ ہی ہر ایک میں ہوتی ہے اور نہ ہی ناقابل زوال ہے۔ بالفاظ دیگربعض ادراکات انسانی استدلال اور مقدمات کو واسطہ قرار دینے سے حاصل ہوتے ہیں جیسے تمام وہ مطالب جو استدلال کے بغیر انسان درک نہیں کرتا ہے۔ لیکن بعض ادراکات انسانی استدلال کے محتاج نہیں ہیںاور انسان کے لیے خود بخود واضح ہیں اور انسان کے ضمیر و وجدان کی آواز ان کا فیصلہ کرتی ہے اور انہیں پا لیتی ہے اور یہ وجدان روح کے حضوری وجدانوں میں سے ہے اور استدلال کا قابل قبول ہونا ہی وجدان پر منتہی ہونا چاہئے اور یہی وجدان ذاتی طور پر دلیل ہے اور کسی اور دلیل کا محتاج نہیں۔

اسی طرح ہے علم وعدل کا اچھا ہونا،اور ظلم و ستم کاقبیح و برا ہونااور اس جیسے امور فطری امور میں سے ہیں۔ گذشتہ باتوں کو مدّنظر رکھتے ہوئے ہم کہتے ہیں کہ انسانی فطرت خدا کی متلاشی ہے اور ایک عالم، قادر، حکیم ھستی کودل میں پاتی ہے۔ایک طرف انسان کے دل اور دوسری طرف مبدأ ھستی اور کمال مطلق کے درمیان یہ معنوی جذبہ اور تعلق اس قدر پائیداراور مستحکم ہے جو کبھی نہ ختم ہونے والا ہے اور جو ظاہری طور پر اس کا انکار کرتاہے اس کی باطنی آواز اللہ تعالیٰ کے وجود کی گواہ ہے۔ اور جس قدر دل کی آلودگی کم تر اور بیہودہ وابستگیوں سے قطع تعلق زیادہ اور روحانی پاکیزگی زیادہ ہو گی یہ وجدان و ارتباط بھی واضح تر ہو گا۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ دل غافل اور فطرتِ مستورو پوشیدہ پرسے روشن و موثر یاد دہانی اور نصیحت سے یا آزمائش اور خطرے کی حالت میں پردہ اُٹھ جاتا ہے اور دل کو کثیف کرنے والا گردوغبار صفحہ دل سے اُٹھ جاتا ہے۔ اور ندائے وجدان تسبیح و حمد کی فریاد بلند کرتی ہے یا اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرتی ہے اور پروردِگار عالم، قادر کا اعتراف کرتی ہے اور اس کی پناہ میں چلی جاتی ہے یہاں تک کہ کبھی ہٹ دھرم اور معاند افراد کے دل بھی مذکورہ مواقع پربظاہر انکار کے باوجود ضروری گواہی دیتے ہیں اور ان کی فطرت اپنا کام کردیتی ہے.(١0)

فطرت کی بحث کے اختتام میں درج ذیل مطالب کی یاد دہانی مناسب نظر آتی ہے۔ علمی کتب اور اقوال بزرگان میں فطرت کے مختلف معانی و استعمال ذکر کیے گئے ہیں۔

١۔ فطرت سے مراد اندرونی،باطنی جذبہ ہے جیسے انسان کی جمال و کمال کی طرف اندرونی کشش یا ماں، باپ، فرزند کی طرف کشش و جذبہ باطنی انسان کی ایسی حالت و جذبہ علم و شناخت نہیں گرچہ اس کا لازمہ شناخت و علم ہے۔ اور انسان کے باطن میں معبود، خالق کائنات کی طرف ایسی کشش موجود ہے لیکن توحید اور اثبات وجود باری تعالیٰ کی بحث میں فطرت سے مقصود یہ معنی نہیں کیونکہ یہ معنی اس کی طرف کشش ہے نہ کہ اس کی شناخت و معرفت۔

٢۔ بعض موارد میں لفظ فطرت استعمال ہوتا ہے لیکن اس سے مراد عقل فطری ہے یعنی وہ روشن و واضح درک جو استدلال کا محتاج نہ ہو بلکہ استدلال بغیر زحمت کے انجام پاتا ہے اس بات میں معرفت خدا کے فطری ہونے کا معنی یہ ہے کہ انسان موجودات کی طرف معمولی توجہ سے موجودات کی نیاز مندی و محتاجی کو سمجھ لیتاہے اور حقیقت بے نیاز کی طرف ان کی محتاجی کو درک کر لیتا ہے۔ در حقیقت موجودات کی طرف توجہ سے اللہ تعالیٰ کے اثبات کے لیے روشن استدلال کو آسانی سے پا لیتا ہے۔

فطرت کا یہ معنی بحث توحید میں مخلوقات میں فکر کرنے میں استعمال ہوتا ہے۔ لیکن معرفت فطری کی بحث میں یہ معنی مقصود نہیں۔معرفت کی بحث میں کلمہ فطرت سے جو مقصود ہے وہ وہی مجہول الکنہ ا ور ہر نقص سے پاک ہستی کے ساتھ دل کا تعلق ہے جو استدلال کا محتاج نہیں بلکہ اس کی نوعیت استدلال کی نوعیت سے جدا ہے؛تمام استدلالوں میں مفاہیم مورد شناخت قرار پاتے ہیں اور مفاہیم کے ذریعے ان مطالب پر حکم لگایا جاتا ہے لیکن شناخت فطری میں قلب و دل کا تعلق و ارتباط ہے جو مفہوم کے واسطے کا محتاج نہیں۔ہاں: اللہ تعالیٰ کے بارے میں دو قسم کی معرفت وجود رکھتی ہے۔ ایک معرفت کلی جو مفاہیم عقلی سے حاصل ہوتی ہے اور حق تعالیٰ کے ساتھ بلا واسطہ تعلق نہیں رکھتی، وہ شناخت و معرفت جو براہین عقلی کے ذریعے انجام پاتی ہے اس قسم کی ہے۔اور فلاسفہ ومتکلمین کا طریقہ معرفت یہی کلی معرفت ہے البتہ وہ کلی جو ایک ہی فرد میں منحصر ہو۔(1١)

فطرت و قلب کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی معرفت ہی ایسی معرفت ہے جو ذات مقدس پروردِگار کے اثبات کے ساتھ ساتھ علم، قدرت، توحید، حیات باری تعالیٰ کے اثبات کو بھی اپنے ساتھ رکھتی ہے جب کہ دیگر دلایل اثبات خدامیں سے ہر ایک دلیل ایک حصے کو ثابت کرتی ہے اور پھر مرحلہ بہ مرحلہ مربوطہ مطالب کو پیش کرتی ہے۔

خداوند متعال کی صفات

اب تک زیر تحقیق مسئلہ کا تعلق معرفت کائنات سے تھا اور اس لحاظ سے دیکھا گیا کہ آیا کائنات مادہ کے مساوی ہے یا مادہ کائنات کا حصہ ہے اور مادہ کے علاوہ بھی ایک غیر مادی حقیقت موجود ہے جس کے ساتھ مادہ وابستہ ہے اور وہ خود بخود قائم ہے۔

اور تین ذرائع(١2) سے غیر مادی، قائم بالذات اوربے نیاز ہستی کے وجود کو ثابت کیا گیا ہے کہ جس کی کائنات محتاج ہے۔

اب صفات و اوصاف پروردگاراورخالق کائنات سے متعلق ضروری مسائل کی یاد دہانی کرائی جاتی ہے۔ خدا وند متعال سے متعلق صفات کلی طور پر دو قسموں میں تقسیم ہوئی ہیں۔

١۔ صفات ثبوتیّہ

٢۔ صفات سلبیّہ

صفات ثبوتیہ وہ صفات ہیں جو اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت کی جاتی اوران کی اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت دی جاتی ہے، جیسے علم، قدرت، حیات، لہذا ہم کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ عالم، قادر وحی ہے۔ اور صفات سلبیہ وہ صفات ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت نہیں دی جاتی بلکہ انہیں اللہ تعالیٰ سے سلب و نفی کیا جاتا ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ اللہ عاجز نہیں، جاہل نہیں، جسم نہیںوغیرہ وغیرہ۔ وہ صفات جو اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت کی جاتی ہیں (صفات ثبوتیہ) دو قسموں میں تقسیم ہوتی ہیں۔

١۔ وہ صفات جو ہمیشہ کے لیے اللہ کی طرف منسوب ہوتی ہیں اور ہرگز اللہ تعالیٰ سے منفی و سلب نہیں ہوتیںجیسے علم ،قدرت، حیات ان صفات کو صفات ثبوتیہ ذاتیہ کہتے ہیں۔

٢۔ وہ صفات جو کبھی اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت کی جاتی ہیں اور کبھی منفی، جیسے ارادہ و خلق وغیرہ ہم کہتے ہیں کہ اس نے ارادہ کیا اور ارادہ نہیں کیا، خلق کیا یا خلق نہیں کیا، ان صفات کو صفات ثبوتیہ فعلیہ کہتے ہیں۔

(خداوند متعال کی صفات کی نفی یا اثبات کے طریقے)

خالق کائنات کی صفات کی معرفت واثبات نیز کچھ صفات کی خداوند متعال سے نفی کے ذرائع مختلف ہیں۔

الف ۔ فطرت

اگر ہم فطرت کے ذریعے اللہ کی معرفت حاصل کریں، یا غفلت کی رکاوٹوں کے خاتمے سے دل آگاہ ہو اور فطرت انسانی ظاہر ہو تو جس طرح وہ اصل کائنات اور اللہ تعالیٰ کے وجود کو پاتا ہے اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کی صفات کو بھی پا لیتا ہے اور اسی معرفت فطری کے ذریعے غیر مادی حقیقت جو بے مثل و بے مثال ہے کے وجود کو پا لیتا ہے۔ اور یہ بھی جان لیتا ہے کہ وہ حقیقت عالم، قادر ، حی، حکیم، لامحدود ہے اور جان لیتا ہے کہ وہ واحد ہے اور انسان کے ظاہری و باطنی حواس سے محسوس نہیں ہوتی۔ اور جان لیتا ہے کہ وہ جسم نہیں، عاجز نہیں، جاہل نہیں اور ناقابل فہم و تصورو توہم ہے اور جان لیتا ہے کہ وہ تنہا ہے اور انسان کے حواس ظاہر و باطن سے محسوس نہیں ہوتی۔ یہی معرفت ہے جو خوف ، اُمید، اور اللہ تعالیٰ کی طرف احساس فقر و احتیاج کے ہمراہ ہے اور عظمت، جلال، جمال، حب الہٰی کے پالینے کے ہمراہ ہے۔

اس بناء پر معرفت فطری میں ہی اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل ہوتی ہے صفات الہٰی کی معرفت بھی حاصل ہوتی ہے۔ ہاں فطری معرفت ہر کسی کے لیے اجمالی طور پر حاصل ہے اور وہ لوگ جو اس معرفت فطری کے ذریعے حق کی طرف حرکت کرتے ہیں اور اس فطری معرفت کے متناسب شکر سے غفلت نہیں کرتے ان میں یہ حالت زیادہ ہو جاتی ہے اور معرفت تفصیلی انہیں نصیب ہوتی ہے اورجنہوں نے اولیاء الٰہی سے کہ جن کے آثارو تعلیمات ہر زمانے میں موجود ہیں (خواہ وہ شخصی طور پر حضور رکھتے ہوں یا غایب ہوں) ،سیکھا ہوتا ہے اور کمال معرفت و عبودیت کی توفیق حاصل کی ہوتی ہے ان کے ذریعے ان لوگوں پر بھی حجت تمام ہوجاتی ہے جو باطل کی طرف مائل ہوتے ہیں یا معرفت فطری سے غفلت کرتے رہتے ہیں اوربا لآخر وہ فطری حالت ان سے مخفی ہوجاتی ہے اور وہ لوگ جو باطل کی طرف مایل ہوتے ہیں اور اس معرفت فطری سے غفلت کرتے ہیں ان پر حجت تمام ہو جاتی ہے اور باطل کی طرف میلان و رجحان ا ور انحراف کے نتیجے میں ان میں وہ فطری حالت پنہاں ہو جاتی ہے۔

ب۔ خلقت میں تفکر

صفات الہٰی کی معرفت کے لیے دوسرا راستہ خلقت موجودات میں فکر کرنا ہے، واضح ہے کہ ہر مؤثر کے آثار اور ہر صانع کی مصنوعات اس مؤثر و صانع کا پتہ دیتی ہیں۔ اگر ہم ایک کتاب کو دیکھتے ہیں جو مُفیدو مہم مطالب رکھتی ہے اور بہت ہی پسندیدہ، منظم ترتیب رکھتی ہے تو ہم واضح طور پر اس کتاب کے لکھنے والے کے علم و قدرت کو بھی جان لیں گے اور اچھی طرح سمجھ لیں گے کہ مذکورہ کتاب کا مصنف عالم، قادر شخص ہے۔ اس بناء پر وسیع کائنات اور مختلف موجودات اور حیرت انگیز، با مقصد عجائبات اور کچھ موجودات میں حیات و قدرت کا وجود مکمل طور پر علم، قدرت اور حکمت باری تعالیٰ کو بیان کرتا ہے اور حضرت حق تعالیٰ سے جہالت و عجز کی نفی کرتا ہے۔ واضح ہے کہ صفات کی یہ معرفت، معرفت کامل نہیںاور اللہ تعالیٰ کے علم و قدر ت کی لا محدودیت اس طریقے سے ثابت نہیں ہوئی لہٰذا اس کی تکمیل یاتومعرفت فطری پر منتج ہونے میں ہے یا مکتب وحی و اولیاء خدا سے سیکھنے اور حاصل کرنے میں ہے یا صریح و واضح عقلی موازین سے استفادہ کرنے میں ہے مثلاً اگر صفت ذات محدود ہو تو ذات بھی محدود ہو گی اور اگر ذات محدود ہو تو محتاج و معلول ہو گی۔

واجب الوجود کے مفہوم کی وضاحت

صفات ثبوتیہ کی شناخت اور صفات سلبیہ کی نفی کے ذرائع میں سے ایک واجب الوجودا ور قائم بالذات کے مفہوم کی تشریح ہے۔ جس قدر زیادہ اس حقیقت (قائم بالذات، واجب الوجود) کے خواص و لوازم کی تشریح کی جائے گی اتنا ہی ہم صفات ثبوتیہ وسلبیہ کی معرفت میں کامیاب ہو نگے۔ اب واجب الوجوداور قائم بالذات حقیقت کے خواص کی طرف توجہ کرتے اور خلقت میں تفکر سے استفادہ کرتے ہوئے صفات ثبوتیہ و سلبیہ میں سے کچھ کی وضاحت کی جاتی ہے۔ اور اختتام بحث میں صفات ثبوتیہ ذاتیہ کی ذات باری تعالیٰ کے ساتھ وحدت و عینیت کی وضاحت کی جائے گی۔

(صفات ثبوتیہ)

١۔ خالق کائنات ازلی و ابدی ہے

واجب الوجود (خالق کائنات) ازلی وابدی تھا اور رہے گا؛ کیونکہ وجوب وجود اور قائم بالذات کا لازمہ یہی ہے کیونکہ وہ موجود جس کی ابتداء و انتہا، اوّل و آخر ہو اس کا وجود غیر سے وابستہ ہوگا اور اس کی موجودیت ذاتی نہیں ہوگی اور واضح ہے کہ جو چیز اوّل و آخر رکھتی ہو وہ معلول، ممکن الوجود ہوتی ہے نہ واجب الوجود اور واجب الوجود کبھی ممکن الوجود نہیں ہو سکتا۔

٢۔ خالق کائنات عالم ہے

خالق کائنات کی صفات ثبوتیہ ذاتیہ میں سے ایک صفت علم ہے اور اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کا علم اس کی عین ذات اور لامحدود ہے لفظ عالم کا اللہ تعالیٰ کے لیے استعمال انسان کے لیے لفظ عالم کے استعمال کی طرح نہیں ہو گا کیونکہ انسان کا علم اس کا ذاتی اور لامحدود نہیں بلکہ محدود ہے لیکن علم باری تعالیٰ عین ذات اور لامحدود ہے اور جب ہم کہتے ہیں اللہ تعالیٰ عالم ہے یعنی جاہل نہیں وگرنہ علم کی حقیقت ہمارے لیے واضح نہیں۔

اللہ تعالیٰ کے عالم ہونے کی دلیل یہ ہے کہ وہ خالق جہان ہے اور خالق ہونے کا لازمہ احاطہ علمی ہی ہے اور واضح ہے کہ مخلوق کے لیے ضروری ہے کہ وہ خالق کے احاطہ میں ہو۔ بالفاظ دیگر، کائنات، موجودات کائنات علم باری تعالیٰ کی نشانی اور آئینہ ہیں، کیونکہ منظم، بامقصد، حکیمانہ مخلوق بدون تردید اپنے خالق کے علم کو واضح کرتی ہے۔

مثال: ایک کتاب کو مدّنظر رکھیں جو مُفید و مہم مطالب رکھتی ہو اور بے مثال انداز میں منظم ہواو ر اس کے مطالب میں ہم آہنگی ہو۔ واضح ہے کہ ایسی تصنیف مصنف کی آگاہی کو واضح کرتی ہے۔ اس بناء پر یہ کتاب وسیع کائنات زمین، سورج، چاند، کہکشان، انسان، عمومی جاندار اور تمام موجودات اور نظم و نظام اور نظام و خلقت موجودات میں حیران کرنے والے عجائبات علم باری تعالیٰ کی نشانی و علامت ہیں، اور اسی طرح تمام کائنات پر خالق کے احاطہ علمی کی علامت ہیں۔(١3)

٣۔ خالق کائنات قادر ہے

جس طرح موجودات کائنات ،نظم و نظام اور حیران کن خلقت علم باری تعالیٰ کی دلیل ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کی قدرت و توانائی کی بھی دلیل ہے کیونکہ واضح ہے کہ عاجز و ناتوان طاقت و قدرت کا مبداء و منشاء اور ذکر شدہ موجودات کو وجود عطا کرنے والا نہیں ہو سکتا۔ اور کائنات کا حدوث جو کتاب کی فصل اوّل میں ثابت ہو چکا ہے وہ موجودات کو وجود دینے والے اور ان کی حفاظت کرنے والے کی قدرت پر روشن گواہ ہے۔

محال ذاتی مقدور نہیں ہوتا

قدرت کی بحث میں جن باتوں کا تذکرہ مناسب ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت ممکن سے متعلق و مربوط ہے اور وہ چیز جو ذاتی طور پر محال ہو وہ خود قدرت کو قبول کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوتی ہے نہ کہ یہ کہا جائے کہ اللہ عاجز ہے کیونکہ عجز ایک ممکن چیز کہ جس سے قدرت عاجز ہو، معنی رکھتا ہے اورجب ایک چیز ہی ناممکن ہو تو وہ خود قدرت کو قبول ہی نہیں کرتی نہ کہ قادر کی قدرت میں عجز ہوتا ہے۔ مثلاً ایک ریاضی دان جس کی ریاضی کے میدان      میں قدرت و تسلط سب کے نزدیک قابل قبول ہو کیا یہ ریاضی دان دو اور دو مساوی چار کو پانچ میں تبدیل کو سکتا ہے؟ یا پانچ ضرب چار جو بیس کے مساوی ہے کو پچیس کے مساوی کر سکتا ہے؟ اور صحیح

نہیں کہ ہم کہیں یہ دانشور ایسا کرنے سے عاجز ہے کیونکہ عاجز ہے کا استعمال وہاں صحیح ہے جہاں مورد نظر چیز بنیادی طور پر ممکن ہووگرنہ یہ عبارت صحیح نہیں۔

مذکورہ بیان شدہ باتوں سے درج ذیل سوالات کا جواب واضح بلکہ ان سوالات کا بطلان روشن ہوجاتا ہے اور ان کے وجود میں آنے کے امکان کی نفی ذات باری تعالیٰ کی قدرت کی نفی اور اس کے عجز کو ثابت نہیں کرتی۔

(١)کیاا للہ تعالیٰ قادر ہے کہ وہ اپنے جیسی ذات کو پیدا کرے یا قادر نہیں؟

(٢)کیا اللہ تعالیٰ قدرت رکھتا ہے کہ زمین کو اسی حجم کے ساتھ انڈے میں داخل کرے؟

(٣)آیا ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسی چیز کو پیدا کرے جس کو خود حرکت نہ دے سکے؟

اور اسی طرح کے سوالات، جن کے بارے میں آپ جانتے ہیںکہ ان کا مقصدیہ ہے کہ اگر کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کر سکتا تو اشکال ہو سکے کہ آپ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے در حالانکہ خود کہتے ہو کہ وہ ایسا نہیں کر سکتا تو عجز اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت ہو جاتا ہے۔ اور اگر کبھی کہا جائے کہ اللہ ایسا کر سکتا ہے تو پہلی صورت میں اللہ کے لیے شریک لازم آتا ہے۔ اور تیسری صورت میں اللہ تعالیٰ کی طرف عاجز ہونے کی نسبت دی جائے گی۔ اور دوسری صورت میں آپ جس چیز کا محال واضح ہے اسی کے امکان آپ قائل ہوتے ہیں۔ لیکن ان سوالات اور ان جیسے سوالوں کا جواب گذشتہ بحث سے واضح ہے۔

کیونکہ واضح ہے کہ ایسے سوالات بے مورد اورباطل ہیںاور یہ موارد قدرت کو قبول کو کرنے کی قابلیت نہیں رکھتے اور ذاتی طور پر محال او رناممکن ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا اپنے جیسی ہستی کو پیدا کرنا یعنی قدیم، ازلی، واجب الوجود اور دوسری طرف ایسی ہستی کا مصنوع ہونا یعنی حادث، غیر ازلی، اور فرض قدیم، ازلی، واجب الوجود فرض حدوث کے ساتھ اجتماع نقییض کا فرض کرنا ہے۔ اور اسی طرح زمین اپنی وسعت کے ساتھ انڈے میں اس کے چھوٹے پن کے ساتھ داخل ہو جائے تو اس کا معنی یہ ہے کہ زمین ایک ہی وقت میں انڈے سے چھوٹی بھی ہو اور بڑی بھی ہو۔نیز تیسرے سوال کے بارے میں اس بات کا مطلب کہ اللہ تعالیٰ ایسی چیز کو پیدا کر سکتا ہے کہ جسے وہ حرکت نہ دے سکے، یہ ہے کہ وہی چیز مقدوراور متعلق قدرت بھی ہے اور مقدوراور متعلق قدرت نہیں بھی۔

٤۔ خالق کائنات حی وزندہ ہے

اللہ تعالیٰ کے علم و قدرت کو مدّنظر رکھتے ہوئے واضح طور پر اللہ تعالیٰ کے لیے صفت حیات بھی ثابت ہوتی ہے۔ کیونکہ وہ حقیقت جو عالم و قادر ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ زندہ ہو۔ اور علم و قدرت کاحیات کے ساتھ تلازم واضح ہے ۔

٥۔ خالق جہان عادل ہے

عدل ایک کام کو شائستہ طریقے سے انجام دینے کا نام ہے، اور خالق کائنات عادل ہے یعنی اس کی طرف سے جوکچھ بھی انجام پاتا ہے وہ شائستہ اور استوار و پائیدارہے۔ خلقت کائنات، مقرر شدہ قوانین و ضوابط اور دنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مختلف و سزائیں، عدل کی بنیاد پر استوار ہیں۔ خالق کائنات ظالم و ستمکار نہیں کیونکہ ظلم اور غلط کام کرنے کا منشاء و بنیاد جہالت، عجز یابت ہودہ کاری ہے۔اور واضح ہے کہ یہ صفات اللہ تعالیٰ سے منفی اور دُور ہیں اس بناء پر اللہ عادل ہے ظالم نہیں۔

سوال: اس بات کو مدّنظر رکھتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ عادل ہے اور ظالم نہیں یہ سب مصائب وآرام رنج و محن، زلزلے، طوفان، نقص خلقت، طبقاتی اونچ نیچ وغیرہ کی کس طرح توجیہ کی جا سکتی ہے؟

جواب: اس بات کو مدّنظر رکھتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ پر کسی کا کوئی حق نہیں اور وہی ہے جس کی رحمت و فضل کی بارش بندوں پر برستی ہے اور نیز اس بات کو مدّنظر رکھتے ہوئے کہ انسان مختار ہے اور اپنی زندگی کے دوران پسندیدہ یا نا پسند یدہ کاموں کا اختیار خود اسے ہے اور اس کے تمام اعمال اپنے متناسب آثار رکھتے ہیں ہم کہہ سکتے ہیں کہ انسانوں کے لیے پیش آنے والے مصائب درج ذیل مسائل میں سے کسی ایک کے ساتھ مربوط ہیںاور ان میں سے کوئی بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظلم و ستم کو مستلزم نہیں۔

الف: بعض مصائب گناہ اور غلط کاریوں کا نتیجہ ہیں اور در حقیقت غلط کاموں کا ردّعمل ہیں کہ جو اس نے آگاہ اور مختار ہونے کی وجہ سے انجام دیے ہیں، مثلاً جھوٹ، خیانت، ظلم، مختلف انسانی و اسلامی واجبات کا ترک مصیبت کی صورت میں انسان کی طرف پلٹتا ہے اور در حقیقت رنج و غم اُن کاموں کا رد عمل ہے جو اس نے جان بوجھ کر انجام دیے ہیں جیسے کوئی انسان جانتے ہوئے زہر کھائے یا ایسا کام کرے جس کے بارے میں جانتا ہو کہ اس کا نتیجہ رنج و مصیبت ہے۔ واضح ہے کہ اس صورت میں رنج و غم خود اس کے ساتھ مربوط ہو گااللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر کوئی ظلم نہیں ہوا۔

ب: بعض مصیبتیں گناہ کا نتیجہ نہیں ہوتیںبلکہ آزمائش و امتحان ہوتی ہیں جو کہ خلقت میں مہم ترین سنت الہٰی ہے اور انسانی صلاحیتوں کے ظہور و تکامل کا اہم ترین ذریعہ ہیںتا کہ آزمائشوں میں سے گزر کروہ اپنے اختیار سے کمال تک پہنچیںاور ان کا ایمان ان کی تمام خواہشات پر غالب آجائے اور تمام مشکلات کے باوجود اپنا راہِ تکامل طے کریں اور اپنے مطلوبہ کمال کو حاصل کرسکیں۔ نتیجتاً وہ مصائب جو آزمائش اور امتحان کے ساتھ مربوط ہیں ظلم نہیں بلکہ انسان کے رشد و تکامل کا ذریعہ ہیں۔

ج: بعض مصائب قوانین طبیعی اور قواعد خلقت کی رعایت نہ کرنے کا نتیجہ ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی سنت یہ نہیں کہ ایسے مواقع پر معجزاتی طور پر لوگوں کی غلط کاریوں اور اشتباہات کی تلافی کرے۔ واضح ہے کہ جان بوجھ کر قوانین خلقت کی رعایت نہ کرنے کے نتیجہ میں آنے والی مصیبت کے انجام دینے والا خود غلط کار شخص ہے لیکن بے توجھی و لا علمی کی صورت میں اگر قوانین خلقت کی رعایت نہ ہو تو اس سے متعلق آنے والی مصیبت ایک طرح کی آزمائش ہو گی اور بہرحال ظلم نہیں ہو گی اور بہت سے ایکسیڈنٹ، عضوی نقائص و بیماریاں اس بات سے متعلق ہیں۔ اور وہ لوگ جو دوسروں کی قوانین خلقت سے غفلت کے نتیجہ میں مصیبت میں مبتلا ہوتے ہیں، اُن کے لیے یہ آزمائش و امتحان ہے اور اگر وہ اپنی ذمہ داریوں پر عمل کریںتو آخرت میں بہت زیادہ ثواب کے مستحق ہوں گے۔

د: بعض مصیبتیں بعض لوگوں کی طرف سے سنت مہلت سے سوء ِاستفادہ کا نتیجہ ہوتی ہیں؛(١4)یہ خلقت اس طرح ہے کہ حکمت قانون مہلت کی متقاضی ہے اس بناء پرکچھ لوگ جو

مہلت سے سوئِ استفادہ کرتے ہیں وہ دوسرے افراد کے لیے مشکلات ایجاد کرتے ہیں۔ اور واضح ہے کہ ہر ایک کا حساب محفوظ ہے اور مصیبتوں کا یہ مورد بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظلم نہیں۔

٦۔ اللہ تعالیٰ غنی ہے

اللہ تعالیٰ کی صفات ثبوتیہ میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ غنی و بے نیاز ہے،کیونکہ یہ ثابت ہو جانے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ قائم بالذات ہے واضح ہے کہ سب کچھ اسی سے وابستہ ہے اور ہر چیز اسی کی محتاج ہے اور وہ سب سے بے نیاز ہے۔

٧۔ اللہ تعالیٰ مرید ہے

عالم و قادر موجود اگر اپنے علم و قدرت کی بنیاد پر کوئی کام کرے تو یہ خواست و چاہت ارادہ کہی جاتی ہے۔ اورانسان میں اس طرح چاہنا، اعمال قدرت کا استعمال اور فعل اس کام کے مفید ہونے کے تصورو اعتقاد اور اس کے بارے میں میل و رغبت اور عزم و تصمیم کے ساتھ مربوط ہے۔ لیکن ذات باری تعالیٰ کے ارادہ میں مذکورہ مقدمات جن کا لازمہ جہالت وعجز ہے، نہیں

آتے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قدرت کا استعمال و انجام فعل ہی اس کا ارادہ ہے.

صفات ثبوتیہ کے آخر میںیاد دہانی کرائی جاتی ہے کہ خداوند متعال کے لیے صفت علم و قدرت کے ثبوت کی طرف توجہ کرتے ہوئے، صفت سمیع جو کہ مسموعات کا علم اور بصیر جو مبصرات کا علم ہے اور صفت تکلم و خالق، رازق، مرید اور دیگر صفات جو علامت کمال ہیں اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت ہیں۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کی صفات ثبوتیہ ہیں لیکن یہ واضح کیا جاتا ہے کہ ان صفات ثبوتیہ میں سے بعض ایسی ہیںجن کو اللہ تعالیٰ سے سلب کیا جا سکتا ہے۔ جیسے ارادہ، خلق، رزق، ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس نے ارادہ نہیں کیا، اس نے رزق نہیں دیا، اس نے خلق نہیں کیا۔ جیسے کہ کہہ سکتے ہیں کہ اس نے ارادہ کیا، رزق دیا، خلق کیا۔ ان صفات کو صفات فعل کہتے ہیں۔ کیونکہ اس کتاب کی بنیاد اختصار پر ہے لہذا ان صفات کے بارے میں تفصیلی بحثوں سے پرہیز کرتے ہیں اور اسی یاددہانی پر کتفاء کرتے ہیں۔

(صفات سلبیہ)

ہر وہ صفت جو جہالت، عجز، نقص کی علامت ہو اور مستلزم احتیاج و فقر ہو، خداوند متعال سے منفی ہے اب ہم چند صفات سلبیہ کو اجمالی طور پر ذکر کرتے ہیں۔

١۔ اللہ تعالیٰ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک و شبیہ نہیں اور تجزیہ و تقسیم پذیر نہیں

اللہ تعالیٰ کی وحدت کے اثبات سے قبل یہ یاددہانی کرائی جاتی ہے کہ صفت وحدانیت کو صفات ثبوتیہ شمار کیا جا سکتا ہے کیونکہ ہم کہتے ہیں کہ اللہ واحد ہے اور اس صفت وحدت کو اس کی طرف نسبت دیتے ہیں۔اور نیز اسے صفات سلبی میں بھی شمار کیا جا سکتا ہے کیونکہ ہم کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی یکتائی سے مقصود یہ ہے کہ اس کا کوئی شریک و شبیہ نہیں اور نہ ہی وہ تقسیم و تجزیہ کے قابل ہے۔ وہ دلایل جو اللہ تعالیٰ کی یکتائی کو ثابت کرتے ہیں بہت زیادہ ہیں اُن میں سے بعض اس طرح ہیں۔                              

دلیل اوّل: فطرت

اگر اللہ تعالیٰ کی معرفت میں راہِ فطرت سے استفادہ کیا جائے اور کہا جائے کہ انسان کے دل اور فطرت اس کے وجود کے گواہ ہیں تو یہی فطری معرفت اور وجدان باطنی اس کی یکتائی و بے نظیری کے بھی گواہ ہیں کیونکہ جیسا کہ پہلے بتایا گیا ہے کہ فطری معرفت وہی دل کا ذات باری تعالیٰ کے ساتھ تعلق و ارتباط ہے اور واضح ہے کہ ایسی حالت تمام صفات و کمالات کے ساتھ پائی جاتی ہے۔

دلیل دوّم: برہان ترکیب

اگر اللہ تعالیٰ یکتا نہ ہوتا اور متعدد خدا ہوتے تو خدا مرکب ہوتا اور اگر مرکب ہو تومحتاج و نیاز مند در حالانکہ خالق کائنات قائم بالذات اور بے نیاز ہے۔

وضاحت: اگر دومبدأاور اِلہ فرض کیے جائیں تو ذات خدامیں ترکیب لازم آتی ہے،کیونکہ فرض تعدد کے ساتھ انہیں ایک دوسرے سے ممتاز و جدا ہونا چاہیے اور کوئی جہت امتیاز رکھتے ہوں اگر ایسا نہ ہو تو وہ دو اور متعدد نہیں ہوں گے اور چونکہ فرض یہ ہے کہ دو مبدائ، قائم بالذات اور خالق ہیں تو دونوں کے لیے ضروری ہے کہ جہت اشتراک بھی رکھتے ہوں، اس بناء پر ان دونوں میں سے ہر ایک جہت اشتراک اور جہت امتیاز سے مرکب ہو گااور واضح ہے کہ مرکب اجزاء سے ترکیب پاتا ہے اور اپنے اجزاء کا محتاج ہوتا ہے اس بناء پر دونوں مفروضہ خدا محتاج ہوں گے اور واضح ہے کہ مبداء کائنات جیسا کہ گذشتہ بحثوں میں واضح ہو چکا ہے کہ قائم بالذات و بے نیاز ہے۔ لہٰذا دوخداؤںکا فرض باطل اور محال ہے۔

دلیل سوم: برہان تمانع

اگر دوخدا فرض کیے جائیں (تو یہ مدّنظر رکھتے ہوئے کہ دونوں عالم، قادر، عزیز و عظیم و قائم بالذات و مرید ہیں) تو اگر خلقت اور مختلف کاموں میں دونوں کا ارادہ ایک دوسرے کے موافق ہو اور دونوں ایک کام کے انجام دینے یا ایک شیء کو ایجاد کرنے کا ارادہ کریں تو دو کامل ارادوں کی مراد واحد پر تاثیر لازم آتی ہے جو محال ہے، کیونکہ اگر دو ارادے کامل فرض کیے جائیں تو ہر ایک مستقل مراد رکھیں گے تو اس صورت میں جو چیز بھی واحد فرض ہوئی ہے۔وہ لازمی طور پر دو چیزیں ہوں گی مگر یہ کہ ارادہ کامل نہ ہو اور مراد کو ایجاد کرنے میں ہر ایک کی دخالت جزئی طور پر ہو تو وہ بھی دومستقل الہ اور مبداء کے فرض کے خلاف ہے۔اور اگر ان دونوں کاا رادہ ایک دوسرے کے خلاف ہو تو کوئی موجودوجود میں نہیں آئے گا،کیونکہ فرض یہ ہے کہ دونوں مقتدر، مرید، قادر ہیں اور کوئی بھی دوسرے پر برتری و ترجیح نہیں رکھتا تو نتیجہً کوئی موجود بھی وجود میں نہیں آئے گااگر ایک ارادہ کرے اور دوسرا ارادہ نہ کرے تو ارادہ نہ کرنے والے کا عاجز و ناتوان ہونا لازم آئے گا اور واضح ہے کہ وہ عاجزخالق کائنات نہیں ہو سکتا۔

اگر کہا جائے کہ ان دو میں سے جس ایک نے ارادہ نہیں کیا وہ دوسرے کے ساتھ موافقت کی وجہ سے تھااور فرض توافق کے بعد کوئی اشکال پیدا نہیں ہو گا تو ہم کہیں گے اگر توافق ایک دوسرے پر غلبہ کے لیے ہو تو جوغالب ہوگا وہی خداہے اور وہ دوسراخدا مرید و قادر نہیں ہو گا۔اوراگر ایک دوسرے کے درمیان توافق تواضع کی وجہ سے ہو تو وہ تواضع کرنے والی ذات خدا نہیں ہوگی کیونکہ یہ مقام مقام تواضع نہیں کیونکہ وہ حقیقت جو قائم بالذات، واجب الوجود اور غنی مطلق ہے وہ کسی قدرت کے سامنے تواضع نہیں کرتی اور ایسی تواضع عجز کی علامت ہے اور معبود ہونے کے ساتھ سازگار نہیں۔

اوراگر متعدد عالم اور جہان اس طرح فرض کئے جائیں کہ ان عالموں اور جہانوں کا باہم کوئی رابطہ نہ ہو اورہر عالم کامستقل خدا ہو تو پھر کوئی اشکال اس پر نہیں ہوسکتا ؟ تو ہم کہیں گے کہ متعددعالم واحد کے حکم میں ہیںکیونکہ کبریائی و الوھیت اوربلندی برُتری پوری کائنات میں دخالت کاتقاضا کرتی ہے اور وہی مفاسد جو ایک عالم اور متعدد الہ کے فرض میں بتائے گئے ہیں اس فرض میں بھی موجود ہیں۔

دلیل چہارم

اگر دو مبداء اور الہ فرض کیے جائیں اوردونوں تمام کمالات علم، قدرت، حیات اور جو کچھ کمال ہے اس میں ہم مثل ہوںاور ہر کمال جو ان دونوں میں سے ایک رکھتا ہے دوسرا بھی رکھتا ہو تو ان دو نوں کے تعدد، تشخص اور ان کی ایک دوسرے سے جدائی کا فرض غلط و باطل ہے (اسلئے کہ چونکہ ہر ایک معبود اور الہ ہے لہذا محدود نہیں ہے اور اگر محدود ہو تو معلول ہو گا) اور اگر ایک دوسرے کے کمالات کو نہ رکھتا ہو تو جو دوسرے کمالات کواپنے اندر نہیں رکھتا وہ ناقص، محدود، محتاج ہو گا اور ایسا موجود قائم بالذات نہیں ہو سکتا اور اگر کوئی بھی دوسرے کے کمالات کو نہ رکھتا ہو تو دونوں ناقص ہوںگے اور قائم بالذات نہیں ہوں گے۔ اس بناء پر دو الہ کا فرض، فرض باطل ہے اور مبداء کائنات یکتا و لاشریک و بے مثل ہے۔

دلیل پنجم

اللہ تعالیٰ کی یکتائی اور اس کے لیے شریک کی نفی پر دلایل میں سے ایک دلیل وہ ہے جو حضرت امیرلمؤمنین علی ں کے فرامین میں وارد ہوئی ہے۔

” وأعلم یا بنیّ أنّہ لو کان لِربّک شریکً لأتتک رُسُلُہُ و لَرأیتَ آثار ملکہ و سلطانہ و لَعرفت أفعالہ و صفاتہ و لٰکِنَّہ الہ واحدً ۔” (١5)

”ائے بیٹے! اگر تیرے پروردگار کا کوئی شریک ہوتا تو اس کی طرف سے بھی انبیاء آتے اور تو اس کے ملک و اقتدار کے آثار دیکھتا اور اس کے افعال و صفات کو پہچانتا لیکن اللہ تعالیٰ واحد ہے۔”

استدلال کی وضاحت :تما م انبیاء نے ایک اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے رسول ہونے کے حوالے سے اپنی پہچان کروائی ہے اگر خدا متعدد ہوتے تو واجب الوجود اور اس کی حکمت، الوہیت، اورصفات کمال کا تقاضا ہے کہ وہ اپنے وجود کا اظہار کرے اوروہ بھی انبیاء بھیجے جب کہ انبیاء خدائے واحد کی طرف سے مبعوث ہوئے ہیں، پس متعدد خدا موجود نہیں۔اگر کہا جائے کہ(ان دوخداؤں میں سے جس) ایک نے انبیاء بھیجے وہ دوسرے کے سامنے رکاوٹ بنا ہے اور اسے انبیاء نہیں بھیجنے دیے۔ تو ہم کہیں گے کہ واضح ہے کہ وہ الہ جس کو انبیاء بھیجنے سے روک دیا گیا ہے وہ عاجز و کمزور ہے اور یہ واضح ہے کہ ضعیف، کمزور، عاجز الہ اور مبداء کائنات نہیں ہوسکتا۔ اور اگریہ کہا جائے کہ دوسرا الہ کمزور نہیں اور چونکہ اس خدا کا مقصد بھی دوسرے خدا کی طرف سے انبیاء بھیجنے سے پورا ہو گیا ہے لہذا اس الہ کو انبیاء بھیجنے کی ضرورت نہیں،تو ہم کہیں گے

کہ اس کے علاوہ کہ اگر دو خدا ہوں تو انبیاء کی یہ بات نادرست ہو گی کہ خدا ایک ہے اور ہر خدا پر لازم ہے کہ وہ انبیاء کے جھوٹ کو واضح کرے، ایسا فرض بھی باطل ہے، کیونکہ اوّلاً یہ فرض الوہیت و اقتدار و صفات الہٰی کے مناسب نہیںاور ثانیاً: ایسا فرض انبیاء بھیجنے والے خدا کے جھوٹ اور خود انبیاء کے جھوٹے ہونے کو مستلزم ہے اور واضح ہے کہ اللہ اور انبیاء جھوٹے نہیں ہوتے اور ایسے خدا و انبیاء پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا اور کس طرح ایک خدانے دوسرے خداپر انبیاء بھیجنے میں سبقت کی یہ بات بھی دوسرے خدا کے ضعیف ہونے کی دلیل ہے جو الوہیت کے منافی ہے۔

سوال: مذکورہ طریقے سے اللہ کی وحدانیت کے اثبات کا استدلال دور پر مبنی ہے کیونکہ انبیاء کی نبوت و رسالت کا اثبات الوہیت کے اثبات پر مبتنی ہے اور اگر اثبات الوہیت رسالت انبیاء پر مبتنی ہو تو دور لازم آئے گا؟

جواب: ہم کہیں گے کہ انبیاء کی رسالت اصل الوہیت کے اثبات پر موقوف ہے نہ کہ خدا کی وحدانیت پر اس بناء پر اثبات رسالت کے بعد اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو اس ذریعے سے ثابت کیا جا سکتا ہے اور مستلزم دور بھی نہیں۔

دلیل ششم

موجودات کی ہم آہنگی،دقیق، مضبوط ارتباط اس قدر روشن و واضح بات ہے کہ زمین و سورج چاند، ستارے، انسانوں اور جانوروں کی زندگی اور کائنات میں تکامل پر حاکم قوانین سب ایک دوسرے سے مربوط و ہم آہنگ ہیں۔

بالفاظ دیگر واضح ہے کہ کائنات میں تدبیر و نظام حاکم ہے اور واضح ہے کہ ایسی وحدت اوریہ وحدت تدبیر حاکم واحد کی تدبیر کی علامت ہے کیونکہ اگر خدا دو ہوں توان کے ارادہ ، سوچ میں اختلاف ہوگا اورہر خدا کی خدائی کا تقاضا ہے کہ وہ تمام معاملات میں مداخلت کرے ، کیونکہ اگر دونوں خدا ارادہ ،سوچ میں موافق ہوں تو کیونکہ موافقت کمزوری کی نشانی ہوتی ہے اوریہ بات دوخداؤں کے فرض سے مناسبت نہیں رکھتی۔

٢۔ اللہ تعالیٰ مرکب نہیں

ترکیب ان صفات میں سے ہے جو اللہ تعالیٰ میں نہیں پائی جاتیںکیونکہ ترکیب اپنے تمام مفروضہ معنوں میں مرکب کی احتیاج کو مستلزم ہے اور اثبات پروردگار کی بحث میں ثابت ہو چکا ہے کہ مبداء کائنات کو بے نیاز ہونا چاہیے تو ان باتوں کو مدّنظر رکھتے ہوئے کہ جو خالق کائنات کے اثبات کی بحث میں بیان ہوئی ہیں اور جو کچھ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے اثبات میں بیان ہو چکا ہے، نتیجہ واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کوئی مثل و شریک نہیںنہ ہی خدا کو دیکھا جاسکتا ہے اورنہ ہی وہ کسی چیز میں حلول کرتا ہے اور نہ ہی کسی چیز کے ساتھ متحد ہوتا ہے اور جسم نہیں اور مکان نہیں رکھتا کیونکہ یہ تمام صفات نیاز مندی و فقر، احتیاج کو مستلزم ہیں اور ذات باری تعالیٰ محتاج و نیاز مند نہیں

(اقسام توحید)

صفات کی بحث کیاختتام پر مختلف جہات سے اللہ کی وحدانیت کو مختصر طور پر بیان کرتے ہیں۔

١۔ توحید ذاتی

اللہ تعالیٰ اپنی ذات میں یکتا ہے اور توحید ذاتی سے مراد یہ ہے کہ اس کی کوئی شبیہ و نظیر نہیں اور پروردگار عالم تجزیہ و تقسیم پذیر نہیں۔

٢۔ توحید صفاتی

اللہ تعالیٰ اپنی صفات میں بھی یکتا ہے اور توحید صفاتی سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات ثبوتیہ ذاتیہ جیسے علم، قدرت، حیات، مصداق کے لحاظ سے واحد اور عین ذات باری تعالیٰ ہیں اور ذات باری تعالیٰ سے خارج اور اس پر زائدنہیں اور صفت علم و قدرت اور حیاتِ مفہوم کے اعتبار سے متعدد لیکن مصداق کے لحاظ سے ایک ہیں(مفہوم میں مختلف اور مصداق میں واحد) اور نیز یہ صفات عین ذات باری تعالیٰ ہیں۔

متعدد دلایل توحید صفاتی کو ثبات کرتے ہیں لیکن چونکہ اس کتاب میں اختصار مدنظر ہے اور باتیں بھی متوسط سطح پر کی جا رہی ہیں، لہذا ان میں سے صرف ایک دلیل پر اکتفاء کرتے ہیں۔

اگر صفات ذات سے الگ ہوں تو وہ صفات قائم بالذات ہوں گی اور قدماء اور واجب الوجود کی کثرت و تعدد لازم آئے گاجس کا بطلان توحید کی بحث میں واضح ہو چکا ہے اور اگر صفات قائم بالذات نہ ہوں بلکہ علت کی محتاج ہوں تو وہ علت اگر ذات کی غیر اور خارج از ذات ہو تو ذات واجب اپنے غیر کی محتاج ہو گی کیونکہ واجب کا ان صفات کے ساتھ متصف ہونا علت خارجی کا محتاج ہو گا اور خُلف فرض لازم آئے گا (یعنی واجب غیر واجب ہو گا) اور اگر صفات قائم بالذات نہ ہوں اورصفات کی علت خارج از ذات حقیقت نہ ہو بلکہ خود ذات واجب ہو تو بھی یہ فرض باطل ہے کیونکہ اگر ذات نے ان صفات کو ایجاد کیا ہو در حالانکہ وہ خود ان صفات سے خالی ہو تویہ فرض دو وجہتوںسے باطل و محال ہے۔

جہت اوّل :وہ ذات جومثلاً قادر نہیں ہے کس طرح صفت قدرت ایجاد کر سکتی ہے۔

جہت دوّم:ذات ایجاد قدرت سے پہلے عاجز تھی لہٰذا خُلف فرض لازم آتا ہے، کیونکہ فرض یہ ہے کہ مبداء متعال قادر تھا؛ اور اگر ذات صفات ثبوتیہ ذاتیہ کو ایجاد کرے در حالانکہ وہ خود یہ صفات رکھتی ہو تو تحصیل حاصل لازم آتی ہے۔اس بناء پر واضح ہے کہ صفات واجب عین ذات باری تعالیٰ ہیں اور ذات سے خارج اور اس پر زائد نہیں ہیں۔

٣۔ توحید افعالی

اللہ تعالیٰ اپنے فعل میں مستقل ہے اور غیر کا محتاج نہیں اور ہر ایک ذات باری تعالیٰ کا محتاج ہے۔

٤۔ توحید عبادی

اللہ تعالیٰ ہی لائق عبادت ہے اور اس کے علاوہ کسی کی عبادت جائز نہیں وہی تنہا معبود ہے نہ کہ کوئی اور کیونکہ عبادت انتہائی خضوع و خشوع کانام ہے اور انتہائی خضوع و خشوع صرف مالک و قائم بالذات ھستی کیلئے روا ہے اور چاہیے کہ صرف ہے اسی ذات کے سامنے جھکا جائے

__________________

حوالاجات

(١) یہ کتاب کیمونسٹ تنظیم کے مکتوبات و نشریات میںہے.

(٢)ڈیالیکٹک میٹیزیزم ، ص ٤٣

(3) ڈیالیکٹک میٹیریلزم،ص٥٩.

(4) سابقہ حوالہ……….ص٥٩

(5) ڈیالیکٹک میٹیریلزم.ص٦٩

(6)ڈیالیکٹک میٹیریلزم.ص٦١

(7)۔کتاب التوحید، شیخ صدوق(رہ) باب ٤٢، اثبات حدوث العالم ح ٦، ص ٢٩٦

(8)التوحید، باب ١٩، القدرة، حدیث ٤، ص ١٢٥                   

(9)جوکچھ کہا گیا وہ اجمالی طور پر سلطان المحققین مرحوم خواجہ نصیر الدین طوسی کی اس عبارت میں آیا ہے:   ”الموجود ان کان واجباً فھو المطوب والاّاستلزمہ لاستحالة الدور والتسلسل”.             تجریدالاعتقاد ،الفصل الاول فی وجودہ ص١٨٩

(١0)ہاں بعض دانشوروں کے بقول اس سے پہلے کہ دماغ خداوند متعال کے اثبات کیلئے استدلال کرے،دل اپنی گواہی دے دیتا ہے.

(١1)اگرچہ قرآن کریم میں استدلال کی روش بھی ہے لیکن خداوندمتعال کے حوالے سے مطالب ہموار ہو سکے اور یوں لگتا ہے کہ کہ شناخت و معرفت الہٰی کی بحچ میں احادیث شریفہ نے اسی فطری شناخت کی یاددہانی کرائی ہے.

حضرت امام صادق   ـ فرماتے ہیں:”ومن زعم انّہ یعبد(المعنی)بالصفة لا بالادراک فقد احال علی غائب؛”جو شخص ادراک کی بجائے صفت کے ذریعے معنی کی پرستش کرے اس نے غائب کا حوالہ دیا ہے(جیسا کہ اگر ایک غایب کو پہنچاننا چاہیں تو صفات کے ذریعے پہچانتے ہیں نہ کہ ادراک کے ذریعے اس لیے کہ وہ غائب ہے اور پوشیدہ اور ناقابل ادراک)نیز آپ نے فرمایا ہے:”ان معرفة عین الشاھد قبل صفة و معرفة الغائب قبل عینہ”موجود اور حاضر چیز کی شناخت اس کی صفات کی شناخت نے پہلے ہے،لیکن غائب چیز کی صفات کی شناخت خود اس چیز کی شناخت سے پہلے ہے.مثلا ایک انسان جو حاضر ہے پہلے اسے اسکی تمام خصوصیات کے ساتھ دیکھتے ہیں پھر اس کی صفات (علم و کمال وغیرہ)کا پتا چلاتے ہیں لیکن جو شخص غائب ہے پہلی اس کی صفات سنتے ہیں کہ مثلاً اس کا قد کتنا ہے اس کے بال کیسے ہیں پھر خود اسے دیکھتے ہیں.

تحف العقول ماروی عن جعفر بن محمد الصادق   ـ.کلامہ فی وصف المحبّة لاھل البیت ٪ والتوحیدو….،ص٢٤١و٢٤٢.)

(12).شناخت فطری کا ذریعہ(قلبی شناخت)

=.خلقت و کائنات میں تفکر و تدبر کا ذریعہ(برہان حدوث و نظم)

=.عقلی مفاہیم کا ذریعہ(برھان وجوب و امکان

(١3)مرحوم سلطان المحققین خواجہ نصیر الدین طوسی نے خداوند متعال کے علم کے اثبات کے سلسلے میں فرمایا ہے:”والاحکام و التجر دو استناد کل شیئٍ الیہ دلائل العلم”خدا سے محکم افکار کا صادر ہونا اور خدا کا مجرد ہونا اور ہر چیز کا خدا کی طرف منسوب ہونا یہ سب اس کے علم کی دلیلیں ہیں .

تجرید الاعتقاد،المقصد الثالث فی اثبات الصانع،الفصل الثانی فی صفاتہ:ص١٩٢.

(١4)سنتِ مہلت،خدا کی طرف سے فوری اور جلدی جزا و سزانہ دینے کے معنی میں ہے اس طرح سے انسان آزمائش اور امتحان کے مرحلے سے گزرتے ہیں اور ان کے وہ اچھے اور برے اعمال جن پر ثواب و عقاب مترتب ہوتا ہے،وقوع پذیر ہوتے ہیں.

(١5)۔نہج البلاغہ (فیض الاسلام) امیر المؤمنین ـ کی امام حسن ـکے نام وصیت، کتاب وصایای حضرت نمبر شمار ٣١، ٥ ٩١٨

You may also like...